پہاڑ بادلوں کی چال سے چل رہے ہیں

Share Article

وصی احمد نعمانی
یہ جاننے اور یقین کے ساتھ سمجھنے کے لئے کہ بادل بظاہر جامد نظر آتے ہیں،مگر یہ محض گمان ہے کہ ایسا ہی ہورہاہے جبکہ قرآن کریم کا فرمان ہے کہ جب تم پہاڑ کو دیکھو گے یا دیکھتے ہو تو تمہیں گمان ہوتا ہے کہ پہاڑ جامد ہیں مگر درحقیقت یہ بادلوں کی چال سے روئے زمین پر چل رہے ہیں یا حرکت پذیر ہیں۔ قرآن کریم کے اس اہم اور معجزانہ جملہ کو سمجھنے کے لئے زمین کے اندر کی تشکیل ،بناوٹ اور حالات کو جاننا ضروری ہوگا۔اس لئے آئیے ہم زمین کی اندرونی تشکیل کے بارے میں جانیں۔
زمین کی اندرونی تشکیل:۔ ہم جہاں پر کھڑے بیٹھے یا آباد ہیں۔ اس کے ٹھیک نیچے اگر زمین کی کھدائی کریں یا ڈر ل کریں تو 6378.160کلو میٹر کی گہرائی میں زمین کا مرکز ملے گا۔ اس مرکز کی تشکیل نہایت بھاری دھات جیسے لوہا اور سیلیکون وغیرہ کے اکٹھا ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یعنی بِگ بینگ کے بعدتاروں، سیاروں اور زمینوں کی تشکیل کا کام شروع ہوا تو فضا میں موجود بھاری دھات نے زمین کے مرکز میں اکٹھا ہوکر اس کے Coreکی تشکیل کی۔ اس کے اوپر بھاری مادے جیسے  لاوا ، میگما ،پگھلی چٹانیں جو آگ کی ندی یا وہ کسی طرح یکجا ہوکر ٹھوس مرکز کے اوپر رگڑ کھاکر اور گھسٹ کر چاروں طرف حرکت اور گردش کرنے لگی ،جس کی وجہ سے زمین کے اندر بے پناہ بجلی کی تخلیق ہونے لگی او راس بجلی کی تخلیق نے قوت مقناطیسی کا ایک زبردست میدان پیدا کردیا ،جس کے نتیجہ میں زمین میں قوت کشش پیدا ہوئی یا سینٹر آف گریویٹی کی تشکیل ہوئی ۔ اس قوت کشش نے زمین کے اوپر اور اندر ساری چیزوں کو زمین کے ساتھ باندھ رکھاہے،لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی ہوگی کہ ہماری زمین ایک مکمل گولا یا کرّہ نہیں ہے بلکہ یہ قدرے بیضوی یا Oblate Spheroid  ہے ۔یہ مرکز اور قطبین پر الگ الگ قطر کے مالک ہیں یعنی مرکز پر اس کا نصف قطر 6378.160 کلو میٹر ہے،  تو قطبین پر 6356.775کلو میٹر ہی ہے یعنی اس کا نصف قطر قطبین پر 26.385 کلو میٹر کم ہے۔ یعنی Equatorial Radius اور  Polar Radiusچھوٹے بڑے ہیں ۔ایسا زمین کی اپنی گردش جو گھڑی کی مخالف سمت میں ہوتی رہتی ہے، اس کی وجہ سے ہے۔ اس ابھار کو استوائی ابھار یا Equatorial buldge کہتے ہیں۔ زمین کا گولا باہر سے اندر تک تین خاص پرتوں یا تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔(1)بیرونی ، قشر یاچھلکا یا Crust(2)اس قشر کے نیچے کی تہہ کو زمین کی دوسری تہہ یا Mantle کہتے ہیں۔ اس کی آخری تہہ کو (3)اس کے بیچ کی تہہ کو Core کہتے ہیں۔ پوری زمین کی زندگی انہیں تینوں کور میں پیوست ہے اور انہیں تینوں کی وجہ سے کبھی زمین یا تو سکون کے ساتھ یا نہایت اتھل پتھل کے ساتھ حرکت کرتی ہے۔ زلزلے، آتش فشاں ، سونامی وغیرہ انہیں تینوں تہوں کی عملیاتی ردو بدل اور تبدیلی وغیرہ کے نتیجے میں زمین و سمندر میں برپا ہوتی ہے۔
1۔زمین کا قشر یا چھلکا یا خول: زمین کو چاروں طرف گھیرے ہوئے یا باندھے ہوئے یہ قشر یا چھلکا جب ٹوٹتا ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے،  آتش فشاں وجود میں آتا ہے اور سونامی سے زندگی تباہ و برباد ہوتی ہے۔ اس طرح زمین کا چھلکا یا خول یا قشر زمین کا اہم محافظ ہے۔ اس کی موٹائی سمندر کے اندر اوسطاً 10 کلو میٹر اور خشکی کے نیچے لگ بھگ 35 کلو میٹر ہوتی ہے۔ اب تک زمین کی گہری سے گہری کھدائی صرف 3.2 کلو میٹر تک ہی کی جاسکی ہے جو کہ قشر کی موٹائی کا صرف 20 واں حصہ ہی ہے۔ قشر سخت چٹانوں کا بنا ہواہے۔

 Plate tectonicsکے نظریہ کے مطابق زمین کے اندرونی حصہ میں خاص کر مینٹل والے حصہ میں مختلف مقامات پر درجۂ حررت کے فرق کے باعث مادہ ایک مقام سے دوسرے مقام پر حرکت کرتا رہتاہے۔ اسی عمل کو نقل و حمل یا Convection کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مینٹل میں ہر وقت حملی لہروں کا ایک مسلسل عمل جاری رہتا ہے۔ اسی عمل کی وجہ سے لیتھو اسفیر کی سلوں (پلیٹوں) پر سخت دبائو پڑتا ہے،جس کی وجہ سے وہ حرکت کرتی ہیں اور اس طرح ایک سال میں کئی انچ  کھسک جاتی ہیں۔

2۔زمین کی پہلی تہہ یعنی قشر یا Crust کے نیچے دوسری پرت یا تہہ کے نیچے Mantle ہوتا ہے۔یہ درحقیقت نہایت کثیف یا Dense اور گاڑھا مادہ ہوتا ہے۔ یہ نہ تو بالکل پگھلا ہوا اور نہ بالکل ٹھوس چٹان کی شکل میں ہوتاہے۔ مینٹل کی موٹائی لگ بھگ2900 یا تین ہزارکلو میٹر کی موٹائی کا ہوتا ہے۔ اس مینٹل یا دوسری تہہ کا اوپری حصہ سخت چٹان کی طرح کا ہوتاہے۔
قشر کی موٹائی اور مینٹل کی موٹائی کو ملا کر چٹانی کرہ یا Lithosphere کہا جاتا ہے۔ اس پرت کے نیچے کے حصہ کو اس کی نرمی اور پگھلی حالت کی وجہ سے Astheno Sphere یا نرم کرّہ بھی کہتے ہیں۔
3۔مرکز یا Core زمین کے بیچوں بیچ کا کرہ ہے ،جو لوہے اور نکل کی آمیزش سے بنا ہواہے۔ اس کی موٹائی یا اس کا نصف قطر لگ بھگ 3470 کلو میٹر کے برابر ہوتا ہے۔جو زمین کی کل موٹائی کا تقریباً 55فیصد ہے۔ اس کا درجۂ حرارت تقریبا ً7000 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔یہ سورج کی سطح کے درجۂ حرارت سے بھی زیادہ ہے جو کہ لگ بھگ6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ زمین کے مرکز پر بے انتہا دبائو ہے، اس کی وجہ سے زمین کا مرکز یا اندر کا کور بالکل ٹھوس ہے۔ اس اندر کی کور کی موٹائی لگ بھگ 1370 کلو میٹر ہے جو کہ زمین کی کل موٹائی کا صرف 22 فیصد ہی ہے۔ اس کور کا باہری حصہ مائع ہوتا ہے۔ اس مائع کی موٹائی 2100کلو میٹر ہوتی ہے ۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ زمین کی مقناطیسی خاصیت اس پگھلے ہوئے بیرونی کور کی تیز اور لگاتار گردش کی وجہ سے ہی ہے۔
لیتھو اسفیر کی سلیں:۔ ہم نے اوپر کے مضمون میں پڑھا ہے کہ قشر اور مینٹل کے اوپری سخت حصے کو ہی ملا کر لیتھو اسفیر کہا جاتاہے۔ درحقیقت یہ ایک چٹانی کرّہ ہے۔ اس کرہ نے زمین کو اس طرح گھیر رکھاہے جیسے کہ انڈے کا خول انڈے کے اندرونی حصہ کو نہایت مضبوطی کے ساتھ گھیر ے رہتا ہے لیکن یہ بات ذہن نشیں کر لینی چاہئے کہ لیتھو اسفیر ایک مسلسل اور غیر شکستہ کرہ نہیں ہے بلکہ یہ اسفیر تو سات بڑے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان بٹے ہوئے چھوٹے بڑے ٹکڑوں کو ہی تختیاں یاپلیٹیں کہتے ہیں۔ہر تختی چٹانی سل یا Slab ہے ۔یہ چٹانیں تقریباً 64 سے 145کلو میٹر لمبی ہوتی ہیں اور یہ سب چٹانیں آپس میں انٹر لاک یا پیوست ہوتی ہیں جن کی موٹائی 80 کلو میٹر تک ہوتی ہے اور یہ ٹھوس تہوں Astherno sphere پر یعنی اس کے نرم حصہ پر سٹی ہوئی اور استوار ہوتی ہیں۔
Plate tectonicsکے نظریہ کے مطابق زمین کے اندرونی حصہ میں خاص کر مینٹل والے حصہ میں مختلف مقامات پر درجۂ حررت کے فرق کے باعث مادہ ایک مقام سے دوسرے مقام پر حرکت کرتا رہتاہے۔ اسی عمل کو نقل و حمل یا Convection کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مینٹل میں ہر وقت حملی لہروں کا ایک مسلسل عمل جاری رہتا ہے۔ اسی عمل کی وجہ سے لیتھو اسفیر کی سلوں (پلیٹوں) پر سخت دبائو پڑتا ہے،جس کی وجہ سے وہ حرکت کرتی ہیں اور اس طرح ایک سال میں کئی انچ کھسک جاتی ہیں۔ یعنی سائنسی اعتبار سے زمین کی سطح کی مخصوص بناوٹ یعنی خشکی اور تری کے مختلف حصے ، پہاڑوں اور سمندر کی موجودگی زمین کے اندرونی حصے انہی حملی لہروں اور دبائو کا نتیجہ ہے۔یعنی جو زمین آج سے تقریباً پچیس کروڑ سال قبل ایک ہی تھی،  اس کے الگ الگ ٹکڑے نہیں تھے، وہ 18کروڑ سال قبل ٹوٹنے یا پھٹنے لگ گئی۔پہلے صرف ایک ہی بر اعظم کا وجود تھا۔ اسی کو پینگیا کہتے تھے یعنی زمین صرف ایک تھی، مگر زمین کی اسی حملی لہروں کی وجہ سے زمین میں driftپیدا ہوگیا۔ اسی کو Continentaldrift کہتے ہیں۔زمین پر موجود پہاڑوں نے لیتھو اسفیر کی پلیٹوں کو آپس میں جوڑ رکھا ہے جیسے ہند آسٹریلیائی پلیٹ اور پوریشیا کی پلیٹ کو ہمالیہ پہار نے جوڑ رکھا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *