پاکستان کی خود مختاری پر حملہ

Share Article

راجیو کمار
امریکہ اور پاکستان کے بیچ پھر سے تنائو پیدا ہوگیا ہے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ آئی ایس آئی کے رشتوں کو لے کر دونوں کے مابین تلخیاں ابھی دور بھی نہیں ہوئی تھیں کہ ایک نیا ایشو سامنے آگیا ہے۔نیٹو نے ہیلی کاپٹروں سے پاکستان کے قبائلی علاقے موہمند کی سلاتا چوکی پر حملہ کردیا۔جس میں دو افسر سمیت 25  پاکستانی فوج مارے گئے۔ پاکستان کی یہ چوکی افغانستان کی سرحد سے تقریبا 2.5 کلو میٹر دور ہے۔ نیٹو کی اس کارروائی نے پاکستان کو بری طرح جھنجھوڑ دیا ہے۔اس حملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے لے کر عوام تک سب نے سخت رد عملظاہر کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم رضا گیلانی نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے اتحاد اور اس کی آزادی پر حملہ ہے۔ فوجی چیف  اشفاق پرویز کیانی  نے کہا کہ اس غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا سخت جواب دینے کے لئے سبھی ضروری اقدام کیے جائیں گے۔غرض پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے اس حملے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ اس بار نیٹو کو اس حملے کا سخت انجام بھگتنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں لگ بھگ آٹھ حملے ہوئے  ہیں، جن میں افسران سمیت 72 فوجی  مارے جا چکے ہیں اور 250 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ نیٹو نے  اس حادثے پر گہرے صدمے کا اظہار کرنے کے علاوہ  حادثے کی جانچ کا بھی حکم دیا ہے،لیکن پاکستان فوج کا غصہ کم نہیں ہورہا ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ اس طرح کی یقین دہانی تو پہلے بھی کی جا چکی ہے لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ پہلے 2008-09  اور 2011 میں حملے کیے گئے۔ جن میں 14 فوج مارے گئے تھے اور 13 زخمی ہوئے۔تب بھی جانچ کا اعلان کیا گیا تھا،لیکن جانچ ابھی تک پوری نہیں ہوئی ۔ اس بار پاکستان صرف بیان بازی نہیں کر رہا ،بلکہ اس نے ایکشن بھی لیا ہے۔ اس معاملے پر کیبنٹ کی دفاعی کمیٹی کی ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی، جس کے بعد کہا گیا کہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ سیاسی ،فوجی اور خفیہ ادارے کا جائزہ  لیا جائے گا۔حکومت نے فوری کارروائی کا حکم دیا ، جس کے بعد پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو فوج کے لئے اشیاء خوردنی اور تیل کی فراہمی روک دی گئی۔ ساتھ ہی پاکستان نے امریکہ کو 15 دنوں کے اندر شمسی ہوائی اڈہ خالی کرنے کو کہا ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے افغانستان کے مستقبل پرتذکرہ  کے لئے جرمنی کے بَون شہر میں ہونے والی میٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا  ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان سچ مچ اپنے فیصلے پر قائم رہ پائے گا یا ماضی کی طرح کچھ دنوں تک جذباتی بیان بازیوں کے بعد سب کچھ نارمل ہوجائے گا۔اگر دیکھا جائے تو دونوں کو ایک دوسرے کی  ضرورت ہے۔امریکہ نے بھی کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی  میں اسے پاکستان کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اعتدال لانے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں۔امریکی وزارت خارجہ ، وزارت دفاع اور وہائٹ ہائوس کی طرف سے اس حادثے پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔حالانکہ پاکستان نیٹو سے  معافی مانگنے کی بات کہہ رہا ہے۔ امید یہی ہے کہ نیٹو اس حادثے کے لئے معافی مانگ لے گا اور سب ٹھیک ٹھاک  ہو جائے گا۔ اس سے پہلے 2010 میں جب نیٹو فوج کے ہیلی کاپٹروں نے خرم ایجنسی میں دو پاکستانی فوج کو مار دیا تھا تو اس وقت بھی پاکستان نے 11 دنوں  تک ناٹو فوج کورسد کی فراہمی روک دی تھی۔لیکن بعد میں اسے بحال کردیا گیا تھا۔پاکستان کو امریکی حمایت کی ضرورت ہے ۔ وہ 2002 سے ابھی تک 18 بلین ڈالر کی مدد امریکہ سے لے چکا ہے۔ اس کی مالی حالت اچھی نہیں ہے۔ بھلے ہی پاکستان یہ کہتا رہے کہ وہ امریکی مدد کے بغیر رہ سکتا ہے، لیکن حقیقت کچھ اور بیان کرتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ مجبوری یہ ہے کہ اسے اپنے ملک کے اندر نیٹو کے خلاف ہو رہے مظاہروں اور عوامی احتجاجوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے حملوں کے بعد کچھ دنوں تک سرکار کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ وہ ان معاملوں پر کتنی سنجیدہ ہے۔ اگر پاکستان کو اس کا جواب دینا تھا تو اسے حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹر کو ہی مار گرانا چاہئے تھا یا بعد میں جوابی کارروائی کرنی چاہئے تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، صرف  رسد کی فراہمی کے راستے بند کرنے والا قدم اٹھایا گیا۔ جس سے نیٹو کو پریشانی تو ہوتی ہے، لیکن کوئی مستقل نقصان نہیں ہوتا ہے۔ابھی مصیبت جتنی بڑی دکھائی دے رہی ہے ،حقیقت میں اتنی بڑی ہے نہیں۔جیسے ہی پاکستان میں عوام کا غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہو جائے گا، ویسے ہی ان کا تنائو بھی کم ہونے لگے گا۔ امریکہ اس بات کو جانتا ہے ۔اسی وجہ سے وہ پاکستان کے کسی فیصلے پر سخت رد عمل  ظاہر نہیں کر رہا ہے اور اس کا غصہ کم ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ ادھر چین کی طرف سے جس طرح کا رد عمل آرہا ہے اس سے بھی امریکہ کی مجبوری بڑھ جاتی ہے کہ وہ کسی بھی طرح پاکستان کواپنے خیمے میں رکھے۔ بہر حال تنائو کا یہ موسم زیادہ دنوں تک رہے گا ،ایسی امید نہیں ہے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *