پاکستان کی پہلی خوش قسمت اسمبلی

Share Article

اعجاز حفیظ خان
سولہ مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا ۔اس دن پہلی بار کسی قومی اسمبلی نے اپنی مدت کار پوری کی ۔ماضی میں ڈکٹیٹروں کے لاڈ پیار کی وجہ سے ہماری جمہوریت کونفرت کے سوا کچھ نہیں ملا ہے ۔شاید اسی لئے آج بھی ’’وہی ہم ہیں ،وہی غم ہیں ۔لیکن 16مارچ شفا دے گیا ۔پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر قومی اسمبلی کو تحلیل کر کے اپنا ایک وعدہ پورا کر دیا ۔ وعدہ شکنی کا ہر الزام میاں نواز شریف، زرداری صاحب کے نام کرتے ہیں۔خود اُن کی ’’پاس داری ‘‘ …اُنہوں نے لندن کی خوشگوار شاموں میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ مشرف کے کسی ساتھی کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے اور آج اُن کی اکثریت سے ہی اُن کی جماعت میں رونق ہے۔ اس بات کو یوں کہہ دیتے ہیں کہ اُن کی پرانی سوچ کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ اُن کے لئے دعا کرتے ہیں۔ دعا اور شفا کی تو ہر کسی کو ضرورت ہوتی ہے ۔ہماری سیاست میں اس سے بھی زیادہ شاید وفا کی ضرورت ہے۔ بہرکیف پارلیمنٹ کابروقت تحلیل ہونا پچھلے پانچ برسوں کا سب سے اہم سیاسی واقعہ ہے ۔میاں نواز شریف صاحب اُس دن بھی لندن میں تھے ۔کیا اسے حُسن ِ اتفاق کہیں گے کہ ہر اہم سیاسی ایونٹ پر وہ ملک سے باہر ہوتے ہیں ؟دنیا ویسے بھی ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔اس سے ’’مستفید ‘‘ ہونے میں بھلا کیا حرج ہے ۔بس تھوڑا سا گلہ اس پر ہے کہ خود کو نجات دہندہ سمجھنے والے کو اہم موقع پر ملک میں ہونا چاہیے ۔اس سے اُن کی پار ٹی کا حوصلہ کچھ اور بڑھ جاتا ۔اگر کسی کو اپنی پارٹی کو بھی ٹی پارٹی سمجھ کر چلانا ہے تو اُن کی اس ادا کو کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟ویسے بھی ہماری سیاست میں دشمنوں سے زیادہ دوستوں سے خطرہ ہوتا ہے ۔معاف کیجئے گا!ہمارے یہاں ہاتھ ملانے کے بعد یہ بھی دیکھنا پڑ جاتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنے ساتھ بھی ہے۔ سابق ارکان اسمبلی اب اپنے اپنے آبائی علاقوں  میںچلے گئے ہیں ۔شروع کے دنوں میں وہ  اپنے حلقوں کے مرحومین کے ورثاء کے ساتھ کچھ وقت گزاریں گے ۔ زچہ بچہ کی خیریت بھی دریافت کریں گے ۔اپنے بزرگوں کی دعائوں سے فیض یابی کے لئے اُن کے حضور پیش ہو ں گے ۔اُن کے ڈیرے کی رونقیں بحال ہو جا ئیں گی۔ پورا حلقہ ایک میلہ کا سا سماں پیش کرے گا۔اِن سب کو ہم الیکشن کی کرامات کہیں گے ۔ دوسری طرف اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں خاموشی چھا گئی ہے ۔ شکر ہے کہ کسی بہانے سے اُسے کچھ آرام تو ملا۔ہر وقت کی کاوشیں ہوں یا سازشیں،ان سے بھی دل بھر جاتا ہے ۔کبھی کبھی شک سا ہونے لگتا ہے کہ اسلام آباد پر کسی آسیب کا سایہ ہے ۔تبھی تو اُس کے ویرانوں میں بھی غلام گردشیں ہوتی ہیں ۔کبھی کہا جاتا تھا کہ شام کے بعد اُس کی سڑکیںسنسان ہو جاتی ہیں ۔دو تین بار ہمیں بھی شام کے بعد کے مناظر دیکھنے کو ملے ۔ہم نے تو ان کا ’’رخ ‘‘کسی اور دنیا کی طرف مڑ  تے دیکھا ۔وہاں کی شام کسی نہ کسی کے نام پیام لئے ہوتی ہے۔صبح کا پتہ اُس دنیا سے باہر نکلنے پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اپنے اپنے علاقوں میں سورج کو دیکھ کر اسلام آباد سے عارضی طور پر ہجرت کرنے والے ہمارے سابق ارکان پر کیا گزرتی ہو گی ؟
اُن کے ووٹرز بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھولا ہوا گھر لوٹ آیا ہے ۔ بڑے بڑے رتبے اور عہدے والے کی آ خری آرام گاہ اُن کا آبائی قبرستان ہی ہوتا ہے ۔سب نے ایک دن مٹی میں مٹی ہو جانا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ زندگی کو اس  دھول کے سپرد کر دیا جائے ۔ہمارے یہاں تو پہلے ہی آلودگی سے دم گھٹا جاتا ہے ۔پاکستان میں اس سے بھی زیادہ سیاسی آلودگی ہے ۔اس بار آئین کی دفعات 62اور63کے بڑے چرچے ہیں ۔ہمیں اس بات پر قطعاًحیرت نہیں کہ ان کا نفاذ وہ لوگ کر رہے ہیں ،جو خود اس پر پورا نہیں اترتے ۔دوہری شہریت کے حوالے سے بھی یہی ہوا۔صرف ارکان ِ پارلیمنٹ کیوں ؟کیا باقی کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں ؟اپنے لئے سائے اور دوسروں کے لئے دھوپ… الیکشن کے دنوں میں تو دھوپ کا روپ …کاش کہ 62فیصد پاکستان پر حکمرانی کرنے والی میاں نواز شریف کی حکومت نے بجلی کا کوئی ایک آدھ منصوبہ ہی بنادیا ہوتا ۔اوپر سے اب دوتہائی اکثریت کے خواب ۔ عرض ہے کہ پہلی جتنی نشستیں ہی مل جائیں ،وہ بھی غنیمت ہوں گی۔یہ بھی کسی شغل سے کم نہیں کہ اِن کا ہر منصوبہ کرپشن سے پاک تھا۔ اس کا سرٹیفکیٹ ایک ایسے ادارے کی طرف سے دیا گیا ،جس کی ایمانداری شک کے دائرے میں ہے ۔
2008ء کے دن یاد آرہے ہیں ۔حکومت سازی کے لئے جیسے توبہ سازی کے کئی کارخانے کھل گئے تھے۔ معافیاں ،تلافیاں ،یقین دہانیاں … وہ بھی کیا دن تھے ۔ سیاست دان ایک دوسرے سے گلے لگ رہے تھے لیکن اُن کے دل…اور پھر آہستہ آہستہ حکومتی سائے پھیلنا شروع ہو گئے اور عوام کے نصیب میں اندھیرے بڑھنے لگے۔ نظر تو یہی آ رہا  ہے کہ الیکشن کے بعد وہ  دن پھر سے لوٹ آئیں گے۔گزشتہ پانچ سالوں میں زرداری صاحب سب کی نظروں میں رہے ۔شاید اسی وجہ سے وہ کسی کی بھی نظر لگنے سے بچے رہے ۔’’دسمبر آ رہا ہے ‘‘…کئی دسمبر آئے اور چلے گئے ۔زرداری صاحب کی صدارت جاری رہی اور ابھی بھی جاری ہے ۔ہوسکتا ہے کہ اگلے بھی مسافر وہی ہوں ۔کوئی کتنے بھی بڑے عہدے یا رتبے پر ہو ،جب تک اُس کی آخری منزل نہیں آجاتی ،وہ مسافر ہی کہلائے گا۔ ہر کوئی اس سفر میں رہتا ہے لیکن وہ سوچتا کیوں نہیں ہے؟ اب کوئی سوئس مقدمات کی بات ہی نہیں کرنا ۔پہلے تو یہ حال تھا کہ کوئی بھی ٹاک شو ہو یا ’’واک شو‘‘، سوئس مقدمات بھی اس کے شانہ بشانہ چلتے تھے ۔اس کا ڈراپ سین کچھ اس طرح سے ہوا کہ اس سے سب کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔معا ف کیجئے گا !شہرت بازی کے چکر میںہمارے بڑے کیسی کیسی بازی ہار گئے ۔کہا جاتا ہے کہ عشق پر کسی کا زور نہیں چلتا ۔عرض ہے کہ ہماری سیاست پر بھی سیاست دانوں کو زور نہیں ۔بڑے بڑے ہیوی ویٹ اس کے پیچھے ہوتے ہیں ۔رحمان ملک صاحب بھی اِ ن لوگوں کے ٹارگٹ پر رہے اور ہیں ۔ساتھ ساتھ وہ دہشت گردوں کے بھی ٹارگٹ پر ہیں ۔بہت سے رشتے سمجھ میں آرہے ہوتے ہیں لیکن بیان نہیں ہو پاتے ۔ آخر میں ایک سوال کہ پہلی خوش قسمت قومی اسمبلی کے اثرات پاکستان کی آنے والی سیاست پر بھی خوش آئند ہوں گے؟
نوٹ !کالم نگار پاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *