پاکستانی وزیراعظم عباسی کے بیان پرواویلا

Share Article

پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے یہ بیان دے کرکہ آزادجموں -کشمیرکا خیال حقیقت پرمبنی نہیں ہے،جیسے مدھومکھی کے چھتے کو چھیڑدیاہے۔ان کے بیان پرجموں وکشمیرکے مخالف کیمپ نے ہنگامہ نہیں کیا۔ غورطلب ہے کہ یہ کیمپ مسئلہ کشمیر کا یہاں کے لوگوں کی خواہشات اورتمناؤں کے مطابق حل کیلئے جدوجہدکررہاہے ۔تقریباً 30سالوں سے جولوگ اس مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کررہے ہیں وہ ’آزادجموں وکشمیر‘کے موجودہ خیال پرخاموش ہیں۔
وزیراعظم عباسی نے لندن میں ہوئی ایک کانفرنس کے دوران کہاکہ ’’اس (آزادکشمیرکے)نظریہ کواکثربحث میں لایاجاتاہے لیکن اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔آزادکشمیرکی مانگ کولوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہے‘‘۔یہ پہلاموقع نہیں ہے جب کسی پاکستانی وزیراعظم نے اس معاملے پراپنی سرکارکارخ رکھاہو۔آنجہانی وزیراعظم بے نظیربھٹونے بھی اس خیال کوخارج کیاتھا۔اپنے بیان سے کھڑے تنازع کے بعدانہو ںنے شایدخاموشی اختیارکرلی تھی۔
پاکستان نے یہ خیال اس بنیادپرقائم کیا ہے کہ جموں وکشمیرکاآخری حل یونائٹیڈنیشنز کی اس قرارداد کی بنیادپرہوگاجس میں یہاں کے لوگوں کوہندوستان اورپاکستان میں سے کسی کے آپشن کوچننے کے لئے خودفیصلہ کرنے کا اختیاردیاجائے گا۔حالانکہ جب آزادکشمیرکے نظریہ کی جانب دھیان دلایاجاتاہے توپاکستان کااکثرخیال یہی رہتاہے کہ جوبھی ہوگاعوام کی منشاکے مطابق ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

یہاں تک کہ سیدعلی شاہ گیلانی جیسے ہارڈ لائنرنے (اس معاملہ پر)پہلے ہی یہ صاف کردیاتھاکہ وہ جموں وکشمیرکا پاکستان کے ساتھ انضمام چاہتے ہیں، لیکن اگرلوگ اس کے علاوہ کچھ اورچاہتے ہیں تووہ اس کا استقبال کریں گے۔حالانکہ تحریک حریت کے ذریعہ حال ہی میں منعقد ایک سیمینارمیں گیلانی اوران کے نائب اشرف صحرائی نے کہاکہ دوقومی نظریہ صحیح ثابت ہوا ہے۔
اگرجموں وکشمیرمسئلے کے حل پرپاکستان کے آئین کودیکھاجائے تواس میں صاف طورسے کچھ نہیں کہاگیاہے۔اس لحاظ سے وزیراعظم عباسی کا بیان غلط نہیں ہے۔جموں وکشمیرسے متعلق پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257کہتاہے:’جب جموں وکشمیرریاست کے لوگ پاکستان کے ساتھ انضمام پرفیصلہ لے لیں گے توپاکستان اوراس ریاست کے بیچ کے رشتوں کووہاں کے لوگوں کی خواہشوں کے مطابق طے کیاجائے گا‘‘۔اس میں صاف طورسے ذکرکیاگیاہے کہ جموں وکشمیرپہلے پاکستان کا حصہ بنے گااورپھراس کے ساتھ تعلق طے کیاجائے گا۔
اسی طرح پاکستان کے تحت جموں وکشمیرکاآئین یہ واضح کرتاہے کہ جموں وکشمیرکا مستقبل یونائٹیڈنیشنز کی قراردادوںکیبنیادپرطے کیاجائے گا۔’’جہاں جموں وکشمیرریاست کے مستقبل کی پوزیشن وہاں کے لوگوں کے خواہشوں کے مطابق ابھی تک طے نہیں ہوئی ہے، جس کے لئے اقوام متحدہ نے وقت وقت پرمنظوراپنے یواین سی آئی پی قراردادوں میں آزاد،غیرجانبداراورجمہوری رائے شماری کروانے کی بات کی ہے‘‘(اے جے کے آئین1974)۔
ان واضح صورتحال کے باوجود پاکستان کی سرکاریں پچھلے 30برسوں کے دوران ان پرپابندنہیں رہی ہیں اورجموں وکشمیرمیں سیاست اورملی ٹینسی دونوں طرح کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔یاتواسلام آباداپنی پالیسی اس وقت تک چھپاکررکھناچاہتاہے جب تک وہ جموں وکشمیرحاصل نہ کرلے،یاپچھلے تین دہائیوں کی نئی حقیقتوںکودیکھتے ہوئے طے کرے کہ اس کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔یہ واضح ہے کہ 1989کے آخرمیں جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف)کے تحت کشمیرمیں مسلح بغاوت شروع ہوئی تھی۔جے کے ایل ایف کے پاس بھی ’’آزادجموں وکشمیر‘‘ کا کوئی واضح چارٹرنہیں تھا۔
بہرحال پاکستان نے مسلح کوششوں کیلئے جے کے ایل ایف کی مددکی ۔حالانکہ یہ بالکل الگ بات ہے کہ جیسے ہی پاکستا ن نے اپنے حمایتی گروہ کھڑے کرلئے،اس کے لئے جے کے ایل ایف کی وہ اہمیت نہیں رہی۔اوریہی حالت اب تک بنی ہوئی ہے، حالانکہ اسلام آبادمیں اس کی موجودگی بنی رہی اورسرکارنے وقت وقت پراسے بات چیت کاحصہ بھی بنایا۔جے کے ایل ایف سربراہ امان اللہ خان کا پاکستان کے ساتھ پیاراورنفرت کارشتہ ان کی موت تک جاری رہا۔پاکستان سرکارنے اپنے قانون کے عمل میں کوئی رعایت نہیں دی جب 1990میں پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول(ایل اوسی)پارکرتے 11جے کے ایل ایف کارکنوں کومارگرایاتھا۔وزیراعظم عباسی کے بیان پرسری نگر سے جے کے ایل ایف کا ردعمل آیا ، جوہلکا اورغیرواضح تھا۔قبل جے کے ایل ایف کے صدرنے 2003میں اپنے ’’سفرآزادی‘‘کے دوران ’’آزادی ‘‘کی حمایت میں 1.5ملین دستخط جمع کئے تھے۔لوگوں کی خواہش دیوارپرلکھی عبارت کی طرح واضح ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد ہندوستان اورپاکستان کودوآپشن دیتی ہے ،کیونکہ 1948میں صرف یہی دومتبادل موجود تھے، لیکن 1990 کے بعد سے ’’آزاد جموں و کشمیر ‘‘ کا ایشو حاوی ایشو بن گیا۔
پچھلے کچھ سالوں میں ہوئے بدلائو کی وجہ سے پاکستان یا آئی ایس آئی ایس کے جھنڈے احتجاجوں کے دوران نظر آنے لگے ہیں،لیکن اس کے باوجود عوام کی انفرادیت وہی ہے جو پہلے تھی۔پاکستان کے ذریعہ عید کے اعلان کے بعد کشمیریوں کے عید منانے کا اعلان یا ہندوستان – پاکستان کرکٹ میچ، پاکستان کے ساتھ یہاں کے لوگوں کے جذباتی لگائو کو ظاہر کرتے ہیں لیکن جب عوام کی بات آتی ہے تو یہاں سیاست الگ ہو جاتی ہے۔ بھلے ہی وہ لوگ جو اس ایشو کے حامی ہیں اور جنہوں نے لوگوں کو تشدد کے لئے اکسایا ہے ،پاکستانی وزیراعظم کے بیان پر خاموشی اختیار کرلیں لیکن اس سے زمینی سیاسی حقیقت کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ شاید یہی حقائق تھے جنہوں نے اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف کو اقوام متحدہ کی تجاویز کو طاق پر رکھ کر’’ آئوٹ دی باکس‘‘ حل پر غور کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس بات کے ثبوت ہیں کہ مسئلہ کا حل ابھی تک نہیں ہوا ہے،لیکن جہاں تک متبادلوں کا سوال ہے تو حقائق بد ل گئے ہیں۔’’ آئوٹ دی باکس‘‘ کا مطلب کچھ بھی ہو سکتاہے۔
سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی مشترکہ مزاحم قیادت نے اپنے مشترکہ اسٹیج سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ آل پارٹی حریت کانفرنس کا آئین جو ’’ مزاحمتی تحریک ‘‘ کی قیادت کا دعویٰ کرتاہے ،نے تیسرے متبادل کو چنا ۔چیپٹر 2 کے پیراگراف 2 میں ’’حریت کے مقاصد ‘‘ کے تحت اے پی ایچ سی پروویژن میں کہا گیاہے کہ ’’ جموں و کشمیر ریاست کے لوگوں کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر اورقراردادوں کے مطابق خود فیصلہ کرنے کے اختیار کے لئے پُرامن جدو جہد کرناہے۔ حالانکہ خود فیصلہ کرنے کے اختیارات کے استعمال میں آزادی کا حق بھی شامل ہوگا‘‘۔ مشترکہ قیادت کو اپنا رخ صاف کرنا ہوگا۔
پاکستان کشمیر کے ’’ حق ‘‘ کو سپورٹ کررہا ہے لیکن یہ اس کی ایمانداری کا بھی امتحان ہوگا۔ وزیر اعظم عباسی کے بیان کامقصد آزاد کشمیر کے نظریہ کی کوئی حمایت نہیں ہے، حقائق پر مبنی نہیں ہے، خاص طور پر پر ایسے میںجب یہ حاوی سیاسی نظریہ ہے۔
حالانکہ عباسی نے اپنے بیان سے پاکستان کی صورت حال کو آسان بنایا ہے اورصرف آئین کی تشریح کی ہے لیکن کشمیر کی قیادت کیلئے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ بغیر لاگ لپیٹ اس خطہ کے لوگوں کو رضامند کرے کہ خود فیصلہ کرنے کا ایشو مذہب پر مبنی نہیں ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *