اورلینڈوسانحہ: ذہنی خبط اور امریکی آئین میں لچیلا پن کا نتیجہ

Share Article

وسیم احمد
p-8اورلینڈو نائٹ کلب پر حملہ ہوا۔حملہ کرنے والا افغانی نژاد مسلمان تھا۔اس حملے میں پچاس کے قریب بے قصوروں کی جانیں گئیں اور پچاس سے زیادہ شدید زخمی ہوئے۔حملہ آور میں مسلمان کا نام آتے ہی میڈیا نے اس حملے کومذہبی رنگ دینا شروع کردیا۔اس حملے کے تار داعش سے جوڑدیا گیا۔ یہ ایک روایت چلی آرہی ہے کہ اگر کسی دہشت گردانہ عمل کو کسی مسلمان نے انجام دیاہے تو اسے فوری طور پر اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف بد نام زمانہ دہشت گرد گروپ داعش اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کرلیتا ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کی دہشت قائم رہے۔ اورلانڈو نائٹ کلب پر جیسے ہی ایک سنکی مزاج افغانی نژاد امریکی نوجوان نے حملہ کیا، میڈیا نے اس سانحہ کو داعش سے جوڑ کر مذہبی حملہ قرار دینے کی کوشش شروع کردی جبکہ لینڈو پولیس چیف نے انتہائی محتاط انداز میں بیان دیاکہ یہ حملہ جرم سے نفرت ( Hate Crime)بھی ہوسکتا ہے۔صدر اوبامہ کا بھی بیان آیا کہ اس طرح کے حادثوں کو بغیر ثبوت کے مذہب کے ساتھ جوڑنا صحیح نہیں ہے۔
اگر حملہ آور عمر متین کے والد صدیق میر کی مانیں تو اس حملے کی بنیادی وجہ ہیٹ کرائم ہی معلوم ہوتی ہے۔عمر کے والد کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ماہ پہلے اس کے بیٹے نے میامی میں دو ہم جنس پرستوں کو دیکھاتھااور اس کے بعد اس میں ان سے سخت نفرت ہونے لگی تھی۔ اس نفرت کی وجہ سے ہی اس نے ہم جنس پرستوں کے کلب پر حملہ کیا۔ ممکن ہے اس میں سچائی ہو اور یہ حملہ ہیٹ کرائم کا ہی نتیجہ ہو۔بہر کیف وجہ جو بھی ہو لیکن یہ عمل انتہائی مذموم ہے اور کسی بھی طریقے سے اس کو جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آخر امریکہ کے نوجوانوں میں گزشتہ کچھ برسوں میں اشتعال کا مزاج کیو ں پیدا ہوا ہے؟
ہم اس واقعہ کی ایک وجہ امریکہ کے ایک قانون کو بھی سمجھ رہے ہیں۔امریکہ میں اسلحہ رکھنے کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے قوانین سخت کرنے کی سب کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔صدر باراک اوباما نے اپنے 8 سالہ دور میں متعدد بار اس حوالے سے اقدام کرنے کی کوشش کی ہے اور فائرنگ میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کے ہر واقعہ کے بعد اسلحہ کی خریداری پر کنٹرول کی بات کی جاتی ہے ،لیکن کانگریس کی اکثریت ابھی تک کوئی موثر اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امریکہ میں ہر سال 33 ہزار سے زائد لوگ فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو تہائی خودکشی کے واقعات ہوتے ہیں جبکہ 12 ہزار کے لگ بھگ لوگ کسی مخبوط الحواس شخص کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں۔ چنانچہ اورلانڈو میں حالیہ قتل عام سے پہلے ملک کی تاریخ کا بدترین واقعہ 2007 میں ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں پیش آیا تھا جس میں ایک طالب علم نے 32 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد 2012 میں سینڈی ہوک اسکول میں ایک قاتل نے 5 سے 7 سال کے بچوں اور ان کی استانیوں کو قتل کر کے المناک مثال قائم کی تھی۔ اس حادثہ میں 27 بچے اور استاد جان سے گئے تھے۔ سنگدل قاتل نے پہلے اپنی ماں کو قتل کیا تھا جو اسی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ پھر اسی اسکول کے طالب علموں اور استادوں پر فائرنگ کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی کوشش کی۔ اسی سال فروری کے مہینے میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں 9 افراد ہلاک کئے گئے تھے۔ ان میں ایک واقعہ 25 فروری کو کنساس میں ہوا تھا جہاں فیکٹری میں کام کرنے والے ایک 38 سالہ شخص نے اپنے ہی تین ساتھیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور 13 کو زخمی کر دیا۔ گزشتہ برس ایک 45 سالہ شخص نے مشی گن میں مختلف لوگوں پر فائرنگ کر کے 6 افراد کو ہلاک اور درجن بھر کو زخمی کر دیا تھا۔غرضیکہ یہ کچھ مثالیں بتا رہی ہیں کہ امریکہ میں اسلحہ رکھنے کا قانون، جنونی لوگوں کوجرائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس کی ایک مثال ہمیں اورلانڈو کلب میں نظر آئی، جہاں ایک جنونی شخص نے اندھادھند فائرنگ کرکے پچاس سے زیادہ بے قصوروں کی جانیں لیں۔
اس حادثے کے پیچھے ایک دوسری وجہ بھی ہوسکتی ہے اور وہ ہے ہم جنس پرستوں سے نفرت۔ امریکہ کے دستور میں اگر چہ ہم جنس پرستوں کی باہمی شادی کی اجازت ہے ،مگر امریکی سماج میں بڑی تعداد ایسوں کی ہے جو اس عمل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔سماج میں اس سے نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جون 2015 میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو جائز قرار دینے کا جو فیصلہ دیا تھا ، اس سے بھی اس سوال پر معاشرے میں پائے جانے والے اختلاف کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کی 9 رکنی بینچ میں سے 4 ججوں نے اس فیصلہ کے خلاف رائے دی تھی، جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ تاہم بنچ کے اکثریتی 5 ارکان کی رائے کی بنیاد پر ہم جنس پرستوں کی شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اکثریت کی موافقت کی وجہ سے یہ قانون پاس ہوگیا اور ہم جنس پرستوں کو باہمی ساتھ رہنے کا قانونی حق مل گیا ،لیکن سماج کا ایک بڑا طبقہ جو اس وقت بھی سخت مخالف تھا اور آج بھی اس کا مخالف ہے، سماج کے اسی سوچ کا ایک حصہ عمر متین بھی ہوسکتا ہے اور اسی سوچ اور نفرت کی وجہ سے اس نے اورلانڈو نائٹ کلب پر جو کہ ہم جنس پرستوں کا کلب ہے پر اندھا دھند فائرئنگ کردی۔اگر واقعی ایسا ہے اور ہ، جنس پرستی سے نفرت کی وجہ سے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے تو پھر امریکہ میں اس موضوع پر بحث کی ضرورت ہے۔کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ عمر متین ہم جنس پرستوں سے نفرت کرنے والا پہلا آدمی ہے بلکہ سماج کا ایک بڑا طبقہ اس سے نفرت کرتا ہے۔اگر آج اس نے میامی میں کوئی منظر دیکھ کر یہ قدم اٹھایا ہے توپھر سما ج کا کوئی دوسرا جنونی فرد بھی یہ کرسکتا ہے اور بے قصوروں کی جانیں لے سکتا ہے، اس لئے بحث اس بات کی ہونی چاہئے کہ اس قانون کو عمل دارآمد کرنے کو مشروط کیا جائے تا کہ نفرت کرنے والوں کو مشتعل ہونے کا موقع نہ ملے۔
پوری دنیا میں ہم جنس پرستی سے اختلاف اور نفرت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔خود ہمارے ملک ہندوستان میں ہم جنس پرستی کے خلاف پورا سماج اٹھ کھڑا ہوتا ہے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ کون سا خیال ہے، جو اس نفرت کو اتنا بھڑکا دیتا ہے کہ انسان قتل عام تک پر آمادہ ہو جاتا ہے؟پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں 17 ماہ میں 45 خواجہ سرا قتل کر دیئے گئے اور تفتیش کے مطابق قتل کی کوئی نہ کوئی وجہ ہم جنس پرستی سے جا کر ملتی ہے۔پاکستان اور افغانستان میں گزشتہ 30 برسوں سے جیسے حالات ہیں، انہوں نے ایک ایسی نسل کو تیار کیا ہے جو خود کو ہر سوال سے ماورا سمجھتی ہے، وہ اپنے علاوہ کسی کو برداشت نہیں کرتے، ان کے مخالفین کو زندہ رہنے کا بھی اس لیے حق ہے کہ وہ ان کے قائل ہوجائیں ورنہ انہیں مار دیا جائے گا۔ ایسے لوگ دنیا کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور جب ناکام ہوجاتے ہیں تو اسے لہو رنگ کر کے اپنی مایوسی اور بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔چونکہ عمر متین کے والدین کی پرورش اسی تہذیب پر ہوئی ہے اور ان کے گھر میں عمر متین کی پرورش بھی اسی طرز پر ہوئی ہوگی ، لہٰذا جب اسے ہم جنس پرستی کا عمل اپنے نظریہ اور سوچ کے خلاف نظر آیا تو اس نے تشددکی راہ اختیار کرلی۔ کیونکہ ماہرین نفسیات کے مطابق ذہن کی ایک خاص سطح پر جب انسان کوئی فیصلہ کرلیتا ہے، اپنے خیالات کو اٹل، حتمی اور سب سے بالاتر تصور کرنے لگ جاتا ہے تو یہاں پر پہنچنے کے بعد بات چیت کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے، اب ایسا انسان پوری دنیا میں اپنے نظریات کا نفاذ چاہتا ہے اور اپنے ہر مخالف کو گالی سے لے کر گولی تک مار کر دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ہوسکتا ہے عمر متین بھی اس سطح پر پہنچ گیا ہو جہاں اپنی بات گالی اور گولی سے منوا ئی جاتی ہے۔
بہر کیف اگر عمر متین کا یہ حملہ ہم جنس پرستوں سے نفرت کی بنیاد پر ہوا ہے تو امریکہ میں یہ بحث پھر سے ایک بار چھڑے گی کہ نئی نسل سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو نفرت سے دیکھتی ہے اور اس پر ایک بار پھر سے غور ہونا چاہئے اور اگر یہ حملہ انتہا پسند اسلامی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر کیا ہے اور خود بھی پولیس مقابلہ میں جان دی ہے تو ملک میں آباد 35 لاکھ کے لگ بھگ مسلمانوں کے بارے میں معاشرے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ مسلمان ملکوں سے امریکہ آنے والے لوگوں کے لئے زیادہ مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم ایک نہایت نازک اور مشکل دور میں زندہ ہیں۔ باہمی مواصلات اور اعتماد سازی کی فضا پیدا کرنے کیلئے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تاکہ مٹھی بھر انتہا پسند معاشرے کے امن و سکون کو تباہ نہ کر سکیں۔بہر کیف ان مرنے والوں کے لئے امریکی شہر اورلینڈو کے علاوہ فرانس، آسٹریلیا، برطانیہ اور جرمنی سمیت مختلف ممالک میں دعائیہ تقریبات منعقد ہو رہی ہیں اور شمعیں روشن کی جا رہی ہیں، ان تقریبات میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں شریک ہورہے ہیں۔اورلینڈو میں ہونے والی دعائیہ تقریب میں شریک امام ا محمد علی مرسی کا کہنا ہے کہ نفرت اور تباہی کو ختم کرنے کے لیے مسلمان سب کے ساتھ ہیں اور مرنے والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے ہم تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *