پاکستان کی مکاری: شکار ہندوپاک کے مسلمان

Share Article

وسیم راشد
پاکستان اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کا مرکز سمجھا جارہا ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ملک جس کو جناح اور مسلمانوں کی آرزوئوں اور تمنائوں کی بدولت وجو د ملا وہ اس وقت اپنی اصلی شناخت کھو چکا ہے ۔ وہ ملک جو مذہب اسلام کو بنیاد بنا کر قائم ہوا تھا،جس مذہب میں مساوات، اخوت ، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام دیا جاتاہے ،آج وہی ملک مذہب سے دور ، دنیا کی نظر میں نفرت کا ملک بن گیا ہے اور اس کے ذمہ دار اس ملک کے نام نہاد رہنما ہیں، جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے اس عظیم ملک کو بیچ دیا۔کتنے تعجب کی بات ہے کہ اتنا بڑا دہشت گرد جس نے ہندوستان کے ممبئی جیسے بڑے شہر میں دہشت گردی کا ننگا ناچ کرایا، اس کا کنٹرول پاکستان کے ایک شہر سے ہورہا تھا اور اس ملک کی خفیہ ایجنسی کو کوئی ہوش ہی نہیں تھا ۔ابو جندال عرف ابو حمزہ عرف ریاست علی اور نہ جانے کتنے فرضی نام ہیں اس دہشت گرد کے۔وہ 25 جون کو دہلی کے انٹرنیشنل ہوائی اڈہ سے گرفتار کیا گیا۔اس کی اصل شناخت کیا ہے۔ اس کے بارے میں ہر اخبار میں بے شمار بیانات ہیں مگر یہ ابو حمزہ یا ابو جندال آخر ہے کون؟

رحمن ملک نے اس قدر غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔بہر صورت دونوں صورتوں میں رحمن ملک کو بتا نا پڑے گا کہ جس شخص کو 2009 میں گرفتار کیا گیا،وہ جیل سے باہر کیسے آیا اور ریاست علی نام کا پاکستانی پاسپورٹ اسے کیسے ملا؟وہ سعودی عرب کیسے پہنچا۔اگر یہ وہی آدمی ہے جو 26/11 کو کنٹرول روم میں تھا تو پاکستان سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کنٹرول رو م میں اکیلا یہی ابو جندال عرف ریاست علی عرف ابو حمزہ ہی تو نہیں ہوگا بلکہ اور لوگ بھی ہوں گے۔

یہ پاکستان میں کیا کر رہا تھا ۔ پاکستان سے اس کا کیا رشتہ ہے؟اس کے پکڑے جانے سے پاکستان کو بہت پریشانی ہورہی ہے جبکہ پاکستان کی حکومت ،وہاں کا نیٹ ورک سب ان دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ابو حمزہ ،ابو جندال، ابو باری ،اس طرح کے نام یقینا اصلی نہیں ہوتے ہیں۔دنیا بھر میں جتنے بھی جہادی آرگنائزیشن ہیں ،جو بھی اس طرح کے کام کرتے ہیں ۔ان کی شناخت بچانے کے لئے اسی طرح کے نام دیے جاتے ہیں ۔دراصل اس طرح کے نام کنیت ہوتے ہیں جو عربوں میں رکھنے کی روایت قدیم دور سے ہے۔ ابو جندل کا نام سب سے پہلے تامل ناڈو میں 2002 میں آیا جب مسلم ڈیفنس فرنٹ آرگنائزیشن کے کچھ لوگ پکڑے گئے ،جنہوں نے بتا یا کہ ان کو ساری ٹریننگ ابو جندال نام کا آدمی دے رہا ہے۔ دوسری بار ابو جندال کا نام ممبئی ٹرین بلاسٹ میں آیا ۔پھر ممبئی 26/11 کے دوران سامنے آیا۔ قصاب نے اپنے بیان میں بتا یا کہ 6 لوگ جو اسے ہندی سکھانے والے تھے ان میں ایک نام ابو جندال کا بھی تھا لیکن پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک صاحب شاید بھول گئے کہ انہوں نے 12 فروری 2009 میں پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھاکہ پاکستان اس میں بہت کوآپریٹ کررہاہے اور 6 لوگ پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ جس کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ابو جندال نام کا شخص بھی شامل ہے۔ لیکن یہ بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ یہ نام اصلی نہیں ہے تو اس وقت رحمن ملک صاحب نے اصل نام کیوں نہیں بتا یا۔ ابو جندال تو فرضی نام ہے ،رحمن ملک صاحب کو چاہئے کہ وہ اس وقت اصلی نام بتاتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ابو جندل کے جو کئی نام ہیں وہ ایک ہی شخص کے ہیں یا الگ الگ ہیں۔ رحمن ملک نے اس قدر غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔بہر صورت دونوں صورتوں میں رحمن ملک کو بتا نا پڑے گا کہ جس شخص کو 2009 میں گرفتار کیا گیا،وہ جیل سے باہر کیسے آیا اور ریاست علی نام کا پاکستانی پاسپورٹ اسے کیسے ملا؟وہ سعودی عرب کیسے پہنچا۔اگر یہ وہی آدمی ہے جو 26/11 کو کنٹرول روم میں تھا تو پاکستان سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کنٹرول رو م میں اکیلا یہی ابو جندال عرف ریاست علی عرف ابو حمزہ ہی تو نہیں ہوگا بلکہ اور لوگ بھی ہوں گے۔خود ابو جندال نے یہ قبول کیا ہے کہ موہالی ٹیسٹ میں اس کی پلاننگ بم بلاسٹ کرنے کی تھی ۔ اس کے علاوہ ورلڈ کپ سیمی فائنل، میں بھی اسے بلاسٹ کرنے تھے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مکہ مسجد اور احمد آباد دھماکے بھی اسی ابو جندال نے کئے تھے۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ یہ ابو جندال پاکستان سے سعودی عرب کیسے پہنچ جاتا ہے۔12 فروری 2009 کو جو ابو جندال گرفتار ہوا تھا ،کیا وہ یہ ابو جندال نہیں تھا۔رحمن ملک جس طرح غلط بیانی کر رہے ہیں ،کیا یہ ضیاء الدین انصاری عرف ابو حمزہ کو جیل سے باہر نکالا گیا اور سعودی عرب میں رہنے سہنے کے انتظامات کیسے ہوئے؟یہ ایسی گتھی ہے جو صرف پاکستان ہی سلجھا سکتا ہے۔ ہماری ناقص عقل یہکہتی ہے کہ جب قصاب نے ابو جندال کا نام لیا ہوگا تو ضیاء الدین انصاری کو ریاست علی بنا کر سعودی عرب بھیج دیا گیا ہوگا۔
یہ گتھی جب سلجھے گی تب سلجھے گی، لیکن اس کی گرفتاری نے سربجیت سنگھ کی سزائے قید پر یقینا اثر ڈال دیا۔ پاکستان ایسی گڈے گڑیا کی ریاست بن گیاہے جہاں کوئی قانون نہیں ،کوئی آئین نہیں ۔ بس جو جس کو جیسا لگ رہا ہے بول رہا ہے۔ بتائیے کتنے تعجب کی بات ہے کہ سربجیت کی رہائی کا اعلان ہوتاہے اور قرعہ نکلتا ہے سرجیت سنگھ کے نام کا۔ کیا یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ اتنے بڑے ملک کے صدر سے غلطی ہوگئی ہو۔ کسی بھی نام پر مہینوں بحث ہوتی ہے ،اسے قانونی شکل دی جاتی ہے اور پھر اس کے نام کا اعلان ہوتا ہے اور رہائی ہوتی ہے دوسرے شخص کی،کیا مذاق ہے یہ۔یہ جمہوریت کا مذاق ہے یا حکومت کی نااہلی کا ثبوت۔کچھ بھی ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے اپنا وقار کھو دیا ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ وہاں آئی ایس آئی اور فوج پوری طرح آپس میں مل چکی ہیں کیونکہ جس سرجیت سنگھ کو رہا کیا گیا ہے وہ تو 1982 سے پاکستان کی جیل میں ہے اور اس کی سزائے موت 1989 میں بے نظیر بھٹو کے دور میں صدر غلام اسحاق خان نے عمر قید میں بدل دی تھی اور اس کی سزا پانچ سال پہلے 2008 میں ختم ہوگئی پھر اس کی رہائی پہلے کیوں عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس کے لئے تو پاکستان کے صدر کی طرف سے معافی دینے اور رہائی کی ضرورت نہیں تھی ۔ اس کے لئے تو پاکستان کی عام عدالت بھی فیصلہ کر سکتی تھی ۔خیر جو بھی بات رہی ہو۔پاکستان کے ایسے بچکانہ جھوٹ نے اس کی شبیہ کو مزید خراب کرکے رکھ دیا ہے ۔ دونوں ممالک کو ان سب سے فرق پڑے یا نہ پڑے مگر دونوں ملکوں کے عوام کو ضرور ان تمام باتوں سے فرق پڑے گا ۔ سب مزے میں رہیں گے ،وہاں کی حکومت، وہاں کے لیڈران ، وہاں کے افسران ،یہاں کے بڑے بڑے عہدیداران ، مگر فرق عام آدمی پر پڑے گا۔ویسے ہی ویزا بہت مشکل سے ملتا ہے ۔پاکستانی سفارت خانے سے تو تھوڑی سی راحت مل جاتی ہے مگر ہندوستانی سفارت خانہ وہاں کے مسلمانوں کو بہت ہی مشکل سے ویزا الاٹ کرتا ہے۔دونوں ممالک میں کوئی گھر ،کوئی خاندان ایسا نہیں ہے جن کا کوئی رشتہ دار ایک دوسرے ملک میں نہ ہو مگر ترس رہے ہیں لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے اور اب شاید یہ خلیج مزید بڑھ جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *