آفریدی کے استعفیٰ کے بعد پاکستانی ٹیم میں ہلچل

Share Article

اے این شبلی
پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کب کیا ہو جائے کہا نہیں جا سکتا۔ کل تک جس شاہد آفریدی کی ٹیم میں طوطی بولتی تھی اس کے لیے حالات ایسے بن گئے کہ اسے وقت سے پہلے انٹر نیشنل کرکٹ کو الوداع کہنا پڑا۔ جی ہاں وہی شاہد آفریدی جنہیں کبھی گیند بازوں کی دھنائی کے لیے جانا جاتا تھا ان کی اب ٹیم میں ایسی حیثیت ہو گئی یا کر دی گئی کہ انہیں کرکٹ کو وقت سے کافی پہلے الوداع کہنا پڑا۔ کہا یہ جا رہا ہے بلکہ حقیقت بھی یہی ہے کی آفریدی نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کہ وہ بورڈ سے اس لیے ناراض تھے کیونکہ انہیںپاکستان کی ایک روزہ ٹیم کی کپتانی سے ہٹادیا گیا تھا۔ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ بتاتی ہے کی یہاں کھلاڑیوں میں نہ تو کبھی آپس میں بنی اور نہ ہی کبھی کھلاڑی بورڈ سے خوش رہے۔ عمران خان اور جاوید میانداد پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دو بڑے اسٹار رہے ہیں مگر ان دونوں میں کبھی نہیں بنی۔ جہاں تک بورڈ کا سوال ہے تو کوئی کھلاڑی اگر اس سے خوش رہا تو بورڈ سے ناراض کھلاڑیوں کی کمی بھی نہیں رہی۔ کچھ کھلاڑی خود کو بورڈ سے بڑا بھی مانتے رہے۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔ آفریدی کے بیان سے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ نہ صرف بورڈ کی حرکت سے ناراض ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ بورڈ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ تبھی تو شروع میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اس صورت میں واپسی کریں گے جب پی سی بی سے ادنیٰ درجے کے لوگ ہٹ جائیں۔
آفریدی کی واپسی ہوتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ جب آپ یہ لائن پڑھ رہے ہوں اس وقت ہو جائے مگراس مضمون کے لکھے جانے تک حالات ایسے بن گئے تھے جس سے یہ اندازہ لگ رہا تھا کہ آفریدی کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔اصل میں شروع میں آفریدی کو لگا کہ وہ جب بورڈ اور اعجاز بٹ کے خلاف بولیں گے تو انہیں حمایت حاصل ہوگی اور بہت سے لوگ بورڈ کی اس حرکت کے خلاف آواز اٹھائیں گے مگر اعجاز بٹ کو برا بھلا تو بعد میں کہا جاتا بورڈ نے آفریدی کی ایسی حالت بنا دی کہ ان کی کمائی کے سارے راستے بند ہو گئے۔جو آفریدی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے وقت کافی ناراض نظر آ رہے تھے وہ دھیرے دھیرے نرم پڑتے گئے اور بورڈ سے یہ اپیل کرنے کو مجبور ہو گئے کہ کم سے کم کاؤنٹی کھیلنے کی اجازت تو دے دو۔مگرپاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے اورکاؤنٹی میں کھیلنے کے لیے ان کی درخواست مسترد کردی۔
اصل میں ساری کہانی یہ ہے کہ آفریدی اس بات سے ناراض تھے کی ان کو کسی خاص وجہ کے بغیر ہی کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔انہوں نے کہا اس بورڈ میں میری کوئی قدر نہیں ہے جس نے مجھے کپتان کے طور پر برخاست کرنے کی نہ تو کوئی وجہ بتائی اور نہ ہی میری بات سننے کی کوشش کی۔ مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے کس بنیاد پر مجھے کپتانی سے برطرف کیا۔ میں نے بکھری ہوئی ٹیم کو سنوارنے میں سخت محنت کی ۔ ہم ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کھیلے اور اس کے باوجود انہوں نے میری بات سنے بغیر مجھے برطرف کر دیا۔
معلوم ہو کہ بورڈ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں پاکستان کی 3-2 کی جیت کے باوجود آفریدی کو کپتان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ بورڈ نے انہیں ہٹانے کی کوئی باضابطہ وجہ تو نہیں بتائی لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آفریدی کے کوچ وقار یونس کے ساتھ بڑھتے اختلافات کا نتیجہ تھا۔خود آفریدی نے دعویٰ کیا کہ لاہور کے پنجاب صوبے کا ایک گروپ ہے جو ہمیشہ ان کے خلاف رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ ہمیشہ میرے خلاف کام کرتا ہے۔ یہ میرے خلاف صدر یعنی بٹ کے کان بھرتے رہتے ہیں۔ شاید وہ نہیں چاہتے کہ میں کھیلوں کیونکہ میں ان کے منصوبہ میں آڑے آتا ہوں۔کسی نہ کسی دھماکے کا اندازہ تو عام کرکٹ شائق کو اسی وقت ہو گیا تھا جب آفریدی کو آئرلینڈ کے خلاف میچ کے لیے کپتانی سے ہٹادیا گیا تھا۔ کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے بورڈ سے کہا کہ وہ اپنے بیمار والد کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں جو امریکہ میں علاج کرا رہے ہیں۔ لیکن وہ امریکہ سے انگلینڈ پہنچ گئے اور  وہیںلندن سے اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ آفریدی خود جو کہیں مگر کرکٹ کے ماہرین آفریدی کی اس حرکت کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق بورڈ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسے کپتان بنائے اور کسے نہیں، آپ کا کام صرف کھیلنا ہے اور آپ کو ہر حال میں ملک کے لیے کھیلنے کو تیار رہنا چاہیے۔
اس سلسلے میں سابق پاکستانی کپتان ظہیر عباس نے کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اسے ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آج وہ بورڈ کو قصوروار قرار دے رہا ہے لیکن وہ بھول گیا کہ آسٹریلیا میں گیند سے چھیڑ چھاڑ کے تنازعہ کے وقت اسی بورڈ نے اس کا ساتھ دیا تھا جب کہ وہ فارم میں بھی نہیں تھا۔ سابق ٹیسٹ لیگ اسپنر اور سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر نے بھی شاہد آفریدی کے فیصلے کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ آج کل سنیاس کا اعلان کرنا مذاق بن گیا ہے۔ ہمارے کھلاڑی باقاعدہ طور پر ایسا کر رہے ہیں جس سے پاکستانی کرکٹ کو نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان کے سابق ٹیسٹ اسپنر اقبال قاسم نے کہا کہ آفریدی کے فیصلے سے پاکستانی کرکٹ کو نقصان ہی ہوگا۔ ویسے کئی ایسے بھی ہیں جو آفریدی کے فیصلے کو مناسب قرار دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کہنا ہے کی جس کپتان نے ٹیم کو ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچایا اس کے ساتھ بورڈ کو ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔
آفریدی کا یہ فیصلہ مناسب ہے یا نہیں اس پر بحث آگے بھی چلتی رہے گی مگر اتنا تو طے ہے کہ آفریدی کی گنتی پاکستان کے اچھے کرکٹرز میں ہوتی تھی۔ حال ہی میں آفریدی کی کپتانی میں ہی پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچی۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں آفریدی نے تیز بلے بازی کا ایک شاندار نمونہ پیش کیا۔ اپنے دوسرے ہی میچ میں انہوںنے صرف 37 گیندوں پر ہی سنچری بنا دی۔ یہ ون ڈے کرکٹ کی گیندوں کے اعتبار سے آج بھی سب سے تیز سنچری ہے۔ شروع میں اپنی تیز بلے بازی کے لیے مشہور ہوئے آفریدی بعد میں بہتر گیند بازی بھی کرنے لگے۔ انہوں نے کل ملا کر 325 یک روزہ میچوں میںشرکت کی جن میںانہوںنے 6695 رن بنائے۔ ان کا اسٹرائک ریٹ 113.82 رہا۔ ایک گیندباز کے طور پر انہوں نے 34.22 کی اوسط سے 315 وکٹ بھی حاصل کیے۔ شاہد آفریدی نے 43 ٹی -20 میچ بھی کھیلے ہیں جن میں انہوں نے 683 رن بنانے کے علاوہ 53 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ آفریدی کو 27 ٹیسٹ میچوں میںبھی کھیلنے کا موقع ملا جن میں انہوںنے 1716 رن بنائے اور ایک گیندباز کے طور پر 48 وکٹ حاصل کیے۔ آفریدی کی واپسی ہوگی یا نہیں اس کا پتہ تو جلد ہی چل جائے گا ، اگر ان کی واپسی نہیں ہوتی ہے تو ان کے تیز کھیلنے اور کسی کو آؤٹ کرنے کے بعد ان کے خوش ہونے کا ایک خاص انداز ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *