فلسطین کا المیہ اسرائیل کی زبانی

Share Article

رضوان عابد
میں اسرائیل ہوں۔ میں فلسطین کی سرزمین پر وہاں کے لوگوں کے لیے عذاب الٰہی کی شکل میں نازل ہوا۔ مجھے بے زمین یہودیوں کے لیے ایک سرزمین چاہیے تھی، جو لوگ فلسطین میں آباد تھے، انہیں وہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ میرے لوگوں نے دکھا دیا کہ فلسطینی مسلمانوں کو فلسطین سے یا تو نکال دیا جائے گا یا پھر موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔ میں نے 480 فلسطینی آبادیوں کو نیست و نابود کردیا۔ میرے جن لوگوں نے مسلمانوں کا قتل عام بڑے پیمانے پر کیا بعد میں وہ میرے وزیراعظم بنے۔ 1948 میں بیگسن نے ڈیرہ یاسین میں تقریباً 100 مردوں، عورتوں اور بچوں کو ذبح کیا۔ 1953 میں ایریل شیرون نے قبیہ کے مقام پر عوام کا قتل عام کیا اور 1982 میں تقریباً 2000 مسلمانوں کو صابرہ اور شتیلا کے رفیوجی کیمپوں میں موت کے گھاٹ اتارا۔
میں 1948 میں وجود میں آیا۔ میں نے 78 فیصد فلسطین کی زمین ہتھیا لی۔ مقامی مسلم آبادی ختم کر کے یورپ اور دنیا کے دوسرے حصوں سے یہودیوں کو لا کر یہاں آباد کیا۔
میں اسرائیل ہوں، میں نے 1967 میں فلسطین کے بقیہ علاقے ویسٹ بینک، غزہ پٹی کو نگل لیا اور یہاں کی مقامی آبادی کو بدترین فوجی اقتدار سے نوازا اور ظلم و تشدد کی ایک مثال قائم کی تاکہ فلسطینیوں کو یہ پیغام ملے کہ فلسطین میں ان کا خیر مقدم نہیں ہے اور انہیں لبنان اور اردن کے رفیوجی کیمپوں میں دوسرے لاکھوں مہاجرین کے ساتھ بسنا پڑے گا۔ میں اسرائیل ہوں، مجھ میں امریکہ کو بھی قابو کرنے کی طاقت ہے۔ میری امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) اپنی پسند کے کسی بھی سیاسی آدمی کو امریکہ میں بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ میں نے بہت سے امریکی سیاستدانوں کو نیست و نابود کیا ہے، ان کے ناموں تک کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت میرے سامنے بے بس ہے۔ اقوام متحدہ میں جب بھی میرے خلاف میرے جنگی جرائم نظر ثانی کے لیے لائے جاتے ہیں تو میری طرف سے امریکہ اسے ویٹو کردیتا ہے۔ جیسا کہ میرے ایریل شیرون نے کیا خوب کہا تھا’’ہم امریکہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘‘
میں امریکہ کا بلکہ پورے عالم کا میڈیا کنٹرول کرتا ہوں۔ آپ دیکھیںگے کہ دنیا بھر میں خبریں صرف میرے مفاد میں آتی ہیں، کوئی بھی خبر میرے خلاف نہیں ہوتی۔ میں نے اربوں ڈالر پبلک رلیشن پر خرچ کییہیں۔ دنیا کا 94 فیصد میڈیا میرے قبضہ میں ہے اور دنیا بھر کے میڈیا پر قبضہ صرف چھ کمپنیوں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ سی این این اور نیویارک ٹائمس میرے اپنے ہیں اور دوسرے لوگ میرے پروپیگنڈے کو بخیر و خوبی پھیلا رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ میں کسی بھی بات کو میڈیا کے ذریعے کیسے سلیقہ سے دنیا بھر کے عوام کے ذہنوں میں پیوست کردیتا ہوں۔
میں اسرائیل ہوں۔ تم فلسطینی مجھ سے امن کے مذاکرات کرنا چاہتے ہو، لیکن میں بہت اسمارٹ ہوں، تم مسلمانوں کی آبادی 28 لاکھ تھی اور ہماری آبادی 30 لاکھ۔ میں نے کتنی خوبصورتی سے تم مسلمانوں کو محدود خود اختیاری دے کر اپنی پارلیمنٹ کو تمہارے ممبران سے پاک کرلیا۔ اب تم فلسطینی مسلمان ہماری پارلیمنٹ میں گھس بھی نہیں سکتے۔
جب ہم نے تمہیں محدود خود اختیاری عطا کی تو تم بیوقوف فلسطینی مسلمان بہت خوش ہوئے، حالانکہ ہم نے تمہیں بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی پارلیمنٹ سے نکالا تھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں میونسپل کارپوریشن کے اختیارات دیے، جس میں نالیاں صاف کرنا، سڑکوں کی مرمت وغیرہ شامل تھے۔ اصل کنٹرول ہم نے پھر بھی اپنے پاس رکھا، یعنی سرحدوں کی حفاظت، آبی، ہوائی راستوں پر قبضہ اور اس طرح کی ہر اہم چیز۔ ہم تم مسلمانوں سے مذاکرات بھی کرتے رہتے ہیں اور تمہارے علاقے کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر قبضہ کر کے خطرناک ترین دہشت گرد وہاں بساتے رہتے ہیں، جو بہترین ہتھیاروں سے مسلح ہوتے ہیں اور یہ آبادیاں ان شاہراہوں سے جوڑ دی جاتی ہیں، جن شاہراہوں پر تم نہیں گزرسکتے۔ ہم نے تمہیں چاروں طرف سے یہودی آبادیوں سے گھیر رکھا ہے، تمہاری گزر گاہیں بھی ہم نے محدود کر رکھی ہیں۔
میں اسرائیل ہوں، دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت۔ میرے پاس نیوکلیئر بم بھی ہے۔ تمہارے بچے مجھ سے کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس ہتھیاروں کے نام پر صرف پتھر ہی تو ہیں۔ میں نے 17 مہینوں میں تمہارے سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 17 ہزار کو زخمی کیا۔ ہمیں بین الاقوامی برادری کی طرف سے تمہیں نیست و نابود کرنے کا لائسنس ملا ہوا ہے۔ کسی جرم کو عالمی برادری نوٹس میں نہیں لاتی۔ میں فلسطین میں کتنی ہی دہشت گردی کروں مجھ سے سوال کر نے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ تمہیں آزادی چاہیے، میرے پاس تمہیں دینے کے لیے بندوق کی گولیاں، ٹینکوں کے گولے، میزائل، اپاچی ہیلی کاپٹر، ایف 16 ہیں، اس کے بعد بھی تم آزادی کا مطالبہ کرتے رہتے ہو۔
میں اسرائیل ہوں، میں نے ہی تم پر یاسر عرفات کو مسلط کیا، وہ آزادی کی بات کرتے رہتے تھے اور تمہارے معصوم عوام کو ہمارے اسلحے کے ذریعے مرواتے رہتے تھے۔ ہم نے ایک اور چال چلی۔ ہم نے یاسر عرفات کے ذریعے پوری دنیا سے اپنے ہی خلاف مالی مدد جمع کی۔ یاسر عرفات اس رقم کو سوئس بینکوں میں جمع کراتے رہے، آخری عمر میں ہم نے یاسر عرفات کی شادی ایک یہودی لڑکی سے کروادی ان کی ایک بچی بھی پیدا ہوگئی۔ اس بچی یعنی یاسر عرفات کی وارث کے پیدا ہوتے ہی ہم نے فیصلہ کرلیا کہ یاسر عرفات ہمارا دوست سہی، لیکن اب ہمیں اپنے اس دوست کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ ہم نے یاسر عرفات کو ایک مشکوک موت دی۔ آج تک دنیا کو پتہ نہیں چل سکا کہ یاسر عرفات اپنی موت مرے یا مارے گئے۔ یاسر عرفات کے انتقال کے بعد فوراً ہی اس کی بیوی اپنی بچی کو لے کر جرمنی روانہ ہوگئی، اس طرح وہ رقم جو یاسر عرفات نے پچھلے 40 سال میں ہمارے خلاف جمع کی تھی، وہ گھوم کر ہمارے ہی ہاتھوں میں واپس آگئی اور یاسر عرفات فلسطینیوں کو کیا دے کر گئے، یہ پتھر جس سے وہ اسرائیلی فوجوں کا مقابلہ کرتے ہیں، یہ تمہارے لیے ایک سبق آموز کہانی ہے، لیکن میری بے پناہ کامیابی کا اعلان ہے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی، ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے۔
میں اسرائیل ہوں۔ میں نے ہی محمود عباس کو صدر بنایا ہے۔ محمود عباس احمدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے تمہارا صدر بھی کوئی مخلص مسلمان نہیں بننے دیا۔ تمہارا صدر بھی ہم نے ایسا آدھا ادھورا مسلمان بنایا ہے، جو صرف ہماری بات مانتا ہے اور ڈرامہ رچاتا ہے تمہاری وفاداری کا۔ محمود عباس نے ہر قدم پر ہمارا ساتھ دیا ہے۔ جب ہم نے دیکھا کہ محمود عباس تمہارے گرم جوش لوگوں کی ٹھیک طور پر نشاندہی نہیں کرپا رہے تو ہم نے ایک اور ڈرامہ رچا، یہ ڈرامہ تھا حماس کا، ہم نے اسمٰعیل ہانیہ کو آگے بڑھایا۔ وہ صحیح طریقے پر فلسطینی پرجوش نوجوانوں کو جو جذباتی بھی بہت ہیں، حماس میں بھرتی کرتے ہیں، تھوڑی بہت ٹریننگ کے بعد بھرتی کیے گئے کارکنوں کی ساری معلومات حاصل کرتے ہیں۔ وہ کیا کیا کرسکتے ہیں اور کس حد تک فلسطین کے مقصد کے لیے کوشاں ہیں، پتہ لگاتے ہیں۔ پھر ان میں سے دس سے لے کر چالیس کے قریب جانباز نوجوانوں کی خفیہ میٹنگ بلاتے ہیں اور چپکے سے ہمیںا طلاع کردیتے ہیں کہ خفیہ میٹنگ کہاں بلائی گئی ہے، ہم بس ایک یا دو میزائل مار کر ان کو موت کی ابدی نیند سلا دیتے ہیں۔ ہم نے آج تک اسمٰعیل ہانیہ یا ان کے قریبی ساتھیوں پر میزائل یا بم سے حملہ نہیں کیا۔ یہ لوگ تو ہماری ہر طرح سے خدمت پر مامور ہیں۔ ان لوگوں سے تو ہمارا مقصد کامیاب ہورہا ہے۔ جب تک یہ لوگ ہمارے کام کے رہیںگے ہم ان کی صحت کی حفاظت، عزت اور عیش و آرام کا خیال رکھیںگے اور اسمٰعیل ہانیہ اور ان کے حوارین کی صحت اور اچھی ہوجائے گی۔ جب ہمارا مقصد پورا ہوجائے گا تو ہم انہیں ایک بے کار انسان کی موت مار دیںگے۔ ہم دراصل اپنے ان خاص لوگوں کے ذریعے فلسطین کی مدافعت کو زیرو فیصد پر لے آنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ہر مسلم فیملی میں ایک ممبر چھوڑ رکھا ہے، یہ ممبر ہمیں پل پل کی خبر پہنچاتے رہتے ہیں۔
میں اسرائیل ہوں، تم نے دیکھا کہ ہم نے کیسا جال بنا ہے فلسطین کے خلاف۔ دونوں طرف ہمارے لوگ موجود ہیں۔ ہر ادارے میں ہمارے مسلم مخبر اور مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والے مسلم حضرات موجود ہیں۔ کچھ مسلمان تو پیسے کے لیے ہماری غلامی کرتے ہیں، کچھ مسلمان اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ہمارا کام کرتے ہیں اور کچھ مسلمان اپنی عزت بچانے اور اپنی کرسی بچانے کے لیے ہمارے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ کچھ مسلمان اپنے بچوں، عورتوں اور مردوں کو جیل سے رہائی دلوانے کے لیے ہمارے مقصد کو حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر میں یہ چاہتا ہوں کہ فلسطینی مسلمان فلسطین کی سرزمین کو ذہنی طور پر ہم یہودیوں کی ملکیت تسلیم کرلیں اور زیادہ سے زیادہ فلسطینی دوسری سرزمینوں پر جا کر آباد ہوجائیں اور جو یہاں رہیں، وہ ہمارے بے دام کے غلام کی حیثیت سے رہیں، جہاں تک فلسطین سے باہر جا کر آباد ہونے کا مسئلہ ہے، ہم نے جی سی سی(Gulf Cooperation Council) کے سارے ممالک کو حکم جاری کر رکھا ہے کہ جو بھی فلسطینی کسی بھی جی سی سی ملک میں شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے فوری طور پر اس کو اس جی سی سی ملک کی شہریت دی جانی چاہیے۔ اس طرح لاکھوں فلسطینی مسلمان دوسرے عرب ممالک میں جا کر آباد ہوچکے ہیں، جو بچ گئے ہیں، ہم ان پر بھی ظلم و ستم کر کے عنقریب فلسطین سے نکال دیںگے۔ ا س کے بعد ہمارا پروگرام گریٹر اسرائیل بنانے کا ہے، جس کا اہتمام ہم نے عراق جنگ سے شروع کردیا ہے۔ ہمیں دریائے نیل اور دریائے فرات کے بیچ کے سارے علاقے چاہئیں، جہاں ہم گریٹر اسرائیل بنائیںگے، یہ وہ علاقے ہیں کہ جن علاقوں میں کسی نہ کسی دور میں ہم یہودی آباد رہے ہیں، ان علاقوں میں ہم مدینہ کو بھی شامل سمجھتے ہیں۔

Share Article

One thought on “فلسطین کا المیہ اسرائیل کی زبانی

  • May 28, 2011 at 10:46 am
    Permalink

    ایک ایک حرف سچائی میں ڈوبا ہوا ہے۔ مگر فلسطینیوں کی حالت زار پر رحم کھانے والا کم از کم اس دنیا میں اب کوئی نہیں نہ مسلمان اور نہ ہی غیرم مسلم، نہ دنیا بھر کی عوام اور نہ ہی امن کے نام پر قائم کی جانے والی عالمی تنظیمیں اور ہر سال امن کا نوبل پرائز حاصل کرنے والے لوگ۔ان پر اللہ ہی رحم کرے تو کرے۔مگر ادھر ماضی قریب میں اس کی بھی ایسی کوئی مرضی میری گناہ گار آنکھوں کو نظر نہیں آتی ۔ بہت اچھا مضمون ہے عابد صاحب
    الله آپ کو جزاے خیر دے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *