پہاڑ بادلوں کی چال سے چل رہے ہیں

Share Article

وصی احمد نعمانی

پہاڑوں  کی تخلیق،ان کی موجودگی اور ان سے منسلک فائدوںمیں اللہ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔یہ زمین میں خوب مضبوطی کے ساتھ بظاہر جمے ہوئے ہیں، مگر درحقیقت یہ ہر لمحہ بادلوں کی چال سے روئے زمین پر چل رہے ہیں اور سرگرم ہیں۔یہی پہاڑ زمین کے بڑے بڑے ٹکڑوں،سلوں، قطعات اور حصوں کو آپس میں باندھے ہوئے ہیں۔بڑے بڑے ٹکڑوں کے علاوہ بہت سی چھوٹی چھوٹی چٹانیں بھی ہیں جو زمین میں موجود میگما،لاوا، پگھلی ہوئی چٹانوں کی ندی پر تیرتی رہتی ہیں۔یہی پہاڑی سلسلے اور ان سے منسلک خدائی نظام نے انسانوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کو زمین پر ممکن بنا رکھا ہے۔اسی طرح ان ہی پہاڑی سلسلوں کی گہرائی کی وجہ سے زمین کی اندرونی ساخت نہایت مضبوط ہے ۔یہ تمام عمل ماحولیات کے لئے لازمی ہیں۔ سورج ، چاند کی قوت کشش اور جاذبیت کا زبردست اثر زمین کے باہری حصوں پر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ زمین کے اندرونی حالات پر بھی سورج و چاند اور دیگر سیاروںکی قوت کشش کا اثر ہوتا ہے۔ یعنی زمین کے بیرونی اور اندروی تمام حالات نظام شمسی کے زیر اثر ہیں ۔پہاڑوں کی موجودگی زمین کو اندرونی اور بیرونی ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگر زمین پر پہاڑوں کی موجودگی اور اس کا مضبوط و مربوط سلسلہ نہیں ہوتا تو زمین فضا میں بکھر جاتی اور خلا میں غائب ہوجاتی یا پھر بارشوں کا زبردست طوفان پوری زمین کی مٹی کو بہا کر سمندر کا حصہ بنا دیتا۔ پہاڑ جس قدر زمین کے اوپر بلند ہے اسی تناسب میں وہ زمین کے اندر پیوست بھی ہے۔ یعنی پہاڑوں کی جڑیں زمین کے اندر خوب پھیلی ہوئی ہیں۔جس طرح پیڑوں کی جڑیںآس پاس کی مٹی یا زمین کو باندھے رکھتی ہیں۔اسی طرح پہاڑوں کی جڑیں بھی زمین کو کافی گہرائی تک باندھ کر رکھتی ہیں۔
پہاڑ درحقیقت زمین کی مختلف سِلوں یا پلیٹوں کی ویلڈنگ کرکے انہیں جوڑے ہوئے رکھتے ہیں۔ یعنی جو پہاڑ جتنا زیادہ زمین کے اوپر بلند ہوگا اس کی جڑیں اسی تناسب سے زمین کے اندر گہری ہوں گی۔یہاں تک کہ 30 40-کلو میٹر اندر تک زمین میں پیوست ہیں۔ ہمالیہ پہاڑ جو دنیا کابلند ترین پہاڑی سلسلہ ہے۔ اس کی جڑیں زمین کے اندر 70 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔اس کے سلسلہ نے تو لگ بھگ آدھی دنیا کی زمین کو باندھ کر رکھا ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ پہاڑی سلسلہ سب سے طویل سمندر کے اندر ہے۔اسی پہاڑی سلسلہ کو MID OCEANIC RIDGE کہتے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلہ کی لمبائی تقریباً 76000 کلو میٹر ہے جو پوری زمین کے گرد چکر کھاتا ہے اور اس طرح ساری زمین کو باندھ رکھا ہے یعنی ماحولیات کے قواعد و ضوابط کو ترتیب دینے والے اجزا ء میں سے اہم جزو ہے۔اللہ کی کرشمہ سازی دیکھئے کہ ان پہاڑوں کو معدنیات کا خزانہ بنایا ہے اور یہ رنگ برنگ کی پہاڑی چٹانوں یا پتھروں سے بھرے پٹے ہیں۔ ان میں سے کوئی سفید و سرخ تو کوئی کالا پہاڑ ہے ۔ اس کے علاوہ اور کئی طرح کے رنگوں سے بھرے پٹے ہیں اور یہ سب کے سب اگرچہ اٹل اور ساکت نظر آتے ہیں ،مگر ہر لمحہ متحرک ہیں اور ہمارے آپ کے گمان کے خلاف بادل کی چال سے چلتے رہتے ہیں۔قرآن کریم نے پہاڑوں کی مختلف کیفیتوں کا اظہار الگ الگ انداز میں ، الگ الگ الفاظ کے ذریعہ کیا ہے ۔ ان میں سے چند مثالیں قارئین کے لئے دلچسپ ہوں گی۔مثال کے طور پر ’’ أرسٰھا، نُصِبتْ،أوتادا،فوقَھا،رَواسِی،جُرَد، بیض،حمر،سود، جامد، تَمُر‘‘ و غیرہ وغیرہ۔ اسی طرح زمین کو بچھونا ، فرش، گہوارہ، قرار گاہ، قیام گاہ بننے میں ان پہاڑوں اور پہاڑی سلسلوں کا بے حد اہم کردار ہے۔ ان پہاڑوں کے کردار کو زیادہ اچھی طرح جاننے اور سمجھنے کے لئے ان کی سائنسی تخلیق اور زمین کی اندرونی بناوٹ اور اس کے اندر موجود لاوا،میگما،پگھلی ہوئی چٹانوں،زمین کے اندر 5000ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجۂ حرارت کی موجودگی کو سمجھنا ہوگا۔اسی زمین کے اندر آگ کی بہتی ہوئی ندی کے اوپر ان کی تہوںکو ہمیشہ پھسلتے ہوئے گردش کرنے کے نظام کو جاننا ضروری ہوگا۔ زمین کی اس کیفیت کی وجہ سے ہمیشہ برقی رو کا پیدا ہونا،بجلی کا یکجا ہوکر زمین کے اندر اور اس کی سطح کے باہر چاروں طرف چالیس ہزار میٹر کی بلندی تک مقناطیسی میدان کا پیدا ہونا اور بے شمار آسمانی آفات سے زمین کو محفوظ کئے رہنا،  ان تمام سائنسی حقائق کو نظر میں رکھ کر اس کا گہرا مطالعہ کرنا ضروری ہوگااور پھر ہم پہاڑوں کی معجزانہ تخلیق اور تشکیل کو آسانی سے سمجھ سکیںگے اور یہ یقین سے کہہ سکیں گے کہ اللہ نے زمین کی ماحولیات کو باقی ، برقرار اور قائم و دائم رکھنے کے لئے پہاڑوں کی موجودگی میں کیا کیا برکتیں رکھی ہیں۔ اس نے کائنات کی تخلیق کے تمام مدارج میں پہاڑوں کی تخلیق کو لازمی قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات چیپٹر نمبر 79 آیت نمبر 27-32 میں ارشاد فرمایا کہ سات آسمانوں کی تخلیق کے مقابلہ میں قیامت کے روز انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے ۔وہ سب کے سب  خدا کے حضور میں حاضر ہوںگے۔ اسی اللہ نے رات دن، زمین پہاڑ کو پیدا کیا’’کیا تم سخت تر ہودوبارہ تخلیق میں یا آسمان۔ اس (اللہ ) نے اسے بنایا۔اس نے بلند کی اس کی چھت پھر اسے ٹھیک ٹھاک کیا۔اور تاریک کیا اس کی رات کو۔ اور روشن کیا اس کے دن کو اور زمین اس کے بعد اس نے بچھایا۔ اس نے نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ اور اس نے گاڑ دیا پہاڑ ۔ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لئے‘‘۔ اس جگہ لفظ ’اَرسٰھا‘ کا استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی چیز کے اپنی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ۔مثلاً لنگر باندھنا، میخ گاڑنا یا ٹھونکنا وغیرہ۔ پہاڑ در حقیقت زمین کے لئے لنگر ہی ہے۔ جیسے کوئی پانی کاجہاز لنگر کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہل ڈول نہیں سکتا اور اپنا ٹھکانا چھوڑ کر اتھاہ سمندر میں غائب نہیں ہوسکتا ،اسی طرح پہاڑ کی وجہ سے زمین یا اس کا کوئی ٹکڑا ،سل یا پلیٹ اپنی جگہ سے ہل کر یا ہٹ کر اپنی پیٹھ پر بسے ہوئے انسانوں یا جانداروں کو لے کر پلٹ نہیں سکتی ہے۔ اس طرح زمین پر سلامتی کے ساتھ زندگی گزرتی ہے۔یعنی پہاڑ زمین کو لنگر کی طرح ٹھہرائو میں رکھتا ہے۔ اللہ نے دوسری جگہ سورہ الغاثیۃ چیپٹر نمبر 88 آیت نمبر 17-20 میں اونٹ ،زمین اور پہاڑ کی تخلیق کے بارے میں غور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے ’’ کیا پھر نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے وہ پیدا کئے گئے ہیں اور آسمان کی طرف کیسے وہ بلند کئے گئے ہیں۔اور پہاڑوں کی طرف کیسے وہ گاڑے گئے ۔ اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ‘‘۔
یہ سخت اور بھاری بھرکم پہاڑ جو زمین میں پیوست ہیں وہ اللہ کی کرشمہ سازیوں کا اعلان کرتے ہیں۔یہ پہاڑ زمین پر صرف رکھ نہیں دیے گئے ہیں بلکہ زمین کے اندر دھنسے ہوئے ہیں نہایت گہرائی تک۔پہاڑوں کی اس کیفیت کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔سورہ انبیاء چیپٹر نمبر 78 میں یہ سورہ تو درحقیقت انسانی زندگی کی پوری ڈائری ہے جس میں اللہ نے شب و روز کی ترتیب مرتب کردی ہے اور انسانوں کے لئے اس کی پوری زندگی کا پروگرام مرتب فرما کر پہاڑوں کی حیثیت کا ذکر فرمایا ہے ’’ لوگ کسی چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔اس بڑی خبر کے بارے میں ،جس میں وہ لوگ مختلف ہیں ۔ہرگز نہیں ، عنقریب وہ جان لیں گے۔ہرگز نہیں ۔عنقریب وہ جان لیں گے ۔کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنا یا اور پہاڑوں کو میخیں ۔اور تم کو ہم نے بنایا جوڑجوڑکے۔ اور نیند کو بنایا تمہاری تھکان رفع کرنے کے لئے۔اور ہم نے رات کو پردہ بنایا ۔ اور ہم نے دن کو معاش کا وقت بنایا۔ اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے۔ اور ہم نے اس میں ایک چمکتا ہوا چراغ رکھ دیا۔ اور ہم نے پانی بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔ تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ۔ سبزی اور گھنے باغ۔ بے شک فیصلہ کا ایک دن مقرر وقت ہے‘‘۔ اگر ہمارے ذہن میں ماحولیات کے لوازمات محفوظ ہیں تو آسانی سے ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ اس چیپٹر 78 میں آیت نمبر 1-17 تک جتنے اقدام کا ذکر کیا گیا ،وہ سب مل کر فضا یا ماحولیات کی تخلیق کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانی زندگی کی اس ڈائری میں پہاڑوں کی اہمیت کا ذکر فرما کر ان کے شب و روز کا حصہ بنادیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *