پاکستان کے ابرار الحق سے سبق لیجئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
پاکستان شاید اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے المیہ سے دوچار ہے۔سیلاب کی تباہ کاریوں نے جہاں اس کے ایک چوتھائی حصہ کوشدید طور پر متاثر کیا ہے وہیں کرکٹ میچ کی اسپاٹ فکسنگ نے پوری دنیا میں اس کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ یوں تو مملکت خدادا پاکستان بدعنوانی اور کرپشن کے عفریت سے کبھی بھی پاک نہیں رہا ہے، تاہم یہ دور اس کی تاریخ کا سب سے بدترین دور ہے۔سیلاب نے تقریباً2کروڑ لوگوں سے ان کا آشیانہ چھین لیا ہے۔ اس کے ایک چوتھائی علاقوں میں ابتری و بے چینی کے حالات ہیں اورلوگ بھوک و پیاس سے تڑپ کر اپنی جان دے رہے ہیں۔ کھلے آسمان کے تلے فاقہ کشی کی زندگی گزارنا گویا ان کا مقدر بن گیا ہے، لیکن حکومت و انتظامیہ کو کوئی خاص پرواہ ہی نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت اور افسران بدعنوانی کے حوالے سے اتنے بدنام ہو چکے ہیں کہ غیر ملکی امدادی ادارے بھی سیلاب زدگان کو مدد فراہم کرنے کے لیے کئی بار سوچنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری مدد کا50فیصد حصہ بھی سیلاب زدگان کو نہیں پہنچ پائے گا، کیونکہ مملکت خداداد کے بد عنوان حکمران و افسران امدادی رقم کا بیشتر حصہ اپنی عیش پرستیوں پر خرچ کر دیں گے اور غریب عوام مدد و راحت کے انتظار میں بھوک و پیاس سے تڑپ کر اپنی جان دیتے رہیں گے۔ واقعی یہ پاکستان کے حکمران و افسران کی کار گزاریوں کا کتنا المناک پہلو ہے ۔ شاید پاکستانی حکمران و افسران اپنے ہی ملک کے ایک رحم دل انسان مقبول گلوکار ابرا رالحق سے کوئی سبق لیں۔ ہم کہتے ہیں کہ انہیں سبق ضرور لینا چاہئے، کیونکہ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ پاکستان کو ابرارالحق سے سبق کیوں لینا چاہئے ، چلیے اس بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔
ابرارالحق پاکستان کے ایک مشہو رو معروف گلوکار ہیں۔انھوں نے گزشہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کو سر چھپانے کے لیے آشیانہ فراہم کرائیں گے۔ ابرارالحق کی فلاحی تنظیم سہارا نے سیلاب متاثرین کو آشیانہ فراہم کرانے کا، جو منصوبہ تیار کیا ہے  اس کے تحت  ایک لاکھ سیلاب متاثرین کے فی کنبہ کو دو کمروں، ایک باورچی خانے اور ایک ٹوائلٹ پر مشتمل گھر فراہم کرایا جائے گا۔ جبکہ دیہاتی ثفافت کے پیش نظر ان گھروں میں برآمدے کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ابرارالحق کے اس منصوبہ کے تحت ہر گھر کی تعمیر پر ایک لاکھ دس ہزار روپے کا خرچ آئے گا۔علاوہ ازیں انھوں نے عید کے موقع پر لازمی اشیاء اور کپڑے بھی سیلاب متاثرین میں تقسیم کیے۔ساتھ ہی اپنی ٹیم کے ساتھ بیرونی ممالک میں پروگرام پیش کرکے سیلاب متاثرین کے لیے خطیر رقم اکٹھا کی اور انہیں حتی الامکان مالی تعاون دینے کی کوشش کی۔ابرار الحق کے اس عزم اور حوصلہ کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ پاکستان کی اپاہج ہو چکی حکومت اور انتظامیہ کو ابرارالحق سے سبق لینا چاہئے اور برباد ہوتی قوم کو، معیشت کو اور تہذیب و ثقافت کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ زرداری شاید یہ بھول رہے ہیںکہ وہ اس ملک کے حکمراں ہیں جہاں فوج جب چاہے کسی بھی حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کر سکتی ہے اور وہ شاید یہ بھی بھول رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے حکمراں ہیں جہاں کے عوام حد درجہ حساس ہیں اور وہ جب چاہیں ایک انقلابی طوفان برپا کر سکتے ہیں۔ یہ زرداری کے لیے انتہائی دانشمندی سے کام لینے کا وقت ہے، تھوڑی سی لا پروائی انہیںنہ صرف اقتدار سے بے دخل کر سکتی ہے بلکہ تاریک کنویں میں بھی دھکیل سکتی ہے۔
خیر! زرداری سمجھیں یا نہ سمجھیں، لیکن اتنا تو طے ہے کہ سیلاب سے پیدا شدہ مصیبتوں و پریشانیوں سے نکلنے کے بعد وہاں کے عوام پاکستان میں ایک بڑی  تبدیلی لے کر آئیں گے، کیونکہ زرداری اور ان کی حکومت اس مصیبت کی گھڑی سے نمٹنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے، بلکہ نمٹنے کی موثر کوششیں بھی نہیں کیں۔یہ کتنی المناک بات ہے کہ اس وقت پوری دنیا پاکستان کے بے گھر ہوئے افراد کی باز آبادکاری کے لیے فکر مند ہے اور ان کے قومی ہیروز یعنی کرکٹ کھلاڑی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی میچ کھیلنے کی بجائے اسپاٹ فکسنگ کی شکل میں مصیبتوں کے عفریت کو پاکستانی عوام کی نذر کر رہے ہیں۔ یہ وہ ہیروہے جو ہمہ وقت پاکستانی عوام کے دل و دماغ میں چھائے رہتے ہیں اور انہیں ملک بھر کا بچہ بچہ احترام و عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ واہ! ان ہیروز نے کیا خوب تحفہ دیا ہے سیلاب متاثرین کو۔ایسے ہیروز کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔ان کا بھی قصور کیا ہے قصور تو ملک کے رکھوالوں کا ہے، پالیسی سازوں کا ہے،حکمران و افسران کا ہے۔ جب ان کا خمیر ہی بدعنوانی کی مٹی سے اٹھا ہے تو پھر کھلاڑیوں سے کیسے ایمانداری کی امید کی جا سکتی ہے۔بد عنوانی کی بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جناب بان کی مون پاکستان کا دورہ کرتے ہیں اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں، ساتھ ہی اقوام متحدہ کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لیے بڑی مدد کا اعلان کرتے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر اور ہالی ووڈ کی مقبول اداکارہ اجلینا جولی بھی پاکستان کا دورہ کرتی ہیں اور وہ نہ صرف سیلاب متاثرین کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں بلکہ انفرادی طور پر ایک لا کھ ڈالر کی امدا دبھی کرتی ہیں ساتھ ہی دنیا بھر سے پاکستان کے دو کروڑ10لاکھ لوگوں کے لیے مدد کی اپیل بھی کرتی ہیںاور کہتی ہیں کہ دنیا پاکستان کے لیے طویل مدتی تعاون کی غرض سے آگے آئے۔دنیا بھر کے ملک پاکستان کی مدد کے لیے آگے آتے ہیں اور متاثرین کی باز آبادکاری کس طرح کی جائے اس پر غور وخوض کرتے ہیں، لیکن عرب ممالک پتھر کے بت بنے بیٹھے رہتے ہیں اور ان کی طرف سے امداد کی آواز نہیں آتی۔ ان کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ سونامی جیسے سیلاب کو دیکھ ان کا کلیجہ منہ کو نہیں آتا اور نہ ہی ہمدردانہ جذبات ان کے دلوں میں کروٹ لیتے ہیں۔پڑوسی ملک ہندوستان بھی پاکستان کی مدد کرتا ہے، لیکن یک لخت پاکستانی حکمراں یہ مدد لینے سے انکار کر دیتے ہیں، جس سے ان کے ارادوں سے تعصب کی بو آتی ہے، تاہم بعد میں وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔ نہیں معلو م کہ انکار کرنے اور قبول کرنے میں اس کی کیا حکمت عملی رہی ہوگی۔بہر حال ہم آ پ کو یہ بتا دیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی ان کا پاکستان سے کوئی مفاد یا غرض وابستہ ہے۔یہ انسانیت کے دیوتا ہیںاور متاثرین کے ہمدرد ہیں۔
بہر حال پاکستانی حکمرانوں کو ابرارالحق جیسے شحص سے سبق لینا چاہئے اور اپنے شہریوں کی بازآبادکاری کو یقینی بنانا چاہئے۔مدد کرنے کی صورتیں بہت ہو سکتی ہیں۔پاکستانی اراکین پارلیمنٹ ، اراکین اسمبلی، نوکر شاہ اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی ایک یا دو ماہ کی تنخواہیں سیلاب متاثرین کے لیے مختص کر دینی چاہئیں، ساتھ ہی سرمایہ داروں کو بھی ابرارالحق کی طرح امداد کے لیے آگے آنا چاہئے، لیکن یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا ہوگا نہیں ، کیونکہ جو انسان رشوت خوری ، بے ایمانی اور بدعنوانی کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں انہیں دولت سے کچھ زیادہ ہی پیار ہوجاتا ہے، جس کی وہ ایک بھی پائی کسی بھی قیمت پر راحتی کاموں کے لیے دینا نہیں چاہتے۔ شاید وقت رہتے وہ یہ سوچ لیں کہ برا وقت کسی سے کہہ کر نہیں آتا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *