p-8cمیں پناہ گزینوں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔جنگوں، تشدد اور دہشت گردی کے باعث بے گھر اور ہجرت پر مجبور افراد کی تعداد میں گزشتہ چند سال میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد جنگ عظیم دوم کے دوران بے گھر افراد سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ 18دسمبر کو پناہ گزینوں کا دن’’بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کیلئے ایک منٹ کا وقت دیں”کے نظریہ کے تحت منایا جائیگا تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے جن کو تشدد اور اختلافی خطرات کے باعث اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام کی توجہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کی طرف دلوانا ہے کہ جو جنگ، نقص امن یا مختلف وجوہات کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کردوسرے ملکوں میں پناہ گزینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس دن لوگوں میں سوچ بیدار کی جاتی ہے کہ وہ ان پناہ گزین بھائیوں کی ضرورتوں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں،مہاجرین کی حالیہ تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ شام اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں جاری خانہ جنگی ہے۔اس وقت افغان جنگ سے متاثرہ لاکھوں افغانی پاکستان میں موجود ہیں تو ترکی میں شام کے بے حال لوگ سر چھپائے بیٹھے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق شام کے شہری اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بے گھر اور پناہ گزین ہیں۔ اس کے بعد افغانستان اور صومالیہ کا نمبر آتا ہے جبکہ میانمار سے بھی ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ دنیا میں جنگوں اور تنازعات کے سبب بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد اپنی ریکار ڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ادارے کے مطابق 2015 کے آخر تک دنیا بھر میں تارکین وطن، پناہ گزینوں اور اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چھ کروڑ 53 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ ایک سال میں 50 لاکھ کا اضافہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں ہر 113 میں سے ایک آدمی بے گھر ہے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران سے نبردآزما یورپ میں ’غیرملکیوں سے نفرت کا ماحول پریشان کن ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد نقل مکانی کے سب سے بڑے سیلاب سے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اور متنازع امیگریشن مخالف پالیسیوں کو وسیع حمایت ملی ہے۔دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے تعلق سے جو رپورٹ اقوام متحدہ نے شائع کی ہے وہ بہت ہی اہم ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 65.3 ملین افراد پناہ گزین، پناہ کے طالب یا بے گھر ہیں یعنی ہر 113 میں 1 فرد بے گھر ہے۔آگے اس رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 12.4 ملین 2015 میں تنازعات کی وجہ سے پناہ گزین بننے پر مجبور ہوئے۔24 افراد 2015 میں ہر منٹ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔54 فیصد پناہ گزینوں کا تعلق تین ممالک سے ہے۔50 فیصد پناہ گزینوں کی عمر 18 برس سے کم ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پناہ گزینوں کی تعداد چھ کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔ان چھ کروڑ 53 لاکھ افراد سے میں نصف تین جنگ زدہ ممالک شام، افغانستان اور صومالیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران پر زیادہ تر توجہ دینے کے باوجود 86 فی صد پناہ گزین کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں مقیم ہیں۔اس میں کہا گیا ہے پناہ حاصل کرنے کے لیے جرمنی کو سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ملک پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے کتنا تیار ہے۔ان تین ممالک سے یوروپین ممالک کی طرف بڑھتے پناہ گزینوں کی وجہ سے یورپی یونین کے ممالک میں سیاسی تنازع پیدا ہوئے ہیں اور بعض ممالک نے اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے یا پھر سے سرحدوں کے ضوابط عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک علیحدہ بیان میں اقوا متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ یورپی رہنما تعاون کرنے کی پالیسیوں اور پناہ گزینوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی تاثرات سے لڑنے کے لیے زیادہ کوشش کریں۔بہر کیف دنیا کو یہ سوچنا ہوگا کہ خانہ جنگی یا دیگر اثرات کی وجہ سے پناہ گزینوں کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے جوکہ قطعی اچھی خبر نہیں ہے۔ اس پر سب کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا اور ایسا حل نکالنا ہوگا جس سے پناہ گزینی میںاضافے کو روکا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here