ہندوستان سے برابری کرتے کرتے بنگلہ دیش سے پچھڑ گیا پاکستان

Share Article

بنگلہ دیش کی شناخت میں غربت، بڑی آبادی اور قدرتی آفت ہوا کرتی تھی۔ گزشتہ دو سالوں سے بنگلہ دیش میانمار سے آئے لاکھوں روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے سے بھی پریشان ہے۔ لیکن بنگلہ دیش مسائل کو پیچھے چھوڑ کر ماضی سے باہر نکلناآتا ہے۔ کچھ ماہر اقتصادیات تو اسے اگلا ایشیائی شیر کہنے لگے ہیں۔

 

भारत से बराबरी करते-करते बांग्लादेश से पिछड़ गया पाकिस्तान

بنگلہ دیش کی گزشتہ سال اقتصادی ترقی کی شرح 7.8 فیصد رہی جو ہندوستان کی 8.0 فیصد کی اقتصادی ترقی سے بھی زیادہ پیچھے نہیں ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش اس صورت میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 5.8 فیصد ہی ہے۔ بنگلہ دیش میں فی شخص قرض (434 ڈالر) پاکستان کے فی شخص قرض ($ 974) سے نصف ہے۔بنگلہ دیش کا فاریکس کے ذخائر 32 ارب ڈالر پاکستان کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر 8 ارب ڈالر کے مقابلے چار گنا زیادہ ہے۔بنگلہ دیش ترقی کی ایک نئی کہانی لکھ رہا ہے۔ سال 2018 میں ہی بنگلہ دیش کے اکاؤنٹ ایک بڑی کامیابی بھی درج ہوئی جب اقوام متحدہ نے 2024 تک بنگلہ دیش کو ابتدائی ممالک کی فہرست سے ترقی پذیر ممالک کے زمرے میں ڈالنے کی بات کہی۔
بنگلہ دیش کی اس ترقی کے پیچھے برآمد بڑھنے جو 1971 میں صفر سے بڑھ کر 2018 میں 35.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں کپاس کی پیداوار نہیں ہوتا ہے لیکن ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بنگلا دیش صرف چین سے پیچھے ہے۔ وہیں، پاکستان کی کل برآمد 24.8 ارب ڈالر کا ہی ہے۔

 

भारत से बराबरी करते-करते बांग्लादेश से पिछड़ गया पाकिस्तान

IMF کی تشخیص کے مطابق، بنگلہ دیش کی معیشت 180 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2021 تک 322 ارب ڈالر کی ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ایک بنگلہ دیشی ایک پاکستانی کے برابر امیرہوں گے اور اگر پاکستانی روپے کے آگے بھی کمی ہوتی ہے تو 2020 تک بنگلہ دیشی تکنیکی طور پر زیادہ خوشحال ہو جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *