اویسی کے ارکان اسمبلی کی کارکردگی سب سے اچھی

Share Article
owaisi
مختلف ریاستوں کے انتخابات میں اس وقت اینٹی انکمبینسی فیکٹربہت کام کررہاہے۔ اس کی وجہ سے مختلف پارٹیوں نے ٹکٹ کی تقسیم میں پرانے چہروں کوبدلا ہے۔اسے لیکر اپنے چہرے بغاوت کربیٹھے ۔ نتیجتاً مختلف پارٹیوں نے اپنے اپنے باغی لیڈروں کونکالا بھی۔
بی جے پی نے راجستھان میں 4سابق وزراء سمیت 11باغی، مدھیہ پردیش میں متعدد سابق وزراء اورارکان اسمبلی سمیت 53باغی پرانے چہروں کونکالا۔ یہی حالت کم وبیش کانگریس، تلنگانہ راشٹریہ سمیتی، تیلگو دیشم پارٹی ودیگر بڑی پارٹیوں کی اسمبلی انتخابات ہورہی ریاستوں میں ہے۔
مگرتلنگانہ میں ایک رکن پارلیمنٹ اور7ارکان اسمبلی والی چھوٹی سی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کویہ خطرہ قطعی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت ریاست میں اپنے تمام پرانے چہروں کو ٹکٹ دیکر برقراررکھا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ ایم ایل ایزہیں جوکہ لگاتار تین چاربار سے منتخب ہوتے آرہے ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم کے یہ تمام ارکان اسمبلی حیدرآباد کے مختلف حلقوں کے ہیں۔یہ سبھی ارکان اسمبلی پارٹی کے صدر اسدالدین اویسی کوسیدھے جوابدہ ہیں۔یہ سب کے سب حیدرآباد کے دارالسلام میں اے آئی ایم آئی ایم کے دفتر میں جمعہ کوچھوڑکر روزانہ چارگھنٹے ساڑھے دس سے ڈھائی بجے تک پابندی سے بیٹھتے ہیں اورلوگوں کے مسائل کوسنتے ہیں اورجواب میں ضروری کارروائی کیلئے قدم آگے بڑھاتے ہیں۔
ان ساتوں ایم ایل ایز نے اپنی کارکردگی سے لوگوں کومطمئن کررکھاہے۔ اس لئے ان کے خلاف کوئی اینٹی انکمبینسی فیکٹر کام نہیں کررہاہے۔یہی وجہ ہے کہ ان پرانے ارکان اسمبلی کوبدلنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ یہ تمام پرانے چہرے جن کوپھر سے ٹکٹ دیاگیاہے وہ چندرایان گٹا اسمبلی سیٹ سے اکبرالدین اویسی، چارمینارسے ممتاز احمد خاں، یاقوت پورہ سے سیداحمد پاشاقادری ، بہادرپورہ سے محمدمعظم خاں، ملک پیٹ سے احمد باللہ، نامپلی سے جعفرحسین معراج اورکاروان سے کوثر محی الدین ہیں جبکہ نئے چہرے سید رحمت کوراجندرنگرسے پہلی مرتبہ ٹکٹ دیاگیاہے۔
اس طرح کارکردگی کے لحاظ سے اویسی کی پارٹی کے تمام پرانے ارکان اسمبلی نے واقعی تاریخ رقم کی ہے۔اس پارٹی سے کوئی اتفاق کرے یانہ کرے مگرپارٹی کے پرانے ارکان اسمبلی کے کاموں سے کسی کوکوئی اختلاف نہیں ہے، عام عوام مطمئن ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *