پاکستان کے بعد ہندوستانی سیاست میں سعودی عرب کی دلچسپی کا کیا مطلب؟

Share Article

گزشتہ 17 فروری، 2014 سے ہندوستان میں سعودی وزراء اور دیگر سرکاری اہل کاروں کے علاوہ دینی و علمی شخصیات بشمول امامِ مسجد نبوی، مدینہ منورہ کے لگاتار کئی دورے ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کچھ دورے تو سرکاری سطح پر ہو رہے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر دورے نجی ہیں۔ سعودی عرب کے یہ حضرات جس طرح سے ہندوستان میں مختلف جلسے جلوسوں میں شریک ہو رہے ہیں یا پھر مختلف ہوٹلوں یا مدرسوں وغیرہ میں ہندوستانی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں، اس سے یہ اندیشہ پیدا ہونے لگا ہے کہ کیا سعودی عرب ہندوستانی سیاست میں مداخلت کرنا چاہتا ہے؟ یہ اندیشہ اس وقت اور گہرا ہوجاتا ہے، جب پاکستان کو حال ہی میں سعودی عرب کے ذریعے دی گئی 1.5 بلین امریکی ڈالر کی رقم پر ہنگامہ مچا ہوا ہے۔

ڈاکٹر قمر تبریز

p-3اکیس مارچ، 2010 کو پاکستان کے انگریزی اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ میں ایک چونکانے والی خبر چھپی، جس میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق اہل کار، خالد خواجہ نے انکشاف کیا تھا کہ 1980 کی دہائی میں، جب پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، تو اس وقت وہ سعودی عرب کے شاہی خاندان سے قریبی رشتہ بنانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے خالد خواجہ سے درخواست کی کہ وہ اسامہ بن لادن سے ان کی ملاقات کروائیں، تاکہ اسامہ کے توسط سے نواز شریف سعودی عرب کے شاہی خاندان سے اپنے تعلقات قائم کر سکیں۔ یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی تشکیل سے پہلے اسامہ بن لادن کے سعودی عرب کے شاہی خاندان سے نہایت قریبی تعلقات تھے اور آج بھی اسامہ کے والد کی بنائی ہوئی ’بن لادن گروپ آف کمپنیز‘ سعودی عرب میں حرمین شریفین کے تعمیراتی کاموں کے علاوہ، زیادہ تر سرکاری عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں لگی ہوئی ہے۔ خیر، خالد خواجہ کے مطابق، انہوں نے سعودی عرب میں نواز شریف اور اسامہ بن لادن کے درمیان پانچ میٹنگیں کرائیں، جو مختلف موقعوں پر ہوئیں۔ لیکن، سب سے خطرناک بات خالد خواجہ نے یہ بتائی کہ ایک دفعہ اسامہ نے ایک موٹی رقم انہیں دی اور اسے اُس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف کو دے کر یہ کہنے کے لیے کہا کہ وہ اس پیسے سے اُس وقت کی پاکستان کی بے نظیر بھٹو حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کریں۔ بعد کے دنوں میں وکی لیکس کیبل کی طرف سے بھی اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں 2008 کے عام انتخابات میں سعودی عرب نے نواز شریف کے انتخابی پرچار پر کافی پیسے خرچ کیے تھے۔ ظاہر ہے کہ سعودی عرب کے ذریعے پاکستانی سیاست میں یہ سیدھی دخل اندازی تھی۔
اِس وقت ہندوستان میں بھی پارلیمانی انتخابات کا موسم چل رہا ہے۔ ایسے میں گزشتہ تقریباً دو مہینوں سے یکے بعد دیگرے سعودی عرب کے کئی افسروں، وزیروں اور حرمین شریفین کے اماموں کا ہندوستان میں بار بار آنا اور یہاں کی مسلم تنظیموں کے ذریعے دہلی کے رام لیلا میدان یا پھر آسام کے اندر منعقدہ جلوسوں میں شریک ہونا، اس اندیشہ کو تقویت پہنچاتا ہے کہ سعودی عرب اِس بار ہندوستان کی سیاست میں بھی دخل اندازی کرنا چاہتا ہے۔ یہ اندیشہ تب اور بھی گہرا ہو جاتا ہے، جب سعودی عرب کے ان وزیروں اور اہل کاروں کے ساتھ سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو، اتر پردیش کے وزیر آشو ملک، کانگریس کے کپل سبل، کے رحمن خان اور راجیو شکلا، بہوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سالم انصاری، دہلی کے رکن اسمبلی شعیب اقبال، آصف محمد خان اور آسام سے اے آئی یو ڈی ایف کے رکن پارلیمنٹ بدرالدین اجمل جیسے سیاسی لوگوں کی ملاقاتیں اور بات چیت ہوتی ہے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں سعودی عرب کے مذہبی امور کے وزیر، ڈاکٹر شیخ صالح بن عبدالعزیز آلِ سعود کے دورے کی۔ موصوف اپنے ایک نجی دورہ پر گزشتہ 17 فروری، 2014 کو ہندوستان تشریف لائے۔ دوسرے دن انہیں ہیلی کاپٹر سے دارالعلوم دیوبند لے جایا گیا۔ وہاں کے سفر میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک دھڑے کے صدر مولانا سید ارشد مدنی ان کے ساتھ رہے اور پھر اسی دن شام کو نئی دہلی کے پانچ ستارہ تاج محل ہوٹل کے دیوانِ عام ہال میں مولانا ارشد مدنی نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب اور عشائیہ کا انتظام کیا۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس تقریب میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کو ایک ’دولہا‘ کی حیثیت حاصل تھی۔ یہی نہیں، سعودی عرب کے وزیر نے ہندوستانی مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ مختلف مشرب و مسلک کے لوگوں کو دین اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت و ترقی اور سعودی حکومت کے مفاد کے لیے کسی ایک ایسے نقطہ اور مرکز کو ضرور تلاش کرنا چاہیے، جس کے ارد گرد اجتماعیت کے ساتھ اسلام مخالف تحریکات کا مقابلہ کیا جا سکے اور یہی وہ صورت ہے، جس میں ملک و قوم کی فلاح و بہبود مضمر ہے۔ صالح بن عبدالعزیز نے ہندوستانی مسلمانوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ان لوگوں سے ہوشیار رہیں، جو ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ ’ایکتا منچ‘ (اتحاد فرنٹ) کے قائد اور ندوۃ العلمائ، لکھنؤ کے استاد مولانا سلمان حسینی ندوی کی طرف تھا، جو کہ اب موجودہ سعودی حکومت کے دوست سے دشمن بن چکے ہیں۔ ظاہر ہے، صالح بن عبدالعزیز کی یہ تمام باتیں سیاسی تھیں۔ ملائم سنگھ کی صالح بن عبدالعزیز سے ملاقات کرانے میں مولانا ارشد مدنی نے نمایاں رول ادا کیا۔ ملائم سنگھ کے علاوہ، اُس رات تاج محل ہوٹل میں لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے صدر اور اب پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے میں شامل ہو چکے رام بلاس پاسوان، کانگریس کے ایم پی راجیو شکلا اور سیف الدین سوز، دہلی میں کانگریس کے ممبرانِ اسمبلی ہارون یوسف، آصف محمد خاں اور چودھری متین احمد اور جے ڈی یو کے رکن اسمبلی شعیب اقبال بھی موجود تھے۔ اس اہم نشست میں مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں اور دیگر اہم شخصیات بشمول علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کو بھی بلایا گیا تھا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ ملک و ملت کی اہم شخصیات کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے، تاکہ وزیر موصوف ان سے جو بھی کہنا چاہیں، کہیں۔
اس کے بعد 28 فروری، 2014 کو جس وقت سعودی عرب کے نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیزدہلی میں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی، وزیر اعظم منموہن سنگھ اور دوسرے سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہے تھے، اسی دن مسجد نبوی کے امام اور خطیب ڈاکٹر عبدالمحسن القاسم ریاست آسام کے نوگاواں ضلع کے امونی گاؤں میں جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) کے ذریعے منعقدہ ’عظمت صحابہ کرام کانفرنس‘ میں ریاست بھر سے جمع ہوئے تقریباً 10 لاکھ مسلمانوں کے مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ نوگاواں پارلیمانی سیٹ پر آئندہ 24 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے۔ سعودی عرب کے مدینہ سے تشریف لائے مہمان اپنی تقریر عربی میں کر رہے تھے اور جمعیۃ علماء کے صدر ارشد مدنی وہاں موجود لوگوں کے لیے اس تقریر کا اردو میںترجمہ نہیں، بلکہ اپنی ضرورت اور مصلحت کے مطابق ترجمانی کر رہے تھے۔ امام حرم مدنی عبدالمحسن کی تقریر پوری طرح دینی تھی، کوئی سیاسی تقریر نہیں تھی۔ وہ وہاں کے مسلمانوں سے پوری دنیا میں امن و امان اور پیار و محبت کے پیغام کو پھیلانے کی تلقین کر رہے تھے۔ لیکن، دوسری طرف جب ارشد مدنی نے اپنی تقریر شروع کی، تو کہا کہ جمعیۃ علماء ہند خالص مذہبی جماعت ہے، جس کا پارلیمنٹ اور اسمبلی کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ارشد مدنی اُس دن آسام میں جو کچھ کہہ رہے تھے، وہ صحیح ہے؟ بالکل نہیں، کیوں کہ آج کل وہ جس طرح ملائم سنگھ یادو کے آس پاس نظر آ رہے ہیں اور اتر پردیش کے مسلمانوں کو سماجوادی پارٹی کے لیے ووٹ ڈالنے پر آمادہ کر رہے ہیں، اس سے ان کی یہ بات سچ ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح، نوگاواں کی اس کانفرنس میں آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے واحد رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل، جو کہ آسام میں جمعیۃ کے صدر بھی ہیں، کی موجودگی بھی یہ کہتی ہے کہ یہاں جمع ہوئے مسلمانوں کو اے آئی یو ڈی ایف کو ووٹ دینے کے لیے آمادہ کرنے کی بھی کوئی نہ کوئی کوشش ضرور کی گئی ہوگی۔ دوسرے یہ کہ آسام میں مسجد نبوی کے امام کے ٹھہرنے کا انتظام وہاں کے ریاستی وزیر رقیب الحسن کے گھر پر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آسام کے کانگریسی وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی نے سعودی عرب سے آئے مہمان کے اعزاز میں ایک عشائیہ کا بھی انتظام کیا۔ انتخابی مصروفیات کی وجہ سے ترون گوگوئی تو اس عشائیہ میں موجود نہیں تھے، البتہ ان کے بیٹے گورب گوگوئی اس پورے جلسہ میں اسلامی لباس پہن کر موجود رہے اور مسجد نبوی کے امام کے پیچھے نماز میں شامل بھی رہے۔
28 فروری کو ہی دہلی کے اوکھلا علاقہ میں واقع ’ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر‘، جامعہ سنابل میں ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا شیخ عبدالحمید رحمانیؒ کی حیات و خدمات پر عالمی سیمینار کا افتتاحی اجلاس چل رہا تھا۔ اس میں بھی سعودی عرب کی وزارتِ دینی امور کے مشیر، شیخ عبدالرحمن العسکر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بار ایسو سی ایشن کے ایڈوائزر ڈاکٹر عبدالعزیز القصیر بھی موجود تھے۔ یہ بھی پوری طرح سے مذہبی تقریب تھی، لیکن اسی دن مراد آباد میں بریلوی نظریہ فکر کے لوگ سعودی عرب کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ بھی نکال رہے تھے اور ہندوستانی حکومت سے اپیل کر رہے تھے کہ وہ سعودی عرب کی وہابی حکومت کے ذریعے وہاں پر مذہبی و تاریخی مقامات کی مسماری کو بند کرانے اور پوری دنیا میں وہابی نظریہ فکر کی تبلیغ کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔
دو دن بعد، یعنی 2 مارچ، 2014 کو دہلی کے رام لیلا میدان میں جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے ’32 ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس‘ منعقد کی گئی۔ اس میں بھی امام حرم مدنی شیخ ڈاکٹر عبدالمحسن نے شرکت کی اور مسلمانوں کے ایک بڑے مجمع سے ہندوستان میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے اور امن و امان قائم کرنے کی تلقین کی۔ رام لیلا میدان کے اس مذہبی جلسہ میں کپل سبل، سالم انصاری اور شعیب اقبال و دیگر حضرات موجود تھے۔ اس سے اس تاثر کو ردّ کرنا مشکل ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اسے ایک موقعِ غنیمت سمجھا۔ یہی نہیں، اسی دن شام کو نئی دہلی کے اشوکا ہوٹل میں مولانا ارشد مدنی نے ڈاکٹر عبدالمحسن کے استقبال میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ یہاں پر بھی مرکزی وزیر قانون کپل سبل، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کے رحمن خان، بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ سالم انصاری، جے ڈی یو کے دہلی کے رکن اسمبلی شعیب اقبال، قاضی رشید مسعود، اتر پردیش کے وزیر آشو ملک، مجلس مشاورت کے الیاس ملک، دہلی کے رکن اسمبلی آصف محمد خاں، کانگریسی لیڈر عمران قدوائی کے سامنے مسجد نبوی کے امام نے انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے، ان کا اشارہ ہندوستان میں دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیے گئے معصوم مسلمانوں کی طرف بھی تھا اور اسی لیے انہوں نے یہ بات متعدد سیاسی پارٹیوں کے ان رہنماؤں کی موجودگی میں کہی۔ اس کے بعد 3 مارچ، 2014 کو مسجد نبوی کے امام نے دہلی کی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری سے ملاقات کی اور جامع مسجد میں مغرب کی نماز پڑھائی۔ رام لیلا میدان کی طرح یہاں بھی انہوں نے امن و محبت کا پیغام دیا۔ دوسری طرف سید احمد بخاری نے امام مدینہ کو دہلی کے مسلمانوں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ہندوستانی مسلمان دہلی کی جامع مسجد اور یہاں کے شاہی امام کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔
ان سب کے درمیان، سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی وجہ سے ہی آج کل ہندوستان میں بھی پاکستان جیسے حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ – سنی، وہابی – بریلوی جیسے مسلکی تصادم نے کتنے معصوموں کی جانیں لی ہیں اور کسی موقع پر پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی یہ بات تسلیم کی تھی کہ سعودی عرب نے ایک بار ان سے پاکستان میں سنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پیسے دینے کی پیش کش کی تھی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا تھا۔ اب ہندوستان میں بھی سعودی عرب کو لے کر ندوۃ العلمائ، لکھنؤ کے مولانا سلمان حسینی ندوی اپنے شاگردوں اور ندوۃ سے فارغ طالب علموں کو لے کر مولانا ارشد مدنی اور دیوبند نظریہ فکر کے حامل دیگر حضرات کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ معاملہ بڑا دلچسپ ہے، لیکن ایک بڑے طوفان کا اشارہ بھی دے رہا ہے۔ دراصل، مولانا سلمان حسینی ندوی نے گزشتہ دنوں سعودی عرب کے ذریعے مصر کے معزول اور گرفتار رہنما محمد مرسی کی مخالفت کرنے اور اس پوری بغاوت میں سرغنہ کا رول ادا کرنے والے وہاں کے فوجی رہنما عبدالفتح السیسی کی حمایت کرنے پر سعودی عرب کے خلاف باقاعدہ ایک محاذ کھول دیا تھا۔ اردو کے مختلف اخبارات و رسائل میں سعودی عرب کے خلاف ان کے مضامین بھی شائع ہوئے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب سے آنے والے وفد کا کوئی بھی رکن ندوۃ العلماء نہیں گیا، جس کی وجہ سے یہ لڑائی اور طول پکڑتی چلی گئی۔ دراصل، 9 مارچ کو سعودی عرب کی راجدھانی، ریاض میں واقع الامام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سلیمان بن عبداللہ، پرو وائس چانسلر اور دیگر اساتذہ کے ساتھ ندوۃ العلمائ، لکھنؤ کا دورہ کرنے والے تھے، لیکن ندوۃ میں حدیث کے استاد مولانا سلمان ندوی اور ان کے شاگردوں کے ذریعے مدرسہ میںسعودی عرب کے خلاف احتجاج کرنے اور کالا جھنڈا لگانے کی وجہ سے سعودی عرب کے اس وفد نے وہاں کا اپنا دورہ ردّ کر دیا۔ اسی دوران اردو کے ایک اخبار نے جب یہ خبر شائع کی کہ مولانا سلمان حسینی ندوی، جو کہ سیاسی پلیٹ فارم ’ایکتا منچ‘ (اتحاد فرنٹ) کے قائد بھی ہیں، چوری چھپے نریندر مودی کے قریبی لوگوں کے ساتھ میٹنگیں کر رہے ہیں، تو وہ اس پر آگ بگولہ ہو گئے اور اسے بی جے پی اور سعودی ایجنٹوں کی ایک سازش قرار دے دیا۔ گویا کہ جو بات مذہبی امور تک محدود تھی، اب وہ بڑھ کر سیاست تک پہنچ چکی ہے۔ ویسے مولانا سلمان ندوی پچھلے کئی سالوں سے ہندوستان میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کا اب تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک میں آپسی اختلافات کی وجہ سے بھی ان دنوں عرب ممالک کا رخ جنوبی ایشیا کی طرف زیا دہ ہورہا ہے۔ خاص طور پر جب سے امریکہ کا جھکائو ایران کی طرف ہوا ہے اور اس پر سے امریکی پابندی میں نرمی کی گئی ہے، تب سے سعودی عرب کی پالیسی میں زبردست بدلائو آیاہے۔ دراصل، خطے میں ایران اور سعودی عرب دو بڑی طاقتیں ہیں، جو دہائیوں سے ایک دوسرے کے مد مقابل رہی ہیں۔ دونوں کے درمیان سرد جنگ کی وجہ سے خلیج کے عرب ممالک بھی دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک طرف ایران کے ساتھ عمان اور شام ہے، تو دوسری طرف قطر، بحرین اور مصر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب تک ایران پر اقتصادی پابندی رہی اور امریکہ کا جھکائو سعودی عرب کی طرف رہا، تب تک معاملہ خلیج تک ہی محدود رہا، لیکن جب امریکہ سعودی عرب سے آنکھیں پھیرنے لگا، تب سے سعودی میں بے چینی صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کی مثال اس وقت دیکھنے کو ملی، جب سعودی عرب اس بات کے لیے بضد ہو گیا کہ امریکہ ملک شام پر حملہ کرے۔ یہی نہیں، وہ اس حملے کے لیے امریکہ کو جنگ کے تمام اخراجات دینے کے لیے بھی تیار تھا۔ لیکن سعودی عرب کی ان تمام پیشکش کو ٹھکرا کر امریکہ نے شام کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دی۔ دوسرا جھٹکا سعودی کو اس وقت لگا، جب سعودی اور اس کے دوست ممالک کی طرف سے ایران پرسے اقتصادی پابندی اٹھائے جانے کی مخالفت کی گئی، لیکن اس مخالفت کو نظر انداز کرکے ایران کو پابندیوں میں نرمی دی گئی۔ ظاہر ہے، امریکہ کا سعودی عرب اور اس کے دوست ملکوں کے ساتھ یہ رویہ تشویش پیدا کرنے والا تھا، خاص طور پر حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے اور ایرانی خارجہ پالیسی میں اعتدال پسندی اختیار کیے جانے کی وجہ سے ایران یوروپی یونین سے تیزی کے ساتھ قریب ہوتا جارہا ہے اور ایسے میں آنے والے وقت میں ایران خطے میں سب سے بڑی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے، جس کو روکنے کے لیے سعودی عرب کو اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف اپنی آواز مضبوط کرنے کے لیے حامیوں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک ہندوستان اور پاکستان اس کی اس ضرورت کو پورا کرنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سمیت ایران، بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر کے کئی وفود نے جنوبی ایشیا کے ان ملکوں کا لگاتار دورہ کیا ہے۔ ان لوگوں کی نظر آج کل ہندوستان پر خاص کر اس لیے ہے، کیو ںکہ یہاں پر کچھ ہی دنوں میں لوک سبھا کے انتخابات ہونے ہیں۔ بیرونی ممالک کے یہ نمائندے در پردہ ہندوستان کے سیاسی لیڈروں سے اس لیے ملاقاتیں کر رہے ہیں، تاکہ وہ ہوا کا رخ بھانپ سکیں اور ہندوستان میں اگلی جو بھی حکومت بنے، اس کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرکے اسے اپنا ہم نوا بنا سکیں۔ مثال کے طور پر 19 فروری کو بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ ال خلیفہ کا دورۂ ہند، 27 فروری کو سعودیہ کے ولی عہد، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز، 28 فروری کو سلطنت عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی بن عبداللہ اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور 16 مارچ، 2014 کو قطر کی وزارتِ اوقاف کے سربراہ شیخ خالد بن محمد بن غانم آل ثانی کی قیادت میں قطر کے نمائندوں کا دورۂ ہند۔
بہرحال، مجموعی طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک سے اتنی تعداد میں ہونے والے دوروں کے مد نظر ہندوستان کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ عالمی پیمانے پر ان ممالک کے ساتھ ہندوستان کے خوش گوار تعلقات رہے ہیں اور خام تیل کے لیے ہم زیادہ تر انہی ممالک پر منحصر بھی ہیں۔ ہندوستان کو چاہیے کہ وہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنا قائدانہ رول ادا کرتا رہے اور اپنے گھر کے اندر ایسی کسی بھی حرکت کی اجازت نہ دے، جس سے مسلکی تضادات بڑھیں اور پاکستان کی طرح ہمارا ملک بھی خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *