اعجاز مہر، اسلام آباد
پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے گزشتہ روز لندن میں نیوز کانفرنس کے ذریعے سیاست میں با ضابطہ طور پر آنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی نئی جماعت ’آل پاکستان مسلم لیگ‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جو ساٹھ برسوں میں سیاسی کلچر فروغ پا چکا ہے اس میں سیاسی جماعتیں کہنے کو تو جمہوری ہوتی ہیں لیکن وہ ایک شخصیت کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ اس اعتبار سے پرویز مشرف نو سال اقتدار میں رہنے کے حوالے سے پاکستان میں جانا پہچانا نام تو ہیں لیکن کیا انہیں نچلی سطح تک عوام میں وہ پذیرائی مل پائے گی؟ اس بارے میں فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
کیونکہ پاکستانی قوم ایک عجیب قوم ہے۔ وہ صدقہ زکوٰۃ، خیرات تو عبدالستار ایدھی، عمران خان، انصار برنی اور اس طرح کے لوگوںکو دیتی ہے لیکن ووٹ بھٹو، نواز شریف اور الطاف حسین کے نام پر ہی ملتا ہے۔ موجودہ حالات کے بعد سکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کی کوشش اور خواہش ہوگی کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی قوت نمایاں مینڈیٹ حاصل نہ کرے اور اگر اندھا کانا جمہوری نظام قائم بھی ہو تو وہ چوں چوں کا مربہ ہو تاکہ ان کی ڈور ہلانے میں آسانی ہو۔ ایسے میں پرویز مشرف کو شاید ایسٹیبلشمنٹ کسی حد تک حمایت بھی کرے کیونکہ وہ ان کا ’ماؤتھ پیس’ یا ترجمان بن سکتا ہے۔
پرویز مشرف کے ساتھ اگر پاکستان کے وہ وڈیرے جو نو برس تک وزیر، مشیر اور ناظم کی حیثیت سے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں، وہ اگر ساتھ مل جائیں تو آئندہ الیکشن میں وہ قابلِ ذکر جماعت کی حیثیت تو حاصل کرسکتے ہیں لیکن انقلاب کی خواہش پوری ہونے میں دو دہائیاں لگ جائیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست پیسے کا کھیل ہے، فی الحال تو پرویز مشرف کے پاس بھی شاید پیسوں کی کمی نہ ہو اور ان کے نئے فنانسر ان پر سرمایہ کاری بھی کریں لیکن یہ کام زیادہ دیر تک شاید ہی چل پائے۔ اس سلسلے میں انہیں اپنے پرانے دوست مخدوم امین فہیم سے مشورہ کرلینا چاہیے کہ جب انہیں وزیرِاعظم نہیں بنایا گیا تو ان کے لیے جان دینے کی باتیں کرنے والے بھی راتوں رات ان کے لیے اجنبی بن گئے۔
مجھے ذاتی طور پر مشاہدہ ہے کہ لواری سرنگ بنانے کی وجہ سے چترال میں جتنے پرویز مشرف مقبول ہیں شاید ہی موجودہ کسی سیاسی لیڈر کو وہ پذیرائی مل پائے۔ وہ چترال سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوسکتے ہیں لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سیکورٹی  کا ہوگا۔ طالبان اور لال مسجد والے ہوں یا ان کے سیاسی رقیب انہیں اتنی آسانی سے ہضم نہیں کر پائیں گے۔
جب ایک نئی سیاسی جماعت ہو تو اس کے لیڈر کو تو عوامی رابطے کی مہم چلانی پڑتی ہے لیکن کیا پرویز مشرف ایسا کر پائیں گے؟ بقول جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن کے ابھی تک پرویز مشرف پر سے اقتدار کا نشہ نہیں اترا اور انہیں فوجی صدر کی حیثیت میں ملنے والے پروٹوکول سے ہٹ کر عام سیاسی لیڈر کے طور پر عوام میں اترنا ہوگا۔ بے نظیر بھٹو جتنی عوام میں پذیرائی تو ظاہر ہے مشرف کو حاصل نہیں ہے لیکن وہ اپنے ہزاروں جان نثاروں کے تین حفاظتی حصاروں کے باوجود بھی اپنی جان کھو بیٹھیں۔ بہت سارے مبصرین کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے اقتدار کی ڈوبتی کشتی کے بعد چودھری شجاعت حسین جیسے شریف آدمی بھی اگر ان سے راہیں جدا کر سکتے ہیں تو بقول تجزیہ کار سعید منہاس کے کہ ’کشمایوں لیگ’ کے چالاک رہنما ان کا ساتھ کیسے اور کہاں تک نبھائیں گے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حامد ناصر چٹھہ، ہمایوں اختر، سلیم سیف اللہ، ارباب غلام الرحیم اور جو بھی ان کے ہم خیال ہیں وہ ان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود رہتے تاکہ ایک پیغام جاتا کہ انہیں کچھ ’ہیوی ویٹس’ کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن بظاہر ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پرویز مشرف کی سیاست میں شمولیت اور نئی جماعت کے اجراکے متعلق اگر آج کے اخبارات میں شائع ہونے والا رد عمل ہی دیکھ لیں تو لاہور کے خواجہ سراؤں کی ایک تنظیم ’ساتھی فاؤنڈیشن’ کی سربراہ لیلیٰ کے علاوہ کسی نے ان کا خیر مقدم نہیں کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جب تک مشرف زندہ ہیں وہ جلاوطن رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے سنیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ مشرف تو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے سیاست میں ہیں اور انہوں نے اپنے حلف سے غداری کا ناقابل معافی جرم کیا ہے جسے قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ پیر پگاڑہ، مذہبی جماعتوں کے رہنما، عمران خان اور دیگر نے انہیں قومی مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی سیاست میں آمد کی مذمت کی ہے۔
بلاشبہ پاکستان میں صاف ستھری سیاست کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت کی گنجائش موجود ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرویز مشرف وہ کمی پوری کر پائیں گے اور یہ کہ پاکستان کی سیاست جسے کوئلے کے کاروبار سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے، اس میں وہ کالک سے اپنا دامن بچا پائیں گے؟ کیا وہ ذرائع ابلاغ میں اپنے خلاف لگائے جانے والے مالی بدعنوانی کے الزامات، نواب اکبر بگٹی کے قتل، سینکڑوں لاپتہ لوگوں کے کیسز، لال مسجد آپریشن اور دیگر معامالات کا جواب دے پائیں گے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here