پاکستان نے پلواما حملے میں ہاتھ سے کیا انکار، کہا یہ شدید تشویشناک ہے

Share Article
Pulwama Terror Attack
Pulwama Terror Attack

 

پاکستان سرکار نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے پلواما میں حملہ ایک افسوسناک بات ہے۔

 

نئی دہلی: جموں کشمیر کے پلواما میںہوئے دہشت گردانہ حملے میں شہید جوانوں کی جانکاری سی آر پی ایف تھوڑی دیر بعد جاری کرنے کی تیاری میں ہے۔ جوانوں کے نام جاری کیے جانےمیں دیری کی وجہ کئی لاشوںکا نیست و نابود ہونا ہے اس وجہ سے ان کی پہچان میںدیری ہوئی۔ ذرائع کے بتا رہے ہیں کہ اس دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے جوانوں کی تعداد 41کے قریب پہنچ گیا ہے۔ حالانکہ سرکاری طورپر سی آر پی ایف نے 37جوانوں کے شہید ہونےکی ہی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے کہا کہ ہم بنا کسی جانچ کے حملے کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کے ہندوستانی میڈیا اور سرکار کے کسی بھی اعتراض کو خارج کرتے ہیں۔ پاکستان سرکار نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے پلواما میں حملہ ’ایک سنگین تشویش ہے‘ بیان میںکہا گیا کہ پاکستان نے دنیا کے کسی بھی حصے میں تشدد کی کارروائی کی ہمیشہ افسوس ظاہر کی ہے۔ اس نے کہا ہم بنا کسی جانچ کے حملے کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کے ہندوستانی میڈیا اور سرکار کے کسی بھی اعتراض کو خارج کرتے ہیں۔

 

Image result for pulwama attack image

اس بیچ ہندوستان نے پلواما دہشت گردانہ حملے کو لے کر پاکستان کی دکھ کی اور پڑوسی ملک سے دہشت گردوں کو امداد دینا بند کرنے اور اس کی زمین سے آپریٹنگ ہورہے دہشت گرد کی جگہوں کو تباہ برباد کرنےکیمانگ کی ہے۔ ااپ کو بتا دیں کہ تھوڑی دیر میں حفاظتی معاملے کی کابینہ کمیٹی بیٹھک ہوگی۔ جس میں وزیر داخلہ راجنا تھ سنگھ کے ساتھ سی آر پی ایف کے ڈی جی سری نگر کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ سری نگرمیں حملے میں شہید ہوئے جوانوں کو آخری وداعی دی جائے گی۔ اس کے بعد سارے لاشوں کو ایک خاص طیارے سے غازی آباد کے ہنڈن ایئر بیس لایا جائے گا۔ یہیں سے جس علاقے کے جوان ہیں وہاں لاش بھیجے جائیں گے۔ اترپردیش سے قریب 10سے12 اور پنجاب سے4-5جوان ہیں، باقی ریاستوں سے ایک دو جوان ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *