پد یاترا: یو پی الیکشن کا ترپ کا پتہ

Share Article

وسیم راشد
کانگریس کے شہزادے نے یوپی الیکشن میں مایاوتی سرکار کا تختہ پلٹنے کا پورا ارادہ کر لیا ہے اور اس کے لیے انہوں نے کسانوں کا ساتھ دینے کے علاوہ مایا وتی سرکار پر پوری طرح حملہ کردیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ وہ اترپردیش کو دلدل میں لے جارہی ہیں۔علی گڑھ تک کی پد یاترا کے تیسرے دن راہل گاندھی نے گائوں کے لوگوں کو  ان کے دکھ درد کا مداوا کرنے کی پوری یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بار بار یہ بھی کہا کہ دلال اس ریاست کو چلا رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یوپی کی مایا وتی سرکار میں کئی خامیاں ہیں۔عصمت دری ، لوٹ مار اور افسروں کی من مانی کی خبروں سے لے کر کسانوں کی زمین کو کم قیمت پر لے کر بلڈروں کے ہاتھوں فروخت کرکے بڑی قیمت وصول کرنے جیسے واقعات  مایا وتی کی حکومت پر ایک بد نما داغ ہے اور ان کو عوام کے سامنے لانے کے لیے راہل گاندھی نے جو قدم اٹھایا ہے اور کسانوں کا ساتھ دینے اور ان کے حقوق واپس دلانے کے لیے پدیاترا کا  جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ اپنے آپ میں ایک اچھا قدم ہے،لیکن اس وقت ہمارے ذہن میں بار بار ایک محاورہ آرہا ہے کہ راہل جی کو دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آرہا ہے مگر اپنی شہتیر نظر نہیں آتی ہے۔یو پی سرکار کو انہوں نے ایک دلال سے تعبیر کیا ہے۔میں یوپی سرکار کے دفاع میں کچھ کہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس وقت میرا یہ موضوع ہے،لیکن جو بات میرے ذہن میں بار بار آتی ہے ،یہ ہے کہ یوپی سرکار کو دلال کہنے سے پہلے انہیںایک مرتبہ مرکز میں اپنی سرکارکی کارکردگی پر نظر ڈال لینی چاہیے جو بد عنوانیوں کے متعدد الزامات سے گھری ہوئی ہے۔2 جی اسپیکٹرم کا معاملہ ہو یا دولت مشترکہ کھیلوں میں گھوٹالے کا الزام ، آدرش گھوٹالے ہوں یا پھر پی ایف میں ہیرا پھیری۔غرض یہ وہ الزامات ہیں جو راست کانگریس سرکار پر عائد ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ تمام معاملات اتنے سنگین ہیں کہ اس کا جواب دینا کانگریس کے لیے بھاری پڑ رہا ہے، ایسے میں وہ اس پد یاترا کے موقع پر یوپی سرکار کو دلال کہہ کر عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیا وہ ان الزامات کی وجہ سے عوام میں کانگریس کی جو شبیہ بگڑی ہے اس پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں،کیا وہ اپنی اس مہم کو آنے والے الیکشن میں کیش کرانا چاہتے ہیں؟ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ، چونکہ بہار میں گزشتہ الیکشن کے موقع پر اپنی انتھک کوششوں کی وجہ سے انہیں زبردست کامیابی کی امید تھی، مگر انہیں صرف مایوسی ہاتھ لگی اور نتیش کمار کی پالیسی نے انہیں بہار کی زمین پر قدم جمانے کا موقع نہیں دیا، اب وہ یوپی میں اپنی سیاسی طاقت دکھا کر بہار کی خفت مٹانا چاہتے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صوبہ یوپی جس کا مرکز میں حکومت بنانے اور بگاڑنے میں بڑا کردار ہوتا ہے  اوریہ یہاں سیاسی قدم جمانااسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب مایا وتی کی مضبوط سیاسی دیوار میں نقب لگائی جائے۔اس کام کے لیے انہیں کسی موقع کی تلاش تھی اور اب جبکہ کسانوں کی زمین کا معاملہ ان کے ہاتھ لگا ہے تو وہ اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتے اور اس کا فائدہ اٹھا کر مایا وتی کے خلاف ماحول بنا کر اپنے لیے زمین ہموار کررہے ہیں،جیسا کہ اس طرح کے اشارے مختلف پارٹی کے لیڈران بھی دے چکے ہیں۔چنانچہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر شاہ نواز حسین نے راہل گاندھی کی اس پد یاترا کو ’’ کانگریس کا ایک منصوبہ بند پروگرام ‘‘ کہاہے۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈر شیوپال سنگھ یادو نے  کہا کہ ’’ راہل کی پد یاترا ایک ڈرامہ ہے، وہ گائوں والوں کے ساتھ کھانا کھاکر ان غریبوں کو کیا دے سکیں گے‘‘۔ اس سلسلے میں اوما بھارتی نے راہل گاندھی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح بھٹہ پارسول میں جاکر کسانوں کے ساتھ میٹنگ کررہے ہیں، اس سے بہتر تو یہ تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر میں جاکر ان کسانوں کے بارے میں باتیں کرتے اور لینڈ ایکوائرمنٹ کے تعلق سے کسانوں کی بھلائی کے لیے کوئی فیصلہ کرواتے۔ بی کے یو کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’جو دہلی  کے اے سی روم میں بیٹھنے کے عادی ہوں وہ کسانوں کے لیے کیا لڑائی لڑ سکیں گے، راہل پہلے کھیتوں میں کام کرنا سیکھیں پھر کسانوںکے حقوق کی باتیں کریں‘‘۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ راہل کی پد یاترا کے پس پردہ کسانوں کے لیے ہمدردی ہوسکتی ہے ،اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی مسئلے کا حل یا ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے پد یاترا کی نمائش ضروری ہے؟ کیا عوام کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ کسانوں اور عوام کے ہمدرد ہیں، گائوں گائوں جاکر میٹنگیں کرنا ،جس سے ریاستی حکومت کے لیے سیکورٹی کے مسائل کھڑے ہوں، ضروری ہے؟ یہ سچ ہے کہ پد یاترا کی اپنی ایک اہمیت ہے اور پد یاترائوں کے ذریعہ حکومت کی توجہ حساس مسائل کی طرف مبذول کرانے کی روایت رہی ہے اور اس کے فوائد بھی دیکھنے کوملے ہیں ۔چنانچہ سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے 1983 میں کنیا کماری سے باپو سمادھی، راج گھاٹ تک کی پد یاترا کی تھی۔ ان کی یہ پد یاترا عوام میں اپنی ساکھ بنانے اور اندرا گاندھی حکومت کی کوتاہیوں کو اجاگر کرنے کے لیے تھی۔ انہوں نے اپنے اس مقصد میں بہت حد تک کامیابی بھی حاصل کی ۔اسی طرح 1987 میں سنیل دت نے اپنی بیٹی پریہ دت کے ساتھ عوام میں خود کو متعارف کرانے کے لیے پدیاترا کی۔ اس کا فائدہ انہیں یہ ملا کہ 1989 کے انتخاب میں انہیں کامیابی ملی۔ 2003 میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے آندھرا پردیش کی صورت حال میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک پد یاترا کی۔اس کا فائدہ انہیں 2004 میںریاست میں ہونے والے انتخاب میں ملا اور انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ فروری 2011 میں سابق کانگریس ایم پی جگموہن ریڈی نے ایک پد یاترا پولوارام ایریگیشن پروجیکٹ کی حمایت میں کی۔اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی رہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد لیڈروں نے پد یاترا کے ذریعہ عوامی رجحان کو اپنے حق میں کرنے، اور حکومت وقت کی کوتاہیوں کو منظر عام پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پد یاترا ہی ایک ایسا راستہ رہ گیا ہے جس کے ذریعہ ایک لیڈر بہترین لیڈر مانا جائے، یا اس لیڈر کو عوام دوست سمجھا جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی جن کو ایک کامیاب وزیر اعظم سمجھا جاتا تھا،نے کبھی کوئی پد یاترا نہیںکی اور نہ ہی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی ریاست میں اس طرح کی مہم چلائی۔اس کے باوجود انہیں ایک اچھا لیڈر، عوام کا ہمدرد اور دلوں پر راج کرنے والے وزیر اعظم کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔
بہر کیف، ایک ایسے وقت میں جب کہ مہنگائی ایک قومی مسئلہ بنی ہوئی ہے،بدعنوانی کی وجہ سے عوام بے حال ہے ،ایسے میں راہل گاندھی کا یوپی ریاست میں کسانوں کے لیے پدیاترا کرنا واضح کرتا ہے کہ وہ یوپی میں کانگریس کے لیے میدان بنا رہے ہیں ۔اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ریاستی سرکار کی کوتاہیوں کو اجاگر کیا جائے، مرکزی سرکار کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کی جائے،مگر ایسا لگ رہا ہے کہ شاید وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے کیوں کہ عوام ان کی اس ہنگامی پد یاترا کو سمجھنے لگے ہیں اور یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اس پد یاترا میں کسانوں اور عوام کی ہمدردی کم اور ووٹ بینک کی سیاست زیادہ نظر آرہی ہے۔اسی لیے وہ جہاں بھی جاتے ہیں یوپی سرکار کو اپنے نشانے پر ضرور لیتے ہیں۔بہرکیف، اس پدیاترا سے  وہ چاہے مایا سرکار کا تختہ پلٹنے میں کامیاب ہوں یا نہیں لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ لڈو ٹوٹے گا تو تھوڑا تو جھڑے گا ہی۔ وہ اپنی اس پد یاترا کے طفیل میں کچھ نہ کچھ سیاسی فائدہ حاصل کر ہی لیں گے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی پد یاترا کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ گائوں کے لوگوں کا من موہ لینا چاہتے ہیں۔لیکن وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *