پناہ گزینوں کی آماجگاہ ہندوستان

Share Article

اے یو آصف

ہندوستان کا مہاجرت سے گہرا رشتہ ہے۔ تقسیم وطن کے وقت اسے خود ایک سے دوسرے ملک کے شہریوں کی ہجرت کے بڑے بھیانک مسئلہ سے نمٹنا پڑا، جس کے اثرات ہندوستان کی معیشت، سیاست اور معاشرت پر آج بھی دیکھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان سے پاکستان گئی، تو پاکستان سے ہندوستان بہت سارے ہندو اور سکھ آئے۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کے سبب ہندوستان میں متعدد روایتی صنعتیں متاثر ہوئیں اور بند بھی ہوئیں۔ چونکہ ہندوستان نے خود اپنے لوگوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک مہاجرت کو بھگتا ہے، اس لیے وہ اس درد سے خوب واقف ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تبت، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش اور میانمار کے افراد اپنے وطن میں زمین تنگ ہونے پر ہندوستان آئے، تو اس نے انسانی جذبہ سے سرشار ہو کر انہیں پناہ دی۔ تبتی رفیوجیوں کو تو سرکاری مدد تک ملی اور ابھی حال میں بنگلہ دیشی رفیوجیز کے لیے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے رلیکسڈ ویزا فراہم کرنے کی بات کی اور ریاست آسام کی حکومت نے انہیں شہریت دینے کا فیصلہ کیا، جس سے وہاں 85 لاکھ بنگلہ دیشی رفیوجیز امن و سکون کی سانس لیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ سرکاری نظر کرم سری لنکائی تمل، افغانی اور میانمار کے روہنگیائی مہاجرین کے لیے آخر کیوں نہیں ہے؟ لہٰذا، اس سلسلے میں ضرور ت ہے یکساں رفیوجی پالیسی کی، تاکہ سبھی مہاجرین کی برابری کے ساتھ انسانی جذبہ کا بلا تفریق اظہار ہو سکے۔

Mastہندوستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے، جسے وراثت میں تقسیم وطن کے وقت مہاجرت، یعنی نوزائیدہ دو نئے ملکوں کے درمیان دو بڑی آبادیوں کے اِدھر اُدھر منتقل ہونے کا سابقہ پڑا۔ بعد ازاں تبت، بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور میانمار جیسے ممالک سے آئے پناہ گزینوں اور مہاجروں کو بھی اس نے پناہ دی اور ہر ممکن سہولیات اور مراعات فراہم کیں۔ فی الوقت ہندوستان میں ان ممالک کے تقریباً دو لاکھ مہاجرین ، جنہیں انگریزی میں رفیوجی کہا جاتا ہے، موجود ہیں، مگر کسی باضابطہ یکساں رفیوجی پالیسی کا فقدان ہے۔
سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان نے رفیوجیز اور پناہ گزینوں کے حقوق کی نگرانی کرنے والے رفیوجی کنونشن 1951 پر دستخط کسی عذر کی بناپر نہیں کیا ہے، مگر اس نے ان اجڑے ہوئے افراد کے علاوہ ماضی میں بڑی تعداد میں بھوٹانی و دیگر رفیوجیز کے تئیں جس انسانی جذبے کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پوری دنیا کا دل جیت لیا ہے۔ تبھی تو گزشتہ برس ہندوستان تشریف لائے یونائٹیڈ نیشنز ہائی کمشنر فار رفیوجیز اور سابق وزیر اعظم پرتگال انٹونیو گوٹریز نے اعلانیہ طور پر کہا تھا کہ ’’ہندوستان کی رفیوجی پالیسی تقلید کے لیے پوری دنیا کے سامنے بہترین مثال ہے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہندوستان اپنی تاریخ، کلچر اور روایات کے ساتھ آج صلہ رحمی اور ہمدردی کی بہترین مثال بنا ہوا ہے کہ اس نے تحفظ اور پناہ گاہوں کی تلاش میں آئے تمام مجبور و محض افراد کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی ہیں، جن میں تبتی، افغانی اور میانماری شہری شامل ہیں۔ یو این ایچ سی آر دنیا میں ہندوستان کو ایک ایسا معتبر پارٹنر گردانتا ہے، جو کہ اس بات کی گارنٹی دیتا ہے کہ یہاں آنے والے تمام اجڑے ہوئے ضرورت مند افراد کو پناہ ملے گی اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں، جب کہ دنیا میں بہت سی سرحدیں اس کارخیر کے لیے بند ہیں اور بہت سارے لوگوں کو تحفظ اور پناہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔‘‘
ویسے قابل ذکر ہے کہ ہندوستان یو این ایچ سی آر کی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن ہے، جو کہ مذکورہ ایجنسی کے پروگراموں اور بجٹ پر نظر ثانی کرتی ہے اور اسے منظوری دیتی ہے اور بین الاقوامی تحفظ کے لیے ہدایت دیتی ہے۔ حالانکہ رفیوجی قانون سے متعلق اس کے پاس کوئی قومی لائحہ عمل نہیں ہے، 2006 میں سپریم کورٹ نے حکم سنایا تھا کہ آئین ہند میں درج جینے اور انفرادی آزادی (Personal Liberty) کے حقوق کی روشنی میں رفیوجیوں کو زبردستی واپسی سے تحفظ ملتا ہے۔ واضح رہے کہ سری لنکا اور تبت سے آئے رفیوجیوں کو ہندوستان سرکاری طور پر براہِ راست مدد دیتا ہے، جب کہ دیگر ممالک سے آئے پناہ گزینوں کے معاملوں کو یو این ایچ سی آر دیکھتا ہے۔ عموماً متعدد رفیوجی گروپس یہاں شروع میں ’پہلی پناہ گاہ‘ کے طور پر داخل ہوتے ہیں، لیکن پھر بعد میں امریکہ، کناڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں پھر سے بسنے یا ری سیٹلمنٹ کے لیے اپلائی کرتے ہیں، جو کہ انہیں Naturalized شہریوں کے طور پر آنے کی اجازت دے دیتا ہے اور اپنے شہریوں کی طرح انہیں بھی سول، سیاسی، معیشتی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق فراہم کرتا ہے۔
تقسیمِ وطن کے مہاجرین
آئیے، اب جائزہ لیتے ہیں کہ ہندوستان کیسے اور کس طرح مہاجرت کے اہم ایشو سے نمٹتا رہا ہے۔ تقسیم وطن کے وقت تقریباً 14.5 ملین افراد نے ہندوستان اور پاکستان میں ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کی۔ اجڑے ہوئے افراد کی 1951 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق، 7.226 ملین مسلمان ہندوستان سے پاکستان گئے، جب کہ 7.249 ملین ہندو اور سکھ پاکستان سے ہندوستان آئے۔
ظاہر سی بات ہے کہ دونوں طرف کے مہاجرین اپنے اپنے گھر کو چھوڑ کر آئے اور گئے تھے۔ ان مہاجرین میں پاکستان سے ہندوستان منتقل ہونے والوں میں وہاں کے پنجاب سے سابق وزرائے اعظم ہند آنجہانی اندرکمار گجرال اور ڈاکٹر منموہن سنگھ سے لے کر سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی اور کے آر ملکانی اور سیالکوٹ سے کلدیپ نیر جیسی اہم شخصیات ہیں۔ اسی طرح پاکستان گئی ممتاز ہستیوں میں سابق وزیر اعظم صاحبزادہ لیاقت علی خاں، سابق صدور محمد ضیاء الحق اور پرویز مشرف، ایم کیو ایم لیڈر الطاف حسین، معروف خدمت خلق رہنما عبدالستار ایدھی، ممتاز علمائے دین مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد اور مولانا مسعود عالم ندوی اور مشہور شعراء و مصنفین ماہرالقادری، حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی، جان ایلیا، منیر ریاضی، ابن صفی، صوفی غلام مصطفی تبسم جنہوں نے فیض احمد فیض، ن م راشد، اور احمد ندیم قاسمی جیسے تین بڑے شعراء کی تعلیم و تربیت کی، پروین شاکر، عبداللہ ہلال صدیقی اور نذیر صدیقی شامل ہیں۔
ان دونوں ملکوں میں ایک سے دوسرے مقام میں آمد و رفت میں ایک بڑا فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ پاکستان میں ہجرت کرنے والے افراد کو ’مہاجرین‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے، جب کہ ہندوستان میں ایسا قطعی نہیں ہوا۔ حکومت نے انہیں الگ کالونیوں میں تو بسایا، مگر معاشرتی طور پر یہ فرق کبھی نہیں ہونے دیا اور وہ ہندوستانی معاشرے کا جزوِ لاینفک اس طرح بن گئے کہ نئی نسل کو معلوم بھی نہیں کہ یہ پاکستان سے آئے تھے اور ان میں سے دو وزیر اعظم بھی بن گئے۔
یہ تو رہے تقسیم وطن کے مخصوص حالات، جب اِدھر اُدھر کی لاشوں پر سے گزرتے ہوئے ایک سے دوسرے ملک کے مہاجرین نے منتقلی کی ہوگی، جس کا اندازہ آنجہانی خشونت سنگھ کی ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ سے ہوتا ہے۔ مگر ہندوستان نے دیگر ملکوں کے مہاجرین کا بھی بڑی ہی فراخدلی سے استقبال کیا ہے او رانہیں پناہ دی ہے، جن کی بنگلہ دیش کی موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، افغانستان کے مقتول صدر جنرل نجیب کی اہلیہ اور ان کے دو معذور بچے اور بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ مصنفہ و ناول نگار تسلیمہ نسرین مثالیں ہیں۔ جنرل نجیب کے خاندان اور تسلیمہ نسرین تو ہنوز اسی ملک میں رہ رہے ہیں۔
تبّتی رفیوجیز
جہاں تک تبتی پناہ گزینوں کا معاملہ ہے، انہوں نے گزشتہ 50 برسوں میں 14 ویں دلائی لامہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوستان میں پناہ لی ہے۔ ایک سرکاری ریکارڈ کے مطابق، اب تک ایک لاکھ 50 ہزار تبتی اس عرصہ میں یہاں آ چکے ہیں۔ عیاں رہے کہ دلائی لامہ نے 1959 میں وہاں زیادتی اور ظلم کے سبب ہندوستان میں ہجرت کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد فوراً ہی 80 ہزار افراد نے یہاں کا رخ کیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے انہیں واپسی کی مناسب صورتِ حال پیدا ہونے تک ہندوستان میں ہر قسم کی سہولیات دینے کا اعلان کیا تھا۔ فی الوقت یہاں ایک لاکھ تبتی پناہ گزیں موجود ہیں۔ تبتی افراد نے ہماچل پردیش میں جلا وطنی حکومت بھی بنا رکھی ہے، جو کہ دھرم شالہ کے ایک چھوٹے سے شہر میک لیوڈ گنج سے اپنی سرگرمی جاری رکھتی ہے۔ 1960 میں اس وقت کی حکومت میسور نے ہائی لیکوپّے میں تبتیوں کو تقریباً 3 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کیا اور اس طرح 1961 میں اولین تبتی جلا وطنی سیٹلمنٹ ’لگ سنگ سم ڈوپلنگ‘ کے نام سے وجود میں آیا۔ پھر چند برسوں کے بعد وہیں ایک دوسرا سیٹلمنٹ ’تبتن ڈیکی لارسوئی‘ (ٹی ڈی ایل) بھی قائم ہوا۔ بعد ازاں کرناٹک کہلائی اسی ریاست میں تین مزید تبتی سیٹلمنٹس بنائے گئے۔ اس طرح فی الحال کرناٹک میں سب سے زیادہ تبتی آبادی رہتی ہے۔ دیگر ریاستوں نے بھی ان تبتی پناہ گزینوں کو زمینیں فراہم کی ہیں۔ حکومت ہند نے تبتی آبادی کے لیے خصوصی تعلیم گاہیں بنائی ہیں اور انہیں مفت تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور اسکالرشپ دیتی ہے۔ تبتیوں کے لیے میڈیکل اور انجینئرنگ میں بھی کچھ سیٹیں ریزرو ہیں۔ ہندوستان میں تبتیوں کو اسٹے پرمٹ حاصل ہے، جو کہ ہر سال یا نصف سال توسیع ہوتا رہتا ہے۔ 16 برس سے زائد عمر کے تبتیوں کو اسٹے پرمٹ بنانا لازم ہے۔ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی شکل میں یہ اسٹے پرمٹ نئے پناہ گزینوں کو نہیں دیا جاتا ہے۔ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے ایک برس بعد ’ییلو بک‘ (Yellow Book) بھی فراہم کیا جاتا ہے، جو کہ آئڈینٹیٹی سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور جس سے تبتی غیر ملکوں کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
افغان مہاجرین
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے فوجی حملہ کے بعد 60 ہزار سے زائد افغان مہاجرین ہندوستان آ گئے تھے، جن میں سے اب بھی تقریباً 18 ہزار اس ملک میں موجود ہیں۔ حالانکہ حکومت ہند انہیں بھی دیگر مہاجرین کے ساتھ تبتی مہاجرین کی طرح ’رفیوجی‘ تسلیم نہیں کرتی ہے، مگر اس نے یو این ایچ سی آر کو ان کے لیے مخصوص پروگرام چلانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ دہلی میں ان کی تعداد قابل ذکر ہے۔ پرانی دلّی کے بلی ماران میں تو 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں ایک مخصوص علاقے میں ان کی مختلف غیر ملکی سامانوں کی دکانیں تھیں، جس کے سبب یہ ’افغان مارکیٹ‘ بھی کہلاتا تھا۔ 1989 میں افغانستان سے سوویت افواج کی واپسی تک نئی دہلی میں افغان مہاجرین کا 7 پارٹیوں پر مشتمل اتحاد (7-Party Alliance) ایک مہاجر علی خاں کی سرپرستی میں قائم تھا، جو کہ اس ملک میں افغان مہاجرین کو متحد رکھنے اور احتجاجی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا کام کرتا تھا۔ اب تو مذکورہ 60 ہزار مہاجرین میں سے 42 ہزار غیر ممالک یا اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں، مگر ابھی بھی 18 ہزار یہاں مختلف مقامات پر مقیم ہیں۔

سری لنکائی تمل رفیوجیز
ہندوستان میں فی الوقت ایک لاکھ سے زائد سری لنکائی تمل مہاجرین رہ رہے ہیں، جن میں سے بیشتر نے سری لنکا میں 1980 کی دہائی میں ملی ٹینسی کے شروع ہونے کے بعد ہندوستان منتقلی کی تھی۔ زیادہ تر سری لنکائی تملوں نے تمل ناڈو کے چنئی، تروچیرا پلّی، کوئمبٹور اور کرناٹک کے بنگلور کے رفیوجی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سری لنکائی تملوں کو لے کر تنازع بھی ہے۔ یہ تلخ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم ہند راجیو گاندھی کی سری پیرم بدور میں 1991 میں ہلاکت کا تار بھی اسی تنازع سے جڑا ہوا ہے۔
بنگلہ دیشی رفیوجیز
تاریخ شاہد ہے کہ 1971 میں بنگلہ دیش لبریشن وار کے وقت ہند – بنگلہ دیش سرحد کھول دی گئی تھی، تاکہ پاکستانی افواج کی ایس ایس جی یونٹوں کے ذریعے کی جا رہی زیادتیوں اور قتل عام سے گھبرائے بنگالیوں کو ہندوستان میں محفوظ ٹھکانے مل سکیں۔ ہندوستان کی چند ریاستی حکومتوں نے مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ اور تریپورہ میں سرحد کے پاس رفیوجی کیمپس بنائے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت تقریباً 10 ملین رفیوجیز نے ہندوستان میں پناہ لی۔ ان میں سے بہت سے لوگ واپس بھی گئے۔ ویسے یہ سلسلہ 1971 کے بعد بھی کم و بیش جاری رہا۔ مختلف ریاستوں، خصوصاً آسام میں ’بنگلہ دیشی‘ ایشو بھی اسی سے متعلق ہے۔ اسی کے تعلق سے نریندر مودی نے 2014 کے پارلیمانی انتخابات کی مہم کے دوران کہہ دیا تھا کہ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد آسام سے ’بنگلہ دیشیوں‘ کو ڈِپورٹ کر دیا جائے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ابھی تک اس سلسلے میں ان کے مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد بنگلہ دیشیوں کے ڈپورٹیشن کی بات تو سنی نہیں گئی ہے، مگر مودی حکومت نے منتخب و مخصوص عمر کے بنگلہ دیشیوں کے لیے رلیکسڈ ویزا پالیسی (Relaxed Visa Policy) کا اعلان ضرور کیا ہے۔ قابل ذکر بات تو یہ بھی ہے کہ اس اعلان کے چند دنوں کے بعد آسام میں کانگریس حکومت نے 16 جولائی، 2014 کو گزشتہ 43 برسوں سے یہاں رہ رہے لاکھوں بنگلہ دیشی رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دینے کے تعلق سے ایک تجویز کو منظوری دی ہے۔ ریاستی کابینہ نے اس تجویز کو منظوری دیتے ہوئے کہا کہ وہ رفیوجیز، جنہوں نے بنگلہ دیش میں مذہبی جبر، دباؤ اور بھید بھاؤ کے سبب یہاں آکر 25 مارچ، 1971 کے بعد پناہ لیا تھا، کو غیر ملکی نہیں گردانا جائے گا۔ یہ تجویز ریاستی حکومت کے پاس گزشتہ دو برس سے پڑی سڑ رہی تھی۔ عیاں رہے کہ 25 مارچ، 1971 کے آسام معاہدہ کے تحت غیر قانونی مائگرینٹ کی شناخت کے لیے Cut-off تاریخ ہے۔ 1985 میں راجیو گاندھی کے دور میں ہوئے معاہدہ کے تحت 25 مارچ، 1971 سے اس ملک میں داخل ہونے والے افراد کو ڈِپورٹ کیا جانا تھا۔
ان رفیوجیوں کی باضابطہ کوئی مردم شماری نہیں کی گئی ہے، مگر ایک اندازے کے مطابق، ان کی تعداد کم از کم 85 لاکھ ہے۔ ان میں سے بیشتر رفیوجیوں کا تعلق بنگلہ زبان بولنے والے ہندوؤں سے ہے۔ باقی افراد بدھسٹ، گاڑوز، راج بنشی، آدیواسی قبائل اور بشنو پریا منی پوریز ہیں۔ یہ سب لوگ بنگلہ دیش سے یہاں آکر رہ رہے تھے۔ آسام کے ریاستی وزیر رقیب الحسن کا کابینی فیصلہ کے حوالے سے کہنا ہے کہ ان تمام افراد کو اب غیر ملکی قرار نہیں دیا جائے گا، انہیں عدالت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق مہیا ہوں گے۔ انہیں اب یہاں سے باہر نکالنے کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اور انہیں گجرات اور راجستھان کی طرح اسی انداز میں شہریت دی جائے گی۔ رقیب الحسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی نے 20 اپریل، 2012 کو اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ایک عرضداشت پیش کی تھی، جس میں یہ درج تھا کہ ’’وہ لوگ، جو کہ تقسیم وطن کے وقت ہندوستانی شہری تھے اور پھر بعد میں جبر و دباؤ، مظالم اور جان و مال کے عدم تحفظ کے سبب اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، وہ انسانی ہمدردی کے مستحق ہیں۔ موجودہ نظام اور قوانین کے تحت اس طرح کے افراد کو جبرو د باؤ اور باہر نکالے جانے کے خطرات درپیش ہیں۔‘‘
توقع ہے کہ اس اعلان سے بلا تفریق مذہب و ملت سبھی بنگلہ دیشی مستفیض ہوں گے۔ بوڈولینڈ ٹیری ٹوریل کونسل کے ایم سی ایل اے افضل حق سرکار ’چوتھی دنیا‘ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ قانون اچھا ہے۔ اس سے سبھوں کو انصاف ملے گا۔
روہنگیائی رفیوجیز
گزشتہ دو برسوں سے میانمار (برما) کی راکھین ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مزید ظلم و ستم ہونے کے نتیجہ میں ہندوستان میں ایک قابل ذکر تعداد میں روہنگیائی رفیوجیز دہلی، حیدرآباد، کشمیر، مغربی بنگال اور جنوب مشرق میں چلے آئے۔ افغان مہاجرین کی طرح ہندوستانی حکومت انہیں بھی سرکاری طور پر ’رفیوجی‘ نہیں قرار دیتی ہے، مگر یو این ایچ سی آر کو ان کی دیکھ بھال کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان تمام مقامات پر روہنگیائی مسلم رفیوجیز کی حالت بہت ہی دگرگوں ہے۔ وہ بڑی ہی بری حالت میں سہولیات سے محروم کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہیں۔ نئی دہلی میں جامعہ نگر، اوکھلا گاؤں کے علاقے میں جب ’چوتھی دنیا‘ نے جا کر دورہ کیا، تو ان پناہ گزینوں نے سمجھا کہ ان کی کوئی داد رسی کرنے آیا ہے، مگر اسے یقین دلایا گیا کہ ان کی حالت زار کو حکومت اور عام عوام تک پہنچایا جائے گا، تو انہیں کچھ اطمینان ہوا۔ انہیں اناج، طبی سہولیات، کپڑوں و دیگر اشیاء کی سخت ضرورت ہے۔ برسات سے وہ متاثر ہو رہے ہیں اور آنے والے جاڑے کے موسم کے خوف سے وہ سہمے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور این جی اوز رحم و ہمدردی کے مستحق ان پناہ گزینوں کی خبر بھی لیں گے اور دیگر رفیوجیوں کی مانند انہیں بھی انسان گردانیں گے؟
راقم الحروف کو 1986 میں ہندوستان میں آئے اولین روہنگیا مہاجر خاندان سے ملنے اور انٹرویو لینے کا فخر حاصل ہے۔ ان دنوں محمد ہارون کے 14 افراد پر مشتمل خاندان نے کٹیہار (بہار) کے ریلوے اسٹیشن پر پناہ لے رکھا تھا۔ اسے مقامی پولس پکڑ لے گئی اور پھر مقدمہ چلا۔ راقم الحروف کی ایک اخبار میں رپورٹ کے سبب اس خاندان کا معاملہ شہر کا خاص ایشو بن گیا، تب عدالت نے انہیں بری کرکے کٹیہار میں ہی استقامت کے لیے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے جگہ فراہم کروائی اور روزی روٹی کے لیے رکشہ دلوایا، جس کے نتیجہ میں وہ خاندان ہندوستان کے ذریعے میانمار واپس بھیجے جانے سے بچ گیا۔ بزرگ محمد ہارون کا تو انتقال ہو چکا ہے، مگر ان کا خاندان کٹیہار میں آج بھی رہ رہا ہے اور ہندوستان کی صلہ رحمی اور ہمدردی کی تعریف کرتے تھکتا نہیں ہے۔ عیاں رہے کہ اگر یہ خاندان میانمار واپس بھیج دیا جاتا، تو وہاں کے قانون کے تحت اس کے تمام افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ آج اسی صلہ رحمی اور ہمدردی کے منتظر ہیں ہندوستان کے دیگر شہروں میں رہ رہے اس خاندان کے ہم وطن روہنگیائی رفیوجیز۔
اس طرح اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان پناہ گزینوں کی تقسیم وطن کے بعد ہی سے پناہ گاہ رہا ہے اور اس نے کبھی ہند نژاد، تو کبھی غیر ملکیوں کو پناہ دے کر اپنے کلچر، اپنی روایت اور اپنی انسانی ہمدردی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے، مگر ضرورت ہے کہ اس جذبہ میں فرقہ کی بنیاد پر کوئی فرق و امتیاز ہرگز نہ برتا جائے۔ تبتی رفیوجیوں کی طرح دیگر رفیوجیز بھی مجبور محض انسان ہیں، جو کہ اجڑے ہوئے، لٹے ہوئے ہیں اور جن کا اب کوئی گھر بار نہیں ہے۔ لہٰذا انہیں بھی وہی ہمدردی ملنی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *