وزیر دفاع راجناتھ سنگھ جموں و کشمیر سے لداخ کو الگ کئے جانے اور مرکز کے زیر انتظام صوبہ بنانے کے بعد پہلی بار جمعرات کی صبح لیہہ پہنچے۔ لیہہ میں انہوں نے کسان ۔جوان سائنس میلے کا افتتاح کیا۔
لیہہ میں ڈی آر ڈی او کے 26 ویں لداخی کسان، جوان، سائنس میلے کا افتتاح کرنے کے بعد وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میں پاکستان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کب پاکستان کا تھا۔ اس کو لے کر روتے کیوں رہتے ہو؟ ۔پاکستان بن گیا تو ہم آپ کے وجود کا احترام کرتے ہیں۔ پاکستان کو اس مسئلے پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اب پاکستان سے بات چیت بھی ہوگی، تو صرف پاک مقبوضہ کشمیر کو لے کر ہوگی۔ اس کے علاوہ پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک مقبوضہ کشمیر بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پی او کے اور گلگت بلتستان پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ پاکستان کو پاک مقبوضہ کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ظلم پر توجہ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ نے فروری 1994 کو ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں بھارت کی پوزیشن کو مکمل طور واضح کر دیا گیا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے لیہہ میں جس سائنس میلے کا افتتاح کیا، اس میں اونچائی والے علاقوں میںپیداوار کے لئے مناسب فصلوں اور اناج کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ سائنس میلے کا انعقاد ڈیفنس انسٹی ٹیوٹ آف ہائی ایلٹی ٹیوڈ ریسرچ کی جانب سے کیا کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا انعقاد لداخ کے مقامی لوگوں کے ساتھ زراعت ٹیکنالوجی کا اشتراک کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اس میلے کے ذریعے دکھایا جائے گا کہ کس طرح ڈی آر ڈی او، ڈیفنس انسٹیٹیوٹ آف ہائی الٹی ٹیوڈ اینڈ ریسرچ (ڈی آئی ایچ اے آر) علاقے میں فوج کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لداخ میں لوگوں کو زراعت، باغبانی کے لئے فروغ دے رہا ہے۔
جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام اعلان ہونے کے بعد وزیر دفاع کا یہ لیہہ میں پہلا دورہ ہے۔ اپنے دورے کے دوران وزیر دفاع مقامی اور فوجی افسران سے ملے اور موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا۔ وزیر دفاع نے لیہہ میں فیلڈ کمانڈروں سے ملاقات کے دوران لداخ کے حفاظتی چیلنجوں، فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے بھی لیا۔ وزیر دفاع نے جموں وکشمیر کے سیکورٹی حالات کے بارے میں بھی معلومات لی۔ اس دوران فوج کی شمالی کمان کے ا علیٰ افسران بھی موجود رہے۔
وزیر دفاع کا لداخ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے چین نے حکومت ہند کے جموں و کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام بنانے کے فیصلے پر احتجاج کیا ہے اور پاکستان بھی اس فیصلے کے بعد مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here