Photo-for-pakistan-america
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو اکثر دل جلے عاشقوں کے رشتے سے تشبیہ دی جاتی ہے جن کی محبت نہ ختم ہوتی ہے نہ پروان چڑھتی ہے۔ان دونوں ممالک کی دوستی ایسی ہے کہ نہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل وفا کر سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی حالات انھیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف باندھنے دیتے ہیں۔مگر حال ہی میں دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن کی حدت اس قدر شدید تھی کہ ماضی قریب میں ان کی مثال نہیں ملتی۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں جو بیان دیا اس میں ان کا اشارہ یہ تھا کہ پاکستان تو بن لادن کو چھپائے بیٹھا تھا، اور ہم سے اربوں روپے لے کر ہمیں صرف دھوکہ ہی دیتا ہے۔ادھر پاکستانی حکومت بھی یہ سن کر خاموش نہ رہ سکی۔وزیراعظم عمران خان، پاکستانی دفترِ خارجہ اور پاکستان کی بری فوج کے سربراہ سب نے پے در پے دنیا کو پاکستانیوں کی قربانیاں یاد دلانے کی کوشش کی۔میاں بیوی جیسی اس لڑائی میں کہیں طلاق کا تو کوئی امکان نہیں ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ یہ ہے کہ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پر نشانہ۔

مبصرین کہتے ہیں کہ یہ بیانات دونوں سربراہان نے اپنے داخلی حمایتیوں کے لیے دیے ہیں۔’ ڈونالڈ ٹرمپ اور عمران خان یہ نہیں سوچ رہے کہ وہ ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ صرف اپنے حمایتیوں کی نظر میں بہترین بیانات دے رہے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی ساکھ اپنے عوام میں تیزی سے گر رہی ہے۔ ان پر مسلم ملک سعودی عرب کی خاشقجی کے معاملے میں بے جا حمایت کا بھی الزام لگ رہا ہے ۔ایسے میں وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پر ایک نشانہ لگا کر سعودی عرب سے لوگوں کا دھیان پھیر دیا جائے۔دوسری طرف عمران خاں کی حکومت کی طرف سے ٹرمپ کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرکے یہ دکھایا گیا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ نواز نہیں ہے۔ ضرورت پڑی تو امریکہ کو بھی سخت جواب دیا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ دونوں سربراہان اپنے اپنے حامیوں کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کے بیان دے رہے ہیں اور یہ میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here