پہاڑ بادلوں کی چال سے چل رہے ہیں

Share Article

وصی احمد نعمانی
 قرآن کریم کی تعلیم کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اللہ کی معرفت حاصل کرے اور اس سے ہدایات لے کر اپنی زندگی کو سنوارے اور آخرت کا توشہ تیار کرے۔نتیجہ کے طور پر جہاں اللہ نے مظاہر قدرت و کائنات پر غور و فکر کی دعوت دی ہے وہیں پہاڑ وں کی تخلیق، رنگ اور اس کی ضرورت پر انسان کے دھیان کو متوجہ کیا ہے۔ اسی لئے اگر زمین پر پہاڑ نہ ہوتے یا ہوتے بھی تو سارے پہاڑ زمین کے اندر دھنسے ہوئے ہوتے تو اس دھرتی کا نقشہ ہی دگر گوں ہوتا۔ انسان و حیوان اور نباتات وغیرہ کی زندگی  ایسی نہیں ہوتی جیسی کہ وہ اس وقت نظر آتی ہے۔ موسم ، آبی چکر، بارشوں کا نظام ، خشکی اور تری کا نظام آب و ہوا  کا رنگ ڈھنگ ،تخلیق و ترتیب کا انداز کچھ اور ہی ہوتا۔ اس زمین پر پہاڑوں کی بلندی بذات خود اللہ کی بے پناہ کرشمہ سازی اور رحمتوں سے بھری پٹی ہے اور یہ بلندی خدا کی عظمت و کبریائی کا پتہ دیتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور ہم نے ہی بنادیے اس میں خوب جمے ہوئے اونچے پہاڑ اور ہم نے ہی تمہیں میٹھا پانی پلایا‘‘ سورہ المرسلات نمبر 27-77.۔ اللہ نے قرآن کریم میں کئی جگہ پہاڑوں کو ’’ رواسی‘‘ کہا ہے، جو ایک معجزانہ انتخاب ہے۔ رواسی اس لئے کہا گیاہے کہ ان کی جڑیں زمین میں دور تک چلی گئی ہوتی ہیں۔ اگر زمین پر پہاڑوں کو کھونٹی یا بڑے ستون کی طرح اندر زمین میں گاڑ ا نہیں گیا ہوتا تو زمین کی سطح  ہر وقت کانپتی اور لرزتی رہتی، نتیجہ کے طور پر اس کی سطح پر سکون کی زندگی گزارنا ناممکنات میں سے ہوجاتا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے’’ اور اللہ نے گاڑ دیے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ وہ لرزتی نہ رہے‘‘سورہ النحل 15-16 ۔ اس آیت میں ایک اہم لفظ ’تمید‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی دائیں بائیں، ادھر ادھر یا اوپر نیچے حرکت کرنا ، ڈولنا، لرزنا جھومنا وغیرہ ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں ان تمام حالات کو اضطراب کی حالت میں رہنا بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کی اچھی مثال یہ ہوسکتی ہے کہ جب ہوا کے جھونکوں سے ٹہنیاں اوپر نیچے ہوتی ہیں تو اس کیفیت کوجھومنا، جنبش کرنا ، ہلنا وغیرہ کہہ سکتے ہیں ،جو لفظ تمید کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اگر سائنسی زبان کا استعمال کریں تو  یہ کہہ سکتے  ہیں کہ ارتعاش کی کیفیت سے نبرد آزما ہے یا انگریزی میں اسے Vibration کہہ سکتے ہیں۔اگر پہاڑوں کے ذریعہ ایسا انتظام نہیں کیا گیا ہوتا تو یہی زمین ایک سیارہ Planetکی طرح ہچکولے کھاتی رہتی اور دوسرے یہ کہ اس کی سطح مسلسل زلزوں سے لرزتی رہتی ۔ یہاں تک کہ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ  لاوا ،میگما ابل پڑتا ۔ پہاڑ زمین وغیرہ سے متعلق آیات میں اچھی طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم نظریہ ارضیات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جس میں مندرجہ ذیل عنوانات آتے ہیں:۔ (1)زمین کی ارضیاتی تاریخGeological History(2)زمین کی اندرونی ساخت یا بناوٹInterior Structure and  composition(3)زمین پر چاند، سورج اور دوسرے سیاروں کے تجازبی اثرات یعنی چاند کے باعث پیدا ہونے والے بحری اور بری مدّ و جزرOcean and continentaltide۔(4 )زمین کا مقناطیسی میدان اور اس کا اپنے گردو پیش سے باہمی عمل (5)زمین کی مختلف قسم کی اپنی حرکات Motion وغیرہ۔
پہاڑی نظام:۔دنیا میں ہزاروں پہاڑ ہیں۔ان میں سے بہت کم پہاڑ ایسے ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔زیادہ تر پہاڑی سلسلےMountain Range اپنے ساتھ وسیع تر پہاڑوں کو جوڑے ہوئے رہتے ہیں۔ اسی طرح ہر پہاڑی سلسلے سینکڑوں بلکہ ہزاروں چھوٹے بڑے پہاڑوں سے مل کر بنے ہوئے ہوتے ہیں۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ پورے کرّہ ارض پر ہر پہاڑی سلسلہ ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہوتاہے  جسے پہاری نظام یا پہاڑی بیلٹ کہا جاتاہے۔ درحقیقت بعض پہاڑی نظام لگ بھگ پورے کرہ ارض کو گھیرے ہوئے ہیں۔ یہ کئی کئی ہزار کلو میٹر تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ زمین کی خشکی کے 145 ملین مربع کلو میٹر رقبے کی تقریباً ایک چوتھائی سطح، سمندر سے 900 میٹر بلندی رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ پہاڑوں کی شکل میں موجود ہے ۔ہمیں معلوم ہے کہ دنیا کی سب سے بلند پہاڑی چوٹی مائونٹ ایوریسٹ ہے، جس کی بلندی 8840 میٹرہے۔ اسی طرح سطح سمندر کے نیچے سب سے گہری جگہ ماریانس ٹرینچMaryanas Trench ہے جو کہ 11022 میٹر گہری ہے۔ یہ عجیب و غریب اورحیرت انگیز سچائی ہے جس کا تذکرہ حضور اکرم  ؐ کی حدیث اور قرآن کریم میں سورہ  الروم میں موجود ہے۔ ایک حیرت انگیز سچائی کا پتہ صرف بیسویں صدی کے اواخر میں چلا ہے کہ دنیا کا سب سے طویل پہاڑی سلسلہ سمندر کے اندر ہے۔ اس کی لمبائی لگ بھگ 76000 کلو میٹرہے اور یہ سلسلہ زمین کے گرد پوری طرح چکر کاٹتا ہے۔ا س نے زمین کو مضبوطی سے باندھ رکھا ہے۔ اس سلسلہ کو وسط بحری مینڈ یا Mid Oceanic Ridgeکہا جاتا ہے۔
پہاڑ وجود میں کیسے آتے ہیں اس کے بارے میں حتمی طور پر سائنسی اعتبار سے بہت پختہ بات سامنے نہیں آتی ہے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے’’ اور اللہ نے گاڑ دیے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ وہ لرزتی نہ رہے‘‘سورہ النحل 15-16 ۔ اس آیت میں ایک اہم لفظ ’تمید‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی دائیں بائیں، ادھر ادھر یا اوپر نیچے حرکت کرنا ، ڈولنا، لرزنا جھومنا وغیرہ ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں ان تمام حالات کو اضطراب کی حالت میں رہنا بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کی اچھی مثال یہ ہوسکتی ہے کہ جب ہوا کے جھونکوں سے ٹہنیاں اوپر نیچے ہوتی ہیں تو اس کیفیت کوجھومنا، جنبش کرنا ، ہلنا وغیرہ کہہ سکتے ہیں ،جو لفظ تمید کی ترجمانی کرتے ہیں۔

اس سلسلہ میں کئی نظریات پیش کئے جا چکے ہیں۔ 1960 میں ایک نیا نظریہ وجود میں آیا جو حرکت پذیر سلوں کے نظریہ سے یا Plate Tactonics کے نظریہ سے جانا گیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مزید تحقیق کے ذریعہ بہت سے اہم سوالوں کا جواب تلاش کرنا باقی ہے، جیسے سلوں یا پلیٹوں کی حرکت کی حقیقی وجہ وغیرہ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے زمین کی اندرونی بناوٹ یا ساخت کو سمجھیں کیونکہ پہاڑ بذات خود ایک عظیم معجزہ ہے لیکن اس کی بناوٹ، تخلیق اس کی کارکردگی ،اس کی وجہ سے زمین کے اوپر اور اندر کی بے شمار قدرتی حرکتیں یا اتار چڑھائو ،ان سب پر غور کرنے کے بعد سر جھک جاتاہے اللہ کی کبریائی اور کرشمہ سازی کے سامنے کہ اللہ نے کس طرح زمین کے اندر پہاڑ کو پیوست کردیا، کیسے نصب کردیا ،کیسے بلند کردیا اور کیسے جمادیا۔ اس کے باوجود قرآن کا حکم ہے کہ جب تم پہاڑوں کو دیکھوگے تو گمان ہوتاہے کہ وہ زمین پر جمے ہوتے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ وہ بادلوں کی چال سے چل رہے ہیں۔ سورہ النحل چیپٹر نمبر 27آیت نمبر 88۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *