ہماری جنگ یہودیوں یا یہودیت کے خلاف نہیں، اسرائیل کے خلاف ہے

Share Article

 

یہودیوں کو قتل کرنے سے متعلق حماس رہنما کے ذریعہ دیئے گئے بیان پر چوطرفہ مذمت کے بعد حماس کی وضاحت

اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ نے باور کرایا ہے کہ جماعت کی یہودی مذہب اور اس کے پیروکاروں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ ہماری جنگ فلسطین پرقابض اس صہیونی ریاست کے ساتھ ہے جس نے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق غصب کررکھے ہیں۔ یہ جنگ حقوق کے حصول اور فلسطینیوں کی مکمل آزادی تک جاری رہے گی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میںجماعت کیسیاسی شعبے کے رکن فتحی حماد کے بیان کوان کی ذاتی رائے قرار دیا اور کہا کہ حماس کا ذاتی موقف یہ ہیکہ یہودیوںاور یہودیت کے ساتھ ہماری کوئی مخاصمت یا دشمنی نہیں۔

 

Image result for hamas our war is against Israel

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہماری جنگ اس غاصب اور قابض دشمن کے ساتھ ہے جو ہماری سرزمین،مقدسات اور ملک پرقابض ہے۔ پوری دنیا کے یہودیوں سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر دنیا میں پرامن یہودیوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے توحماس اس کی مذمت کرتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں حق واپسی اور غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے عوامی احتجاج جاری رہے گا۔ فلسطینی قوم کے پرامن مظاہروں کا یہ مقصد نہیں کہ صہیونی ریاست فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق دبانے کے ساتھ فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *