دلیپ چیرین
حق اطلاعات قانون کے تحت داخل کی گئی عرضیوں کی وجہ سے وزیر اعظم کا دفتر (پی ایم او) جائداد کی تفصیل فراہم کرنے پر اگرچہ مجبور ہوگیاہو، لیکن نوکرشاہی 2004کے پدم ایوارڈ سے متعلق معلومات عام کرنے کے معاملے میں ابھی بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے اس سال اپریل میں ہی وزیر اعظم کے دفتر کو یہ معلومات مہیا کرانے کے احکامات جاری کردئے تھے، لیکن یہ اب تک نہیں ہوپایا ہے۔ پی ایم او کے رویے سے ناراض سینٹرل انفارمیشن کمشنر اے این تیواری نے اب اس بابت وزارت کی ڈپٹی سکریٹری کو ایک مکتوب لکھا ہے۔
نوکر شاہی پر نظر رکھنے والے لوگوں کے لئے پی ایم او کے افسروں کا یہ رویہ حیران کن نہیں ہے۔ 2004کا یہ معاملہ موجودہ منموہن حکومت سے براہ راست متعلق نہیں ہے۔ لیکن یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ پدم ایوارڈ کی فہرست کے ساتھ اکثر چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے اور پی ایم او کے افسران اپنی مرضی سے ناموں کی کاٹ چھانٹ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تنازعات کھڑے ہوتے ہیں۔ پی ایم او کے موجودہ اعلیٰ افسران بھی اپنے اس خصوصی اختیار کو کھونا نہیں چاہتے اور اس لئے متعلقہ دستاویز کو عام کرنے سے مسلسل بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پی ایم او سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے حکم کو کب تک نظر انداز کرتا رہے گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا تیواری اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حال ہی میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کا عہدہ سنبھالنے والے تیواری کے لئے یہ پہلا بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here