پاکستانی قوم اور ناموس رسالت

Share Article

عفاف اظہر
پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کا ریکارڈ رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال نے نا صرف غیر مسلم اقلیتوں بلکہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اس قدر سنگین الزامات عائد کرنا ایک معمول بنتا چلا جا رہا ہے جو ملک میں موجود مختلف فرقوں کے درمیان بڑھتی نفرت اور فرقہ واریت کی انتہا کا پتہ دیتی ہے ۔ توہین رسالت کے قانون پر تحقیق کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے مطابق اس قانون کے تحت ملک میں ساڑھے نو سو سے بھی زائد مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بیشتر عیسائی ،ہندو یا پھر احمدی نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔ ساڑھے نو سو میںسے چار سو اسی مقدمات مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ساڑھے تین سو کے قریب احمدیوں کے خلاف ہیںاور ایک سو بیس کے قریب مقدمات عیسائیوں کے خلاف اور ہندو شہریوں کے خلاف صرف چودہ مقدمات درج ہیں۔ اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ مقدمات ہیں جن پر سزائیں عمل میں آئیں اور یہ ان درخواستوں کا پانچواں حصہ بھی نہیں ہیں جو مقدمات پولیس کے پاس درج کے گئے۔ پولیس کے ریکارڈ میں توہین رسالت اور توہین مذہب کی چار ہزار سے بھی زائد ایسی درخواستیں موجود ہیں جو ابتدئی تفتیش کے بعد بے بنیاد ہونے کی بنا پر رد کر دی گئیں تھیں ۔انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے معرض وجود میں آنے کے بعد ابتدائی سالوں میں یہ قانون صرف احمدی فرقہ کے خلاف ہی استعمال کیا جاتا رہا جنہیں تازہ تازہ حلقہ اسلام سے خارج کیا گیا تھا ۔ بعد میں نوے کی دہائی میں ان کا رخ عسائیوں کی جانب ہو گیا جبکہ دو ہزار کے بعد ایک نیا ہی رجحان دیکھنے میں آیا جو آج پاکستانی معاشرے میں موجود شدت پسندی کی بھرپور طور پر عکاسی کرتا ہے ۔ کیوں کہ دو ہزار کے بعد اس قانون کا رخ خود مسلمانوں کی جانب ہو گیا اور سب سے زیادہ مقدمات خود مسلمانوں کے ایک دوسرے کے خلاف منظر عام پر آنے لگے ۔ اس بڑھاتے رجحان کی تازہ ترین مثال ڈیرہ غازی خان کے ان امام مسجد کی ہے جنہیں مخالف فرقے کے ایک اجتماع کا پوسٹر پھاڑنے پر ان کے بیٹے کے ہمراہ چالیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
قوانین معاشرے کی اصلاح کے لئے بنائے جاتے ہیں اور پھر ایک ایسا قانون جس نے معاشرے کو سوائے تباہی اور بگاڑ کے دیا ہی کچھ نہیں اس کی حفاظت کا مطلب سوائے ذاتی مفادات ،اندھی تقلید اور جہالت کے اور ہو بھی کیا سکتا ہے ؟ سمجھ سے باہر ہے کہ اس قوم کا خدا کون ہے ؟  ضیاء الحق کے بنائے گئے قوانین کو خدائی قوانین کا درجہ حاصل ہے تو پھر دسرے الفاظ میں ضیاء الحق کو خدا کا ہوا … کیوں کہ خدا اور رسول کے بتائے ہوئے اصول تو کبھی چلے نہیں اس قوم کے آگے اورتو اور صحیفۂ آسمانی کی بھی متعدد آیات تک تو منسوخ ہو چکی ہیں لیکن اگر کسی چیز میں کوئی بھی رد و بدل نہیں ہو سکتی تو وہ فقط توہین رسالت کے قوانین ہیں  …وہ مرد مومن ضیاء الحق جس نے اس قوم کو مذہبی انتہا پسندی کی کھائی میں ایسا دھکا دیا کہ گھر گھر میں بارود کی فیکٹری اور مدرسوں میں مجاہدین کی فصل اگا دی …  ،نوجوان نسل کے ہاتھ میں بندوق تو منہ پر ہیروئین کی لت لگا دی …امریکی آقاؤں کی ایما پر جہاد کے نام پر مذہب سے کھلواڑ کیا قوم کو اندھی تقلید کی ایسی روش پرڈالا کہ ہر مسجد کو ضرار کے مقابل لا کھڑا کیا ۔۔کیا کیا احسانات گنواؤں کہ اس مرد قلندر نے جس شان سے اسلام کو دنیا میں ذلیل و خوار کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا اس کے حواری ملاؤں نے آج تک اس کی لو کو مدھم نہیں پڑنے دیا۔ توہین رسالت کے قوانین کا بانی وہ مرد مجاہد جس نے اس قانون کی آڑ میں ڈنڈے سے خدا اور رسول کی عزت کروانے کے نت نئے ڈھنگ اور انسانیت کی تذلیل کے ایسے ایسے نادر مو ا قع مسلمانوں کو فراہم کئے کہ انسانیت لب دم اور حیوانیت دم بھرنے پر مجبور ہو گی ۔  پاکستانی قوم نے تو گویا اسلام کا ٹھیکہ ہی لے لیا۔ مذہب ایک ایسی دکھتی رگ ہے کہ اس کے نام پر ہر ظلم با آسانی چلتا ہی نہیں بلکہ مذہب کے سائے تلے تمام انسانیت سوز  مظالم پھلتے پھولتے ہیں ۔پہلے تو کچھ لوگ طالبان کی مخالفت کی بات کرتے تھے مگر اب ایک مذہب کے جنوں میں ایک انسانی جان لے کر قانون سے کھیلنے والے ایک خونی ایک قاتل کی حمایت میں پورا  ملک ہی کیا بلکہ صحافتی آزادی کا علمبردار پاکستانی میڈیا بھی طالبان بن چکا ہے۔ یہ اس رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دم بھرنے والے ہیں جن کی شان میں طائف کے لہولہان کر دینے پر فرق پر نہ مکہ کی گلیوں میں روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکنے پر ان کی توہین ہوئی اور تو اور یہ اس محسن انسانیت کے نام پر جانیں لینے کو کمر بستہ ہیں جنہوں نے ہندہ کے آپ کے پیارے چچا حمزہ کے قلیجہ چبا جانے پر بھی معاف کر دینے کا ہی نمونہ پیش کیا ۔ طاقت اور ہمت ہوتے ہوئے معاف کرنے کو سب سے افضل قرار دیا ۔ جس اندھی تقلید اور ا عتقاد پرستی کی روش پر ہماری قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے چل رہی ہے اس کی اگلی منزل یہ جنونیت ہی تھی اور یہ اس کھلی حقیقت کا ثبوت ہے کہ طالبانیت کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے اور اب بہت جلد پوری قوم اس کی بوتل کے اندر ہو گی۔ جس مذہبی جنونیت کو عشق رسول سے منسوب کیا جا رہا ہے وہ جہالت گمراہی اور حیوانیت کی وہ قسم ہے جس نے آج مہرے سے صبر و تحمل بردباری اور ہوش و حواس تک چھین لئے ہیں ۔اب آگے یہ کیا کیا گل کھلانے جا رہی ہے اس کا اندازہ ہماری سوچ سے بہت آگے ہیں ۔یہ اسلام کے لبادے میں “اسلام ہی  پر “قاتلانہ حملہ اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ گورنر کا قتل کوئی پہلا قتل تو تھا نہیں اس سے پہلے گوجرہ ، سمبریاں ،سیالکوٹ لاہور اور فیصل آباد بھی تو یہی جنونیت نما نام و نہاد عشق رسول سر چڑھ کر بول رہا تھا، کہ ناز جس خاک وطن پر تھا مجھے آہ جگر
اسی جنت پر جہنم کا گمان ہوتا ہے اللہ اور رسول کے نام پر جو جو کچھ پاکستان میں ایک عرصہ سے ہوتا چلا آ رہا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہی تو ہے کہ آج ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ پاکستان میں اگر یہ سلسلہ اب ختم نہ ہوا تو کوئی بعید نہیں کہ اب یہ ملک ہی ختم ہو جائے ۔ دنیا کی کسی بھی قوم نے آج تک اپنے مذہب کی اس درندگی سے تذلیل نہ کی ہو گی جتنی پاکستانی قوم عملی طور پر کرتی چلی آ رہی ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ کی ایک بھی صفات آج ہم میں موجود نہیں مگر ہاں اس کے نام پر کھلواڑ کرنا خوب جانتے ہیں۔ غصہ، نفرت، بے صبری ، حسد، قتل، بد عنوانی، رشوت خوری ، ریاکاری ، جھوٹ ، مکاری ، عیاری، زنا ، بد کاری ، بے حیائی ، توہین ،کون سی برائی ہے جو آج ہم میں نہیں۔ توہین رسالت کی مرتکب تو ہم خود ہیں۔ ہر گلی کی نکڑ پر اس قوم کی ماؤں بہنوں کی عزت تار تار کی جاتی ہے ،مگر وہاں غیرت ایمانی جوش نہیں دکھاتی۔ طاقت اور دولت کے لئے خدا سے زیادہ بندوں کی عبادت کرتے تو وہاں بھی مذہبی جنوں جوش میں نہیں آتا ،اگر محمد نام والے وزیٹنگ کارڈ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے سے توہین رسالت ممکن ہے تو پھر آدھا ننانوے فی صد پاکستانی قوم توہین رسالت کی مرتکب اور موت کی سزا حقدار ہے ۔ کیوں کہ جس طرح ہر پاکستانی اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نہ کسی صفاتی نام کو لگانا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے اسی طرح ہر پاکستانی ایک دوسرے کو گالیاں دینا بھی اپنا اخلاقی حق گردانتا ہے تو کسی بھی ایسے شخص کو گالی دینا بھی تو توہین رسالت ہی ہوئی نہ۔ اس حساب سے پھانسیوں کی تعداد تو اندازے سے کہیں زیادہ ہے اور طالبان بہت کم ۔قانون کی کیا بات ہے ہم تو وہ منافق قوم ہیں جو انسانوں کو ازار دینے کے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن جیسا لائحہ عمل ہے ۔ہم نے اس میں سے بھی فساد برپا کرنے کے حیلے ڈھونڈ رکھے ہیں ۔ہماری آنکھوں میں بہتے لہو کا منظر جچ گیا ہے، انسانی لہو کی ارزانی کا عالم نہ قابل بیان ہو چکا ہے ،ہم وہ گستاخ قوم ہیں کہ دن رات پیغمبر اسلامﷺ کی تعلیمات کی گستاخی کرتے ہیں، لیکن جب کہیں کسی کا خون بہانا مقصود ہو تو یکدم سچے اور پکے مسلمان بن جاتے ہیں ۔اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔   اپنی اپنی جنت ہے کسی کو غازی بن کے مل جاتی ہے تو کسی کو شہید ہو کر ۔ایسے میں اب  ضرورت کسی مسیحا کی نہیں بلکہ فقط ایک ایسے مصطفی کمال اتاترک کی ہے جس کی نظر سے  بیرونی داڑھیوں کے ساتھ ساتھ اندرونی بھی نہ بچ سکیں ۔ کہ مر تو ہم کب کے چکے ہیں اب تو بس لاش گل سڑ رہی ہے ۔گورکن کی ضرورت ہے جو ہماری اس لاش کو اتنا گہرا دفنا دے کہ اس کے تعفن کی بد بو اور برے اثرات سے باقی دنیا محفوظ رہ سکے ۔ بھارتیوں کو آج حقیقت میں قائد ا عظم کا شکر گزر ہونا چاہیے کہ جنہوں نے کمال تجربہ کاری سے سارے ہندوستان کے ان پڑھ جاہل بیوقوف اور بزدل ایک جگہ اکٹھے کر کے باقی دنیا کو پہچاننے کی سہولت دے دی ۔ کیوں کہ ایسی قومیں جو تہذیب و تمدن اور درد و گداز جیسی قدروں سے نا آشنا ہو جائیں وہ بلآخر اپنی موت آپ مر جاتی ہیں ۔ تاریخ میں ان کا نام صرف عبرت حاصل کرنے کے کام آتاہے اور آنے والی نسلیں اور تہذیبیں ہماری کرتوت بھی اپنے بچوں کو عبرت حاصل کرنے کے لئے سنایا کریں گی کہ جو مظالم آج ہم مذہب کے نام پر ڈھا رہے ہیں عنقریب ہی تاریخ کا مورخ چنگیز خان ، ہلاکو خان اور ہیروشیما ناگاساکی بھول جائے گا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *