فلمی ہے پاکستانی وقاص کی کہانی:14برس ہندوستان میں رہنے کے بعد اب واپس لوٹ رہا ہے پاکستان

Share Article

mhammad-waqas

کانپور:اترپردیش کے دارالحکومت کانپور کی ضلع جیل میں دس سال کی سزا پوری کرنے کے بعد پاکستان سے آیا محمد وقاص منگل کو رہا ہو گیا، جہاں سے پاکستان سے شہریت کی تصدیق ہونے کے بعد لاہور بھیجا جائے گا، لیکن وقاص کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ پاکستان سے آیا وقاص ہندوستان میں ہی رہ گیا تقریباً 4 سال تک سب کی آنکھ میں دھول جھونک کر بھارت میں رہا اور اس نے ہندوستانی لڑکی سے شادی بھی کی۔

کس طرح پکڑا گیا وقاص ؟

سال 2005 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہو رہے کرکٹ میچ کو دیکھنے کے لئے وقاص لاہور سے پانچ دن کے ویزا پر بھارت آئے تھے۔ شہر کے ایک ہوٹل میں اس کا ویزا اور پاسپورٹ چوری ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہو گیا تو پولیس نے اس کی تلاش شروع کی تھی۔ مئی 2009 ء کو بٹھور تھانہ پولیس نے وقاص کو پکڑ کر جیل بھیج دیا تھا۔ اس کے خلاف حکومت رازداری تحلیل کرنے اور غیر ملکی ایکٹ سمیت کئی دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد اسے دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 12 مارچ 2019 کو سزا پوری ہونے پر دوپہر بعد جیل سے اسے رہا کر دیا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ آشیش تیواری نے بتایا کہ محمد وقاص کی سزا مکمل ہو گئی تھی لہٰذا اسے پولیس اور ایل آئی یو کی سپردگی میں دے دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ محمد وقاص کے پاس بھارت کی شہریت نہیں ہے اور پاسپورٹ اور ویزا بھی نہیں ہے لہٰذا وہ ہندوستان کی زمین پر آزاد گھوم نہیں سکتا ہے۔ قوانین کے مطابق رہائی کے بعد اب اسے پاکستان بھیجے جانے کا عمل کو شروع کیا جائے گا۔

ہندوستانی لڑکی سے وقاص نے کی تھی شادی

2005 میں پاسپورٹ اور ویزا چوری ہو جانے کے بعد محمد وقاص نے اوریا میں رہ کر نکاح کر لیا تھا۔ اس کی گرفتاری کے بعد پولیس کو پتہ چلا تھا کہ 2005 میں وقاص ممبئی بھاگ گیا تھا۔ وہاں پر اس نے بنیادی طور پر اوریا کے رہنے والے ایک کاروباری سے دوستی کر لی تھی اور مچھلی کا کاروبار کرنے لگا تھا۔ اس دوران اس نے کاروباری کی بیٹی سے نکاح بھی کر لیا تھا۔ حالانکہ بعد میں حقیقت پتہ چلنے پر شادی سے پہلے اور اس کے رشتہ داروں نے اس سے رشتہ توڑ لیا تھا۔ اوریا آنے جانے کے دوران ہی پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک وہ جیل میں ہی تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *