پاکستان میں نئی فوجی عدالت : دہشت گردوں میں اچھے و برے کی تقسیم

Share Article

وسیم احمد
p-8bپاکستانی قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں21ویں ترمیم کی متفقہ طورپرمنظوری دے دی ہے اورآرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کا بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔اجلاس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں سے تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلامی نے شرکت نہیں کی۔
بل کی منظوری ایوان میں موجود تمام 247 ارکان نے دی اور کسی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ تاہم تحریک انصاف ، جے یو آئی(ف) اور جماعت اسلامی کے ارکان ایوان سے غیر حاضر تھے۔بل سینیٹر پرویز رشید نے پیش کیا تھااور ایوان سے ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی۔ 21ویں ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا، اس بل کو بھی ایوان میں دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔بل کی منظوری کے لیے 228ووٹ درکار تھے جبکہ ارکان میں 240 سے زائد ارکان نے پیش کی گئی ترامیم کی منظوری دی۔یہ بل فوجی عدالتوں کے قیام ، ان کے دائرے اور قیام کی مدت سے متعلق ہیں۔
پاکستان کی زمین پر جس طرح سے دہشت گردی جنم لے رہی تھی ،اسے دیکھتے ہوئے اس طرح کی بل کی سخت ضرورت تھی۔خاص طور پرپشاور اسکول حادثے کے بعد اس طرح کی ترمیم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی۔لیکن اس ترمیم کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے طالبان کی طرح اب دہشت گردوں کو بھی دو زمروں میں بانٹ دیا ہے ۔ ایک اچھا دہشت گرد اور دوسرا برادہشت گرد۔ برا دہشت گرد وہ ہے جو اس ترمیم کی تشریح کے ماتحت آتا ہے ۔ایسے دہشت گرد کا فیصلہ فوجی عدالت کرے گی اور اسے سزا ئے موت دی جائے گی اور جو دہشت گرد اس تشریح کے ماتحت نہیں آئیں گے وہ اچھا دہشت گرد ہوگا۔
ترمیم 2015 میں کہا گیا ہے کہ ملک میں غیر معمولی حالات ہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے والوں کے مقدمات کی تیز ترین سماعت کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں ۔بل پیش کرنے سے پہلے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’پاکستان میں اس وقت نارمل صورتحال نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام، ادارے، لیڈر شپ، اپوزیشن، پاکستان کا بچہ بچہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، فوجی عدالتیں جب بھی دنیا میں بنی یا تو جنگ کی صورتحال میں بنی یا جنگ کے بعد اور اس وقت پاکستان جنگ کی صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔۔‘ لہٰذا اس بل کو لایا جارہا ہے جس کا مقصدد ہشت گرد گروپوں کی جانب سے مذہب یا فرقہ کا نام لے کر ہتھیار اٹھانے والوں کو سزا دی جاسکے گی اور مقامی اور غیر ملکی امداد کے حصول سے ان عناصر کو روکا جاسکے گا۔ اسی طرح دہشت گرد گروپ سے بر سر پیکار آرمی پر حملہ کرنے والے گروپ کے ٹرائل کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ اس ترمیمی بل کے بعد کسی بھی دہشت گرد گروپ یا اس سے تعلق رکھنے والے شخص جو مذہب یا مسلک کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا یا مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر حملہ کرے گا ،کسی سول یا فوجی تنصیبات پر حملہ میں ملوث ہوگا یا اغواکرکے کسی شخص کو قتل یا زخمی کرے گا ‘ بارودی مواد کی نقل و حمل اور اسے ذخیرہ کرنے میں ملوث ہوگا‘ خودکش جیکٹس یا گاڑیوں کی تیاری میں ملوث ہوگا یا کسی بھی قسم کے مقامی یا عالمی ذرائع سے فنڈنگ فراہم یا مہیا کرے گا‘ اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں ملوث ہوگا تو اس کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاسکے گی۔ یہ ترمیم دو سال تک کے لئے موثر رہے گی اور دو سال بعد یہ ازخود منسوخ تصور کی جائے گی۔
اس ترمیمی بل میں جو تشریح پیش کی گئی ہے اس کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب دہشت گردانہ عمل انجام دیئے جانے کے بعد پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ دہشت گردی کس نوعیت کی ہے۔اگر دہشت گردانہ عمل مذہب کا نام لے کر انجام دیا گیا ہے تب تو وہ دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا اور الزام ثابت ہوجانے کے بعد ایسے مجرم کو سزائے موت دی جائے گی اور اگر مذہب کے نام پر نہیں ہے تو اس کا فیصلہ عام عدالتوں میں ہوگا ۔یہ تشریح بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص علاقائی ، نسلی یا کسی دوسری وجہ سے کسی کو مار دیتا ہے،پولیس پر حملے کردیتا ہے،کالج کے بس پر حملے کردیتا ہے ،بس کے سواروں کو نکال کر گولیوں سے بھون دیتا ہے،کسی محلے میں گھستا ہے اور گھروں کو آگ لگا کر نکل جاتا ہے ،اگر اس نے یہ سب مذہب کا نام لے کر نہیں کیا ہے تو ایسے دہشت گرد کا مقدمہ خصوصی عدالت میں نہیں بھیجا جاسکے گا کیونکہ اس نے یہ خون خرابہ مذہب کے نام پر نہیں کیا ہے بلکہ کسی ذاتی یا علاقائی انتقام کی بنیاد پر انجام دیا ہے۔ایسے مجرموں کو خصوصی عدالت کے بجائے عام عدالتوں میں بھیجا جائے گا اور اسے پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکے گی۔
اس ترمیم میں دہشت گردوں کو مقامی یا عالمی طریقے سے حاصل ہونے والی امداد پر روک لگانے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ یقینا دہشت گرد، دہشت گرد ہوتا ہے اور اس کو مقامی یا عالمی امداد ملنا ملک کے امن کے لئے خطرہ ہوتا ہے لیکن اس میں ایک دوسرے اہم پہلو پر توجہ نہیں دی گئی، وہ یہ کہ اگر ملک کا کوئی گروپ یا ادارہ بیرون ملک میں جاکر دہشت گردی انجام دیتا ہے اور پھر ملک میں آکر پناہ لیتا ہے تو ایسے ادارے کے مقدمے کو خصوصی عدالت میں پیش کرنے کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنے والوں کا فیصلہ عام عدالتوں میں ہوگا اور انہیں سزائے موت نہیںدی جائے گی۔لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا ہے کہ اس بل نے دہشت گردوں کو دو طبقوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ ان میں سے برے دہشت گرد کا فیصلہ خصوصی عدالت میں ہوگا اور جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا دی جائے گی جبکہ دوسرے طبقے کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ وہ اچھے دہشت گرد ہیں۔
دہشت گردی تو دہشت گردی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں اور کسی بھی جگہ پر انجام دیا گیا ہو۔ اس میں انسانیت کا قتل ہوتا ہے۔ لہٰذا جرم ثابت ہونے پر ان کی سزا موت ہی ہونی چاہئے۔البتہ جس طرح سے دہشت گردی کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے، اسی طرح سے سزائے موت کے طریقے بھی الگ الگ کئے جاسکتے ہیں ۔دہشت گردی کا ایک طریقہ وہ ہے جو پشاور اسکول، زیارت ریذیڈینسی،کوئٹہ کالج بس حملہ وغیرہ جیسے حملوں میں مجرم کی سزا عبرتناک ہونی چاہئے اور انہیں شاہراہ پر انتہائی ذلیل و خوار کرکے پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے اور ایک وہ دہشت گرد وہ ہیں جو کسی کے گھر کو جلا دیتے ہیں،کسی پاکدامن عورت کی عزت کو تاتار کردیتے ہیں تو ایسے مجرموں کو بھی سزائے موت ہی دی جانی چاہئے ، البتہ اس سزا کو جیل کی چہار دیواری کے اندر انجام دیا جاسکتا ہے۔لیکن جب دہشت گردوں کے بیچ اچھے اور برے کی تفریق کردکی جائے گی اور ان دونوں کی سزائوں کے لئے الگ الگ عدالتیں قائم ہوں گی تو اس طریقے سے مولانا فضل الرحمن صاحب جیسے مذہبی لوگوں کو اس ترمیمی بل کی مخالفت کرنے کا موقع توملے گا ہی اور انہیں یہ کہنے کا حق مل جائے گا کہ مذہب کو زبردستی دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔ اس لئے دہشت گردی میں مذہب کی شق شامل کرنے کے بجائے اس کی تشریح کو عام رکھنا چاہئے اور دہشت گردی جس شکل میں بھی انجام دیا جائے، اس کے لئے خصوصی عدالت قائم کرنے کے بجائے ملک میں پہلے سے ہی جو عدالتیں قائم ہیں اور دہشت گردی کے تعلق سے جو قوانین بنے ہوئے ہیں اسی کو با اثر بناکر سختی سے اس پر عمل ہونا چاہئے۔
البتہ اس ترمیم میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ اقلیتوں کو تحفظ دینے کی ضمانت دی گئی ہے اور اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں ملوث ہونے پر سخت کارروائی کرنے اور اس مقدمے کو خصوصی عدالت میں لے جانے کی تشریح کی گئی ہے۔
بہر کیف اس ترمیم کا تعلق پاکستان کے اندرونی معاملات سے تعلق رکھتا ہے ۔ لہٰذا اسے حق حاصل ہے کہ اپنے قوانین میں جس طرح چاہے فیصلہ کرے،لیکن جب پاکستان کی حکومت پوری دنیا میں ڈھنڈورہ پیٹ کر یہ کہتی ہے کہ اس نے اپنے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کمر کس لیا ہے اور اب وہ اپنی زمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کرکے دم لے گی تو فطری طور پر دنیا کی نظریں پاکستان پر لگ جاتی ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ پاکستان اندرونی ملک دہشت گردی روکنے کے ساتھ اپنی زمین سے بیرون میں انجام دیئے جانے والی دہشت گردی کو روکنے کے لئے بھی اس ترمیم میں کوئی شق شامل کرے گی،لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔جس کی وجہ سے مایوسی ہوئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان جس دہشت گردی کو مٹانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے اس میں شاید کامیاب نہ ہو پائے کیونکہ نہ صرف اندرونی ملک دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے بلکہ ان کے خلاف بھی لڑنے کی ضرورت ہے جو پاکستان کی زمین پر رہ کر بیرون ملک اس مذموم عمل کو انجام دیتے ہیں۔ g
وسیم احمد

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *