پاک بھارت تعلقات: ایک انقلاب؟

Share Article

اعجاز حفیظ خان

ہندوستانی وزیر خارجہ جناب ایس ایم کرشنا کے حالیہ دورۂ پاکستان سے دلوں کے ملاپ کاایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ہم تو شروع دن سے ہی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ جن سے ہماری سرحدیں ملی ہوئی ہیں ،اُن سے دل بھی ملنے چاہئیں۔یہ اچھی بات ہے بلکہ بہت ہی اچھی بات ہے ۔لیکن یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ دلوں کی ’’سیاست ‘‘میں دل لگی سے بچنا ہو گا۔پہلے ہی بہت کچھ ہو چکا ہے ۔دل کسی کا بھی ہو، بنیادی طور پر صاف اور شفاف ہوتا ہے ۔البتہ حالات و واقعات اسے بھی گرد آلود کر جاتے ہیں ۔اُس کے بعدشہر ہو یا گائوں اپنے اور سپنے بھی منہ چھپائے پھر رہے ہوتے ہیں ۔بلاشبہ زمانہ بہت تیز ہے۔اس میںسب کمال سائنس کا ہے ۔سائنس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمسایے کو تیز نگاہوںسے دیکھو ۔میں سمجھتا ہوں کہ سائنس تو حضرت انسان کی بقا اور سلامتی کی ضامن ہے ۔لیکن اس کا غلط استعمال بلکہ کسی بھی چیزکے غلط استعمال سے معاشرہ تار تار ہو گا ۔اس میںقصور کس کا ہے ؟اگر زمانہ تیز ہو گیا ہے تو انسانی قدریں بھی توتیز ہونی چاہئیں ۔یقین کریں اُس کے ہاتھ میں دھوکے کی کوئی لکیر نہیں ہے ۔اصل میں ہمارے جیسے ممالک میں قسمت بنانے اور بگاڑنے کا بھی کام سائنسی بنیادوں پر شروع ہوتا ہے ۔یہ لوگ اصل میں ہمارے روگ ہیں۔جنہوں نے ہمارے اندر کے موسموں کے دن بھی بدل ڈالے ہیں ۔اب اُن کا بھی کوئی اعتبار نہیں رہا۔
نظر تو یہی آ رہا ہے کہ دونوں ممالک کے’’ پتھر وں ‘‘نے اب پگھلناشروع کر دیا ہے اور اگر یہ عمل جاری رہا تو یہ کسی انقلاب سے کم نہیںہو گا ۔دونوں ممالک کے درمیان ویزے کی نرمی ایک بہت بڑی پیش رفت ہے لیکن اس پر دونوں ممالک کے سخت گیر خواتین و حضرات پر کیا گزرے گی ؟جن کی سیاست کا محض ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان دشمنی پر ہے ۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ دشمنی کسی بھی قسم کی ہے ،یہ انسانیت کی توہین ہے ۔ویزے کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کو بہت فائدہ ہو گا ۔بہر کیف جب دنیا معاشی ہی ہو گئی ہے ، ایسا تو ہونا ہی تھالیکن اس سے اگر دونوں ممالک کے غریب عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل جاتا ہے تواُسے خوش آئند ہی کہیں گے ۔’’کچھ نہ کچھ ‘‘اس لئے عرض کیا ہے کہ آج کل غریبوں کی خیر خیریت جاننے والوں کی تعداد پوری دنیا میں کم ہوتی جا رہی ہے ۔مجھے یاد آیا کہ دو سال قبل جب وفاقی وزیر تجارت محترم مخدوم امین فہیم نے بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا عندیہ دیا تھا تو ملک میں جیسے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا تھا ۔گو یا چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان جیسا ہی تھا ۔اُن ہی دنوں بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی کچھ شخصیات سے کروائی جانے والی خصوصی ملاقات میں ہم بھی شامل تھے ۔اُن کا گلہ تھا کہ’ بھارتی اشیا ء کے ہمارے یہاں آنے سے ہماری انڈسٹری بیٹھ جائے گی کیونکہ اُن کی اشیاء سستے داموںمیں بکیں گی۔اُن کے ریٹ کا مقابلہ کرنا ہمارے بس میں نہیں ہو گا‘۔میں نے عرض کیا کہ اس سے ہمارے عوام کو تو فائدہ ہو گا ۔ جب انہیں یہ کہا گیا کہ اپنوں کی طرف سے بپا کی گئی قیامت خیز مہنگائی کی وجہ سے آج عوام کی زندگی ایک داغ بن گئی ہے تواس پر وہ حب الوطنی کا درس دینے لگے ۔
ان دولت مندوں کو اچھی طرح سے علم ہے کہ ان کے ’’آئینہ خانے ‘‘ میں ِ غرباء کا کوئی خانہ نہیں ۔دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف بھی ایک ہونے کا عزم کیا ہے۔کاش! ایسا ہو بھی ۔بلاشبہ یہ بھی ایک انقلابی قدم ہو گالیکن ہمارے یہاں کے کچھ لوگ،جو انقلاب کی ’’خرید و فروخت ‘‘ میںلگے ہو ئے ہیں ،اِ س سے انہیں شدید مایوسی ہو گی ۔غضب خدا کا ! پاکستان میںجن کے خلاف انقلاب آنا چاہیے ،وہ انقلاب کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں ۔ہمیں ایک لکھاری کی بات یاد آ رہی ہے ،جنہوں نے تین سال قبل ہمارے لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ڈنر کے دوران کہا کہ’’ زیادہ سے زیادہ 90دنوں میں پاکستان میں انقلاب آجا ئے گا‘‘ ۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ اُن دنوں تیونس میں انقلاب آچکا تھا ۔آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے پاکستان کو تیونس کیوں سمجھ لیا تھا ؟میں نے مذاق میں اُن سے درخواست کی کہ کچھ دن اور بڑھا دیں ۔کہنے لگے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔جب سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تو پھر اُن کے پاس جواب کہاں سے آنا تھا۔یہ لوگ آج بھی آف دی ریکارڈ گفتگو میں ڈکٹیٹرضیا کی تعریفیں کرتے ہیں۔قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ’’ 90دن ‘‘ ان ہی کے ایجاد کردہ تھے ۔ بھٹو صاحب کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعدڈکٹیٹر نے 90دن میں الیکشن کروانے کا اعلان کیا تھا۔الیکشن گیارہ سال بعد اُن کی موت کے 90دن بعد ہی ہو ئے ۔قدرت کا ایک اپنا سبق ہو تا ہے ،جسے حکمران طبقہ بھولے سے بھی یاد نہیں رکھتا ۔مجھے یہ بھی عرض کرنے دیجئے کہ پاکستان میںحکومت کسی بھی پارٹی کی ہو، موج میلہ ان ہی کا ہو تا ہے ۔تبھی تو حکومت کے بدلنے سے عوام کے نصیب نہیں بدلتے ۔مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ عام طور پر اونچے مکانوں میں رہنے والے اپنی سوچ کے حوالے سے بہت ہی نچلی سطح پر ہوتے ہیں۔ایک اس بات کا ڈر لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھارت سے معاہدے تو کرلئے ہیں ، کہیںاسے اس کی قیمت ادا نہ کرنی پڑ جا ئے ۔جب مخدوم امین فہیم صاحب نے بھارت کو کاربار کے لئے موسٹ فیورٹ قرار دیا تھا،اُس کے بعد سے کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے ،اس پر کوئی رائے نہیں دیں گے ۔دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ’’ماضی کے ہاتھوں یر غمال نہیں بنیں گے ‘‘۔یہاں پر بھی کاش !ایسا ہو جا ئے۔ماضی کی یادیں تو بہت ہی تلخ ہیں ۔ماضی کو بھلانے کے لئے کئی ’’موسم‘‘بدلنے ہوں گے ۔ابھی تو صرف ایک ہی بدلا ہے ۔
ماضی کے تلخ مناظر کو بھلانے کے لئے دونوں ممالک کا میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔گو کہ اُن کے لئے بھی ویزا نرم کرنے کی باتیں کی گئی ہیں ۔بات توتب بنے گی ،جب انہیں بھی بزنس کمیونٹی والا ویزاملے گا۔اگر ایسا نہ ہوا تو ڈر ہے کہ کہیں عشق پھر سے روٹھ نہ جا ئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *