ڈاکٹر قمر تبریز
ملک کے عوام نے حالیہ دنوں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے نظارے دیکھے۔ ہر سیاسی پارٹی نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ خود شہریوں نے بھی اپنے ووٹوں کا بھرپور استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی ہر جگہ صاف ستھرے طریقے سے انتخابات کرانے کی پوری کوشش کی گئی، جس کا مثبت اثر بھی دکھائی دیا، یہ الگ بات ہے کہ مرکز میں برسر اقتدار کانگریس پارٹی کے لیڈروں کے تئیں، مجبوری میں کوئی سخت قدم نہ اٹھا پانے کی وجہ سے الیکشن کمیشن تنازعات کا بھی شکار بنا، لیکن ان انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے امیدواروں کے اوپر کمیشن کا خوف صاف دکھائی دیا۔شاید اسی وجہ سے مجموعی طور پر ووٹنگ ڈالنے کا سلسلہ پرامن طریقے سے انجام کو پہنچ گیا۔ اب وقت ہے انتخابی نتائج کے منظر عام پر آنے۔ ہر کوئی دل تھام کر بیٹھا ہوا ہے، چاہے وہ مختلف پارٹیوں کے سیاسی امیدوار ہوں یا پھر ان ریاستوں کے عوام جنہوں نے اپنا قیمتی ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں بند کیا ہے۔ دوسری طرف ملک کے دیگر شہریوں کو بھی بے صبری سے ان انتخابی نتائج کا انتظار ہے، جو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آخر اتراکھنڈ، پنجاب، منی پور، اتر پردیش اور گوا کے عوام نے کسے پسند کیا ہے اور کن سیاسی پارٹیوں کو وہ اگلے پانچ سالوں کے لیے اپنا حاکم بنانا چاہتے ہیں۔
اب اگر ہم پچھلے ایک ماہ تک چلنے والی انتخابی گہما گہمی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اتر پردیش کو چھوڑ کر باقی چار ریاستوں میں سیاسی پارٹیوں کو زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑی، کیوں کہ ان چار ریاستوں میں سیاسی پارٹیوں کی تعداد تو کم ہے ہی، ساتھ ہی ان علاقوں کی آبادی بھی کم ہے۔ اس لیے وہاں پر انتخابی مقابلے زیادہ تر دو تین پارٹیوں کے ارد گرد ہی گھومتے دکھائی دیے، مثلاً پنجاب، اتراکھنڈ اور گوا میں سیدھا مقابلہ عام طور پر کانگریس اوربی جے پی کے درمیان ہی رہا، یا اگر اس میں منی پور کو بھی شامل کر لیں، تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرکز کی طرز پر یہ انتخابی مقابلہ یو پی اے (متحدہ ترقی پسند محاذ) اور این ڈی اے (قومی جمہوری محاذ) کے درمیان رہا۔
مذکورہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی شروعات منی پور سے ہوئی، جہاں 60 سیٹوں کے لیے گزشتہ 28 جنوری کو ووٹ ڈالے گئے۔ یہاں پر اس وقت کانگریس کی حکومت ہے، لیکن مختلف وجوہات کی بناپر کانگریس کو یہاں کے عوام سے زبردست ناراضگی کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ ناراضگی علاحدگی پرسندوں کی طرف سے ریاست کی اقتصادی ناکہ بندی کو ختم کرا پانے میں مرکز اور ریاست کے اقتدار پر فائز کانگریس حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کے الیکشن نے یہاں کے انتخابی اسٹیج پر، اصولوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کی سب سے حریف سیاسی پارٹیوں یعنی سی پی ایم اور بی جے پی کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا۔ ترقی پسند جمہوری محاذ کے تحت جمع ہونے والی علاقائی اور قومی پارٹیوں نے اِس بار کانگریس کی مشکلیں کافی بڑھا دی ہیں۔ بقیہ چار ریاستوں کے مقابلے منی پور میں سب سے زیادہ یعنی 82 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست کے عوام اب علاحدگی پسند گروہوں کے جھانسے میں نہیں آ رہے ہیں، بلکہ وہ منی پور کے تمام مسائل کا حل جمہوری طریقے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا پولنگ میں حصہ لینا، آئندہ بننے والی حکومت کی ذمہ داری کو بھی بڑھاتا ہے کہ وہ سنجیدگی سے یہاں کے عوام کے مسائل کو حل کرے اور نوجوانوں کو بندوق پکڑنے پر مجبور کرنے کے بجائے ان کی تعلیم و روزگار کا بندوبست کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے کا بھرپور موقع عطا کرے۔
اتراکھنڈ میں 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے گزشتہ 30 جنوری کو ووٹ ڈالے گئے۔یہاں پر اُس دن ریکارڈ توڑ ووٹنگ ہوئی، یعنی ریاست کے کل 58 لاکھ 87 ہزار 765 ووٹروں میں سے 70 فیصد رائے دہندگان نے اپنے ووٹنگ رائٹ کا استعمال کیا، جو کہ ہماری جمہوریت کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ جمہوریت کے اس جشن میں عوام کی اتنی بڑی حصہ داری نے اتراکھنڈ کی دونوں بڑی پارٹیوں، یعنی کانگریس اور بی جے پی دونوں کو ہی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، کیوں کہ ان دونوں کے لیے پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہنا بڑا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کسے اکثریت حاصل ہوگی اور کسے نہیں۔ الیکشن سے پہلے یہاں کے رودرپور علاقہ میں فرقہ وارانہ فساد کراکر چند شرپسندوں نے ریاست کے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی تھی، لیکن انتخابات کے دوران ان شرپسندوں کو زیادہ کچھ فائدہ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ یہاں پرامن طریقے سے ووٹنگ ہوئی جس سے ریاست کے عوام نے چین کی سانس لی۔ البتہ انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں پولنگ میں حصہ لے کر سیاسی بازیگروں کو یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اب ہندوستان کی فضا شر پسند عناصر یا پھر معاشرے میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے والے لوگوں کے لیے سازگار نہیں رہی۔ دیگر ریاستوں کی طرح ہی یہاں کے عوام کی بھی ایک ہی منشا ہے کہ اُتراکھنڈ ترقی کرے، یہاں کے جنگلات اور پہاڑوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، کسانوں کے لیے بجلی اور پانی کا انتظام ہو اور امن و قانون کی بالادستی رہے تاکہ سب کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے اور ترقی کی آگے کی راہیں طے کرنے کے مواقع حاصل ہو سکیں۔
گزشتہ 30 جنوری کو پنجاب میں بھی 117 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ یہاں پر بھی ریکارڈ توڑ 77 فیصد پولنگ ہوئی، جس نے کانگریس اور اکالی دل دونوں کی جیت سے متعلق قیاس آرائیوں پر تھوڑی دیر کے لیے روک لگا دی ہے۔ پنجاب کے بارے میں ایک روایت مشہور ہے کہ یہاں کے لوگ کسی بھی پارٹی کو دوسری پاری کھیلنے کا موقع نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ایک دفعہ اکالی دل تو دوسری دفعہ کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اکالی دل چونکہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اتحاد کا ایک حصہ ہے، اس لیے پچھلی بار یہاں کی حکومت میں بی جے پی کو بھی شامل ہونے کا موقع ملا۔ البتہ اِس بار اکالی دل حکومت کسانوں اور دلتوں کو آگے بڑھانے کے اپنے پرانے وعدے کو پوری طرح عملی جامہ پہنانے میں ناکام ہونے کی وجہ سے پنجاب کے عوام کی ناراضگی جھیل رہی ہے۔ پورے ملک کو معلوم ہے کہ غذائی اجناس کی پیداوار میں پنجاب کا سب سے بڑا رول ہے، اسی لیے مرکز سے لے کر ریاستی حکومت تک کو کسانوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کا ایک بڑا طبقہ غیر ممالک میں آباد ہے، یہ لوگ وہاں نوکریاں کرتے ہیں اور پھر ریٹائر ہونے کے بعد اپنے صوبہ میں لوٹ کر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، لیکن مرکز کی موجودہ کانگریس حکومت اور ریاست کی اکالی دل حکومت نے ان کے لیے ابھی تک ایسا کوئی ٹھوس انتظام نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے پیسوں کو ریاست اور ملک کی ترقی میں لگا سکیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی فوج میں بھی یہاں کا ایک بڑا طبقہ نوکری کرتا ہے، اور اس وقت پنجاب میں ریٹائرڈ فوجی اہل کاروں کی تعداد آٹھ لاکھ ہے، یہ لوگ اکالی دل حکومت سے کافی ناراض ہیں۔ ظاہر ہے جو بھی پارٹی ان کی سہولتوں کا خیال رکھے گی، وہ ان کا دل جیتنے میں کامیاب ہوگی۔ اب یہ تو آئندہ 6 مارچ کو ہی پتہ چلے گا کہ پنجاب کے عوام نے اِس بار کانگریس کو حکومت بنانے کا موقع دیا ہے، یا پھر اکالی دل پرانی روایت کو توڑنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔
اسمبلی سیٹوں کی تعداد کے حساب سے، انتخابات کے دور سے گزر رہی ریاستوں میں سب سے چھوٹی ریاست گوا میں، کل 40 سیٹوں کے لیے آخری مرحلے میں یعنی 3 مارچ کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ یہاں پر رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے۔ ریاستی اقتصادیات کا زیادہ تر دارومدار سیاحت پر ہے، کیوں کہ گوا اپنے خوبصورت سمندری ساحلوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے دوسرے ممالک کے سیاح ادھر کا رخ کرنے سے اس لیے ڈرتے ہیں، کیوں کہ جرمنی اور انگلینڈ کی دو لڑکیوں کی یہاں عصمت دری کے واقعات نے ریاست میں قانون و انتظامیہ کی صورت حال پر سوال کھڑے کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ اس قسم کے بعض معاملوں میں ریاستی وزیر کے رشتہ داروں کے نام آنے سے بھی وہاں کی حکومت سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ البتہ اِس بار کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس اور این سی پی کی موجودہ اتحادی حکومت کے خلاف حزب اختلاف بی جے پی نے جس موضوع کو انتخابی مدعا بنایا ہے، وہ ہے کہ ریاست میں غیر قانونی طور پر کی جانے والی کان کنی کا معاملہ۔ اب بی جے پی گوا میں اپنی اس حکمت عملی میں کتنی کامیاب ہو پاتی ہے، یہ تو انتخابی نتائج کے آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا، لیکن اتنا تو طے ہے کہ کانگریس کے لیے یہاں پر دوبارہ حکومت بنا پانا اتنا آسان دکھائی نہیں دیتا، جتنا کہ کانگریس سمجھ رہی ہے۔
اب بات کرتے ہیں اتر پردیش کی، جہاں پر اسمبلی انتخابات کے دوران سب سے زیادہ گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پر سیاست کے سب سے زیادہ گھناؤنے کھیل دیکھنے کو ملے۔ مذہب اور ذات پات کی گندی سیاست نے عوام کے سارے مسائل انتخابی آندھی میں گم کر دیے۔ ایک طرف جہاں موجودہ بی ایس پی حکومت کی سربراہ مایاوتی اپنے پچھلے پانچ سال کے ریکارڈ کو چڑھا بڑھا کر عوام کے سامنے پیش کرنے میں لگی رہیں، وہیں دوسری جانب سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے مسلمانوں کو خوب بیوقوف بنایا۔ دونوں پارٹیوں نے مسلم ریزرویشن کا مدعا اتنا گرما دیا کہ کچھ وقت کے لیے ایسا لگنے لگا، گویا اس انتخاب میں ووٹ ڈالنے والے صرف مسلمان ہیں۔ بی جے پی نے بھی جہاں ایک طرف بڑی ذات کے ہندوؤں کا ووٹ کانگریس سے چھیننے کے لیے جی توڑ محنت کی، وہیں دوسری طرف اس نے بھی مسلمانوں کے درمیان اپنی شبیہ کو درست کرنے کے لیے نریندر مودی کو یو پی میں بلانے کی ضد نہ کرنے اور ریاست میں حکومت بننے پر اردو کی ترقی جیسے وعدے کرکے ان کا ووٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش کی۔
ان سب کے درمیان یو پی کے مسلم ووٹروں نے پورے انتخابی عمل کے دوران جس قسم کی خاموشی اختیار کی، اور جس طرح پولنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس سے یہ اشارہ صاف طور پر ملا ہے کہ اس ملک کا مسلمان اب بیدار ہو رہا ہے۔ مسلم امیدواروں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم امیدواروں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر مسلمانوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک کی ترقی کا راز تمام مذاہب کے لوگوں کی باہمی ہم آہنگی اور اتحاد پر ہے۔ شر پسند عناصر نے لکھنؤ میں شیعہ اور سنی کے نام پر مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرکے اپنا سیاسی مفاد پورا کرنے کی تھوڑی دیر کے لیے کوشش کی، لیکن اگلے ہی پل وہاں کے مسلمانوں نے اتحاد کا مظاہرہ کرکے ان شر پسندوں کی سازش پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے مسلمانوں کو دیوبندی اور بریلوی کے نام پر بھی بانٹنے کی کوشش کی گئی، لیکن مسلمانوں نے اپنے اتحاد سے انہیں بھی زبردست جھٹکا دیا۔ مسلمانوں نے یو پی کے الیکشن میں اپنی زبردست سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ ہر پارٹی ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کس قدر بے چین ہے۔ مسلمانوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب سیاسی پارٹیوں کو یہ طے کرنا ہے کہ کیا آئندہ بھی انہیں مسلمانوں کا یہ قیمتی ووٹ چاہیے، اور اگر چاہیے تو پھر ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم و روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرائیں، ان کے اوپر زبردستی لگائے گئے دہشت گردی کے بدنما داغ کو مٹانے کا کام کریں، ہندوستان کے دیگر شہریوں کی طرح ان پر بھی مکمل اعتماد کرتے ہوئے انہیں ملک و قوم کی پوری خدمت کرنے کا موقع دیں، ان کے اندر عزت و فخر کے ساتھ ملک میں زندگی بسر کرنے کا احساس پیدا کریں۔ اگر سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کی ان تمناؤں کو پورا نہیں ہونے دیا، تو پھر انہیں بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگلے لوک سبھا الیکشن میں اب زیادہ وقت نہیں بچا ہے، اس کے علاوہ ہمارا جمہوری نظام ملک کے شہریوں کو اپنا فیصلہ سنانے کا موقع ہر پانچ سال بعد ضرور دیتا ہے، اس لیے سیاسی لیڈروں کا فریب زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ملک کے عوام کو زیادہ دنوں تک اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ ان انتخابات میں نوجوان ووٹرس بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے ہیں، جنہیں اب ذات پات یا مندر و مسجد کی لڑائی سے زیادہ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ان کی صرف ایک ہی خواہش ہے کہ کیسے ہمارا ملک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں جلد از جلد شامل ہو جائے۔ یہ سب تبھی ممکن ہوگا، جب ملک کی ترقی میں یہاں کے تمام شہریوں کو برابر حصہ لینے کا موقع دیا جائے، ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہو، سرکاری خدمات وقت پر سب کو مہیا ہوں۔ کیا ان پانچوں ریاستوں کی اگلی سرکاریں اس کے لیے تیار ہیں؟
ان پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کانگریس پارٹی کو بھی ایک واضح اشارہ دے رہے ہیں۔ ملک کی پانچ اہم ریاستوں کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کے عوام بھی مرکزی حکومت کے اقتدار پر فائض کانگریس پارٹی کو یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ملک کے سب سے زیادہ ماہر اقتصادیات کانگریس پارٹی کے اندر ہیں، ان میں سے کئی ایک تو وزیر کے عہدے پر بھی فائز ہیں، اس کے باوجود یہ لوگ ملک سے مہنگائی کو کیوں نہیں ختم کر پا رہے ہیں، کیوں آئے دن رسوئی گیس، ڈیزل اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کانگریس کی قیادت والی مرکز کی یو پی اے حکومت کچھ ہی دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ اس اقتصادی بجٹ کو پیش کرنے سے پہلے کانگریس کے ساتھ ساتھ یو پی اے میں شامل تمام حلیف پارٹیوں کو بھی ملک کے عام لوگوں کی زندگی اور ان کے مفاد کو دیکھتے ہوئے اس بجٹ پر ایک بار پھر غور کرنا چاہیے، یہ دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے اس بجٹ میں ایسی کوئی چیز تو شامل نہیں کر دی ہے جس سے اس ملک کے کروڑوں غریبوں اور مزدوروں کی زندگی اور دوبھر ہوتی ہو، ان کی مشکلیں اور بڑھنے والی ہوں۔ اگر کانگریس اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی دیگر حلیف پارٹیوں نے اس پر غور نہیں کیا، تو 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں انہیں ایک بار پھر عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا ہوگا، ان کے لیے اقتدار میں بنے رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ملک کے شہریوں کے اس اشارے کو سمجھنا چاہیے اور انہیں ایسی پالیسی وضع کرنی چاہیے، جس میں سب کا مفاد پوشیدہ ہو، نہ کہ امیر اور امیر ہوتا چلا جائے اور غریب بیچارہ دانے دانے کو ترسنے کے بعد خودکشی پر مجبور ہو جائے، یا پھر ملک کا نوجوان طبقہ اپنے ہاتھوں میں قلم پکڑنے کی بجائے بندوق اٹھانا شروع کردے۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here