شفاف الیکشن ہی ہماری اولین ترجیح: ڈاکٹر ایس وائی قریشی

Share Article

بہار میں اسمبلی انتخابات کا دور دورہ ہے۔تمام پارٹیوں کے امیدوار رائے دہندگان کو لبھانے اور ان کا ووٹ حاصل کرنے کی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ امیدوار ووٹروں کو خریدنے سے بھی نہیں چوک رہے ہیں۔ یعنی رات کے اندھیرے میں الیکشن کمیشن کو چکما دے کر لوگ پیسے بانٹ رہے ہیں اور ووٹروں سے حلف لے رہے ہیں کہ وہ اپنا قیمتی ووٹ انہی کو دیں گے۔ بہار میں اسمبلی الیکشن کے تمام پہلوؤں پر چوتھی دنیا اردو کی ایڈیٹر وسیم راشد نے چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹرایس وائی قریشی صاحب سے تفصیلی بات چیت کی۔ بات چیت کے اہم اقتباسات نذر قارئین ہیں۔
س:بہار کے انتخابات میں کوئی لیڈر دوسرے لیڈر کو گنگا میں پھینک دینے کی بات کر رہاہے ، توکوئی لاٹھی لے کر اسٹیج پر کھڑا ہو کر اسے پیٹنے کی باتیں کرتاہے۔ بہار کی انتخابی ریلیوں میں جس طرح کی زبان کا استعمال ہو رہا ہے، وہ ورون گاندھی کی یاد دلاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے آبزرور کیا کر رہے ہیں۔ آپ ایکشن کیوں نہیں لیتے؟
ج: انتخابات میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف تلخ کلامی ہوجائے تو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے لیے ہماری ٹیمیں ہوتی ہیں۔ ہر انتخابی حلقہ میں 5-10ٹیمیں ہوتی ہیں،جو گھومتی رہتی ہیں۔ ہر وی آئی پی اور ہر لیڈر کی تقریر کو ہم ریکارڈ کرتے ہیں۔ آپ نے  جس بات کا ذکر کیا ہے ایسے ایک دو واقعات پچھلے ایک دو دن میں ہی سامنے آئے ہیں۔ اس بارے میں ہم لوگ رائے لے رہے ہیں۔ ہمارے پاس گنگا میں پھینکنے والی شکایت بھی آئی ہے۔ اس پر ہم آج ہی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ یہ چیزیں مناسب نہیں ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ آبزرور الرٹ رہتے ہیں۔ ہم تو سی ڈی بھیجتے ہیں۔ اس واقعہ کی ریکارڈنگ بھی ہمارے پاس آگئی ہے۔ ہماری لیگل ٹیم نے اسے دیکھا ہے، ہم بھی دیکھیںگے۔ تمام لیڈروں سے ہماری یہی اپیل ہوتی ہے کہ وہ ماڈل کوڈپر سختی سے عمل کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ انتخابات کے مقابلہ میں اس بار بہار میں کافی ڈسپلن ہے،کیوں کہ ہمارے پاس شکایتیں پہلے درجنوں کے حساب سے روزانہ آتی تھیں، لیکن اس بار شکایتیں بہت کم آئی ہیں۔ بہرحال ایسے اکا دکا واقعات بھی سامنے نہ آتے تو اور بھی اچھا ریکارڈ قائم ہوتا۔
ہم لیڈروں کو نوٹس دیتے ہیں کہ آپ نے ایسا کہا، آپ اس کی وضاحت کیجیے کہ آپ نے کیا کہا اور کیوں کہااور اگر ان کی وضاحت پرہمیں اطمینان نہیں ہوتا ہے تو ہم دوبارہ وضاحت کرنے کو کہتے ہیں۔ لیڈروں کے لیے الیکشن کمیشن سے نوٹس جانا ایک بہت بڑی چیز ہوتی ہے کیوں کہ ان کی عوام میں جو ساکھ ہے اس کو چوٹ لگتی ہے اور ریفریمانڈ کرنے کی نوبت آجائے تو وہ ان کے لیے اچھی چیز نہیں ہوتی جس کو وہ نظر انداز کرنا چاہتے ہیں، تو ہم اپنا جوایکشن لیتے ہیں وہ تو لیںگے ہی،اس کے ساتھ ہی ہم اپیل کرنا چاہیںگے کہ ایسے موقع نہ آئیں، کیوں کہ صاف ستھرا الیکشن ہونا چاہیے ۔
س: بہار کے انتخابات میں تقریباً 44فیصد امیدوار ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن امیدواروں سے حلف نامہ تو جمع کرواتا ہے، لیکن ایسے لوگوں کو انتخاب لڑنے سے روک نہیں پاتا۔ کیا یہ ہم مان لیں کہ الیکشن کمیشن ایک بغیر دانتوں والا بے زہر ادارہ ہے؟
ج:دراصل اس بارے میں لوگوں کو معلومات نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے بھی الیکشن کمیشن کو قصوروار مانتے ہیںکہ کریمنل بیک گراؤنڈ کے لوگ الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں۔ارے بھئی کون الیکشن میں کھڑا ہوسکتا ہے اور کون الیکشن میں نہیں کھڑا ہوسکتا ہے، یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے متعلق معاملہ ہے۔ اس کے لیے قانون وضع کیا جاتاہے۔ ہمارا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ اس وقت کے قانون کے مطابق جن لوگوں کے خلاف الزامات ہیں وہ جب تک کورٹ سے فائنل نہ ہوجائیںتب تک وہ بے گناہ  مانے جائیں گے، اس لیے ہم ان کو نااہل قرار نہیں دے سکتے۔ حالانکہ لاء کمیشن نے سفارش کی تھی۔ عام طور پر سیاست دانوں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ مخالف پارٹی جھوٹے الزام عائد کر کے فرضی کیس کر دیتی ہے۔ آپ اچھی امیدوار ہیں، آپ کو ہرا نا مشکل ہے تو ایک جھوٹا کیس الیکشن سے کچھ دنوں پہلے کردو کہ ان کے خلاف تو کیس ہے، انہیں ڈس کوالیفائی ہونا چاہیے۔
ہم نے اس پر یہ کہا کہ ٹھیک ہے ایف آئی آر جھوٹی ہوسکتی ہے، کیس جھوٹے ہوسکتے ہیں۔ لاء کمیشن نے کہا کہ اگر ایسا کیس 6مہینے پہلے ہوا ہے جس کا مطلب یہ کہ بہت لمبی پلاننگ ہے تو اس کو ہم الگ کریں۔ دوسرے ہم نے کہا جہاں پر کورٹ چارجز فریم کرلے اور معاملہ ایسا سنگین ہو جس پر 5سال کی سزا ہوجائے گی، تو کم سے کم فریمنگ آف چارجز کے بعد آپ ڈس کوالیفائی کردیں۔ اس پر عدلیہ کی رائے مختلف ہے۔ اس وقت کے قانون کے مطابق ڈس کوالیفائی نہیں کرسکتے، لیکن لوگ سمجھتے ہیں کہ اس میں ہماری کوتاہی ہے۔ پھر بھی میں بتادوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی مجرم امیدوار ہے تو اس کے لیے ہم جو کرسکتے ہیں اس سے چوکتے نہیں ہیں۔اس کے پیچھے ایک گاڑی لگاتے ہیں، اس میں مجسٹریٹ ہوتا ہے، ویڈیو ٹیم ہوتی ہے، وہ مستقل اس کو شیڈو کر تی ہے، اس کی پوری ریکارڈنگ  ہوتی رہتی ہے، وہ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا اور ڈرتا ہے کہ ہر چیز ریکارڈ ہورہی ہے، اگر میں غنڈہ گردی کروںگا تو پکڑا جاؤںگا۔ میرا الیکشن ہی خراب ہوجائے گا۔
لیڈر کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن بہت کاٹتا ہے۔ اس بارے میں ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ جوہمارے بس میں ہے وہ ہم ضرور کرتے ہیں۔ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ایسے مجرمانہ شبیہ رکھنے والے امیدواروں کو نااہل قرار دے دیتے۔ ان کو الیکشن لڑنے ہی نہیںدیتے۔ ہم نے پارلیمنٹ کو لکھا، گورنمنٹ کو لکھا،لیکن یہ  ایکٹ ہی نہیں پاس کرتے۔ ہم نے گزشتہ دنوں آل نیشنل پارٹیز کو بلایا۔ 7نیشنل پارٹیز اور 35اسٹیٹ پارٹیز آئیں۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ کا یہ ریفارم ہمیں قبول نہیں ہے۔ آپ دیکھیے منی پاور پر بھی پہلے اتنی پاور نہیںتھی، اتنی مشینری بھی نہیں تھی۔اب ہم نے پورا انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ لگا دیاہے، جو پاور ہمارے پاس ہے اسے ہم استعمال کرنے سے چوکتے نہیں ہیں۔
س: کئی امیدوار پرچہ نامزدگی کے وقت ہی سیکڑوں گاڑیوں کے ساتھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر پہنچے۔ بہار میں الیکشن کمیشن کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ انتخاب میں ایک ایک امیدوار کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ کھلے عام روپے بانٹے جا رہے ہیں۔ اصول و قوانین ہیں لیکن ان کا کیا فائدہ ہے جب دولت مند امیدوار الیکشن کمیشن کو چکما دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ کیا پیسے والوں پر کارروائی کرنے میں الیکشن کمیشن کو ڈر لگتا ہے؟
ج:ہم ایسی کوئی بات ٹی وی یا اخبار میں دیکھتے ہیں توکسی شکایت کا بھی انتظار نہیں کرتے ہیں، فوری طور پر اس پر کارروائی کرتے ہیں۔ میں آپ کو نیوز پیپر کی کٹنگ دکھاؤںگا۔ اس میں سینئرقومی لیڈروں کے بیانات ہیں کہ اس بار الیکشن میں بہت سختی ہو رہی ہے، بلکہ ایک بڑے لیڈ ر کاکسی اخبار میں بیان ہی کہ وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ گئے، افسران نے ان کا بیگ چیک نہیں کیاتھا، توانہوں نے سرکاری عملہ سے خود کہا کہ پلیز ہمارا بیگ چیک کرلو، الیکشن کا معاملہ ہے اوراس بار پہلے کے مقابلہ میں کافی سختی ہے۔ ایک بات میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب یہ پرچۂ نامزدگی کے لیے آتے ہیں تو اس وقت وہ امیدوار نہیں ہوتے۔ ہمارا لاء اس وقت نافذ ہوتا ہے جب یہ امیدوار ہوجاتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ منی پاور ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ بہار ہی میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں کسی صوبہ میں کم، کسی میں زیادہ، اس کے خلاف ہم نے بہار میں سیمپل کے طور پر مہم شروع کی ہے۔ یہاں پر ہم اپنے میزر کو ٹیسٹ کر رہے ہیں، تاکہ دوسری جگہوں پر ہم مزید سختی کرسکیں۔
الیکشن کمیشن کوئی گاڈ تو نہیں ہے، جو چیزیں دیکھنے میں آتی ہیں، انہی پر عمل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر گاڑی کو لے لیں۔ گاڑیوں پر پرمٹ ہمارا ہوتا ہے۔ الیکشن کے دوران ہیلی کاپٹر کا استعمال کتنا ہوا، ان سب کا ہم حساب رکھتے ہیں۔ لیکن رات کے اندھیرے میں کسی نے کسی کو کچھ پیسے دے دیے ، حالانکہ ہماری ٹیم گھومتی ہے اگر اس نے پکڑ لیاتو اس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہیں۔ ہم جگہ جگہ ریڈ کرتے ہیں۔ بہت لوگ پکڑے بھی گئے ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں کہ ہم بلیک منی پر 30دنوں میں پورا کنٹرول کرلیں۔ پھر بھی ہمارے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو ہمیں فوراً اس پر ایکشن لینے کی پوزیشن میں ہونا چاہیے۔ ہماری ٹیم ہے اس کے علاوہ ہم میڈیا پر بھی منحصر ہیں، اس لیے کہ ہماری ٹیم سے زیادہ میڈیا کی ٹیم گھومتی رہتی ہے۔ اگر ہمیں کوئی بھی ایکٹیویٹی نظر آتی ہے تو اسے ہم پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پورے ہندوستان میں تقریباً4500 آئی اے ایس آفیسر ہیں، اس وقت اس میں سے 10-15فیصد آفیسر بہار میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے 150-200آبزرو ر الیکشن میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم شراب کے لیے بھی تین ماہ پہلے سے کارروائی شروع کرتے ہیں۔ کہاں کہاں شراب بنتی ہے اور کہاں کہاں سے شراب آتی ہے، اس کی لسٹ تیار کرتے ہیں۔ بہار میں دوسرے صوبوں سے بھی شراب آتی ہے، راستے میں اس کی ناکہ بندی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کافی شراب پکڑی گئی ہے۔ بہرحال ہمارے پاس کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں کہ بٹن دباتے ہی سارے لوگ سادھو ہوجائیں،ایسا تو ہوتا نہیں ہے۔ کرائم ہمیشہ آگے ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم کرائم کی نئی شکل دیکھتے ہیں ویسے ویسے اس کا حل ڈھونڈتے ہیں۔ مثال کے طور پر پہلے ہیلی کاپٹر کی چیکنگ نہیں کی جاتی تھی۔ ہم نے سی آئی ایس ایف سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو مین ایئر پورٹ کو چیک کرتے ہیں اور پیچھے سے کوئی جیپ بھرکر سامان ہیلی کاپٹر تک پہنچا دیتا تھا۔ ہم نے فوراً متعلقہ وزارت  اور سی آئی ایس ایف کو آرڈر دیا کہ اب ہیلی کاپٹر کی بھی چیکنگ ہوگی۔
ہم تین چار بار بہار گئے۔ چونکہ ہم الیکشن سے ایک سال قبل سے ہی نظررکھتے ہیں۔ سب سے پہلے ووٹنگ کارڈ پر فوکس کرتے ہیں، پھر دیکھتے ہیں کہ کون سا افسر کیسا ہے۔ ان میں کوئی داغدار تو نہیں ہے۔ ضرورت کے مطابق افسران کا تبادلہ بھی کرتے ہیں، تاکہ کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وہاں کا ماحول اچھا ہے۔ افسران اچھے ہیں۔ ہماری تیاری بھی بہت اچھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں کافی حوصلہ ہے۔ ہم نے بوتھ لیبل پر حکمت عملی تیار کی ہے۔ ہم نے کریمنلز کی لسٹ تیار کی ہے۔ ان میں سے بہت سارے لوگوں کی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ الیکشن بہت شفاف ہو رہا ہے۔ یہی وجہ کہ پہلے دو مرحلوں میں بہت پیس فل انتخابات ہوئے۔یہاں تک کہ پہلے مرحلے میں کہیں بھی ری پول کی نوبت نہیںآئی۔ دوسرے مرحلہ میں دو جگہوں پر ہی ری پول کی نوبت آئی، وہ بھی تکنیکی خرابی کی وجہ سے۔
س: ای وی ایم مشین کی بات کریں تو آج ملک کی ہر سیاسی پارٹی مانتی ہے کہ ای وی ایم مشین کے ساتھ چھیڑخانی ہو سکتی ہے۔ ای وی ایم مشین کو لے کر الیکشن کمیشن اتنا ری ایکٹیو کیوں ہے۔ جب کوئی اس پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے موقع دینے کے بجائے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اگر ای وی ایم مشین صحیح ہیں تو ای وی ایم مشینوں کے سلسلے میں آپ کھلے عام لوگوں کو چیلنج کیوں نہیں کرتے ہیں، تاکہ لوگوں کو مکمل بھروسہ ہوجائے؟
ج:ساری پارٹیاں ہمارے پاس 4؍اکتوبر کو آئی تھیں۔ سب نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بہت اچھی چیز ہے۔ بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بات کہی کہ جب ہم بٹن دباتے ہیں تو ووٹ اسٹور ہوجاتا ہے، لیکن یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں اسٹور ہورہا ہے،یہ فیتھ کی بات ہے۔ اس کا ہمارے پاس ثبوت نہیں ہوتاہے۔ اگر اس کا ثبوت ہوجائے اور اس کی رسید مل جائے تو اس سے ہم کو اطمینان ہوگا۔ہم یہ نہیں مانتے کہ چھیڑ خانی ہوتی ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہمیں پورا بھروسہ ہے۔
س:پچاس سال پہلے الیکشن کمیشن کے پاس جتنی سہولیات تھیں اوراب جس طرح کی سہولتیں موجودہیں ، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پھر ایسی کیا مجبوری ہوئی کہ بہار میں 6مرحلوں میں انتخاب کی ضرورت پڑی؟
ج:دیکھیے الیکشن کمیشن بہت خوش ہوگا اگر پوراانتخاب صرف ایک ہی مرحلہ میں ہوجائے، کیوں کہ سب سے زیادہ محنت تو الیکشن کمیشن کو ہی کرنی پڑتی ہے۔ ہماری سب بڑی ریکوائرمنٹ یہ ہوتی ہے کہ فری اینڈ فیئر انتخابات ہونے چاہئیں۔ اگر یہ ڈر ہے کہ غنڈہ گردی ہوگی اور بوتھ کیپچر کرلیا جائے گا، توایسا ہم بالکل نہیں ہونے دیںگے۔ جب جب ہم بہار گئے ، وہاں ہم نے تمام سیاسی پارٹیوں سے میٹنگ کی۔ تقریباً سبھی پارٹیوں نے کہا کہ انتخابات میں سینٹرل پولس فورس ضرورچاہیے، کیوں کہ لوکل پولس فورس کے اوپر لوکل دباؤ رہتا ہے۔ بغیر فورس کے لوگوں میں حوصلہ نہیں تھا۔ 6مرحلوں میں انتخابات کرانے کا مقصد صرف اورصرف فری اینڈ فیئر پول کرانے ہیں۔
س: ایک الزام یہ ہے کہ جمہوریت کے تہوار کی جگہ الیکشن کمیشن نے اتنے سارے قوانین کو نافذ کر دیا ہے کہ ملک میں انتخابات محض ایک ٹیکنکل کام رہ گیا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے لوگوں کی حصہ داری بڑھے۔ کیا آپ کے پاس ایسی اسکیم ہے جس سے انتخابات زیادہ دلچسپ ہوں اور لوگوں کی حصہ داری بڑھے۔
ج: اس بار الیکشن میں پہلے کے مقابلہ میں ووٹنگ میں تقریباً15فیصد کا اضافہ ہوا ہے، یہ اضافہ لوگوں کا حوصلہ اجاگر کرتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ شور و شرابے اور ڈھول تماشے پر ہم نے پورا کنٹرول کیا ہے تاکہ لوگوں کو کوئی دقت نہ ہو۔ ہم نے رات کے 10-11بجے کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگادی ہے، کیوں کہ امتحانات کی تیاری کرنے والے بچوں اور بیمار و بوڑھے لوگوں کو دقتیں ہوتی تھیں۔لوگوں نے اس سے بڑی راحت محسوس کی ہے اور بڑا ہی پیس فل الیکشن ہو رہا ہے۔ ہم پہلے صرف تین گاڑیاں چلانے کی اجازت دیتے تھے، لیکن اس بار ہم نے 10گاڑیاں چلانے کی اجازت دی ہے۔ ان پر ہم پابندیاں صرف اس لیے لگاتے ہیں کہ اخراجات پر قابو پایا جاسکے اور انتخابات صاف و شفاف ہوں۔
س: بہار میں یہ مانا جانے لگا تھا کہ وہاں فری اینڈ فیئر انتخاب نہیں ہوسکتے۔ ایک تنہا شخص کے جے راؤ نے 2004اور 2005میں ایسا کمال دکھایا کہ بہار میں انتخابات کی رنگت ہی بدل گئی۔ کیا الیکشن کمیشن کے پاس کے جے راؤ جیسے آدمی نہیں بچے ہیں؟
ج:الیکشن کمیشن کے12سکریٹری ہوتے ہیں۔ کے جے راؤ ان 12 سکریٹریز میں سے ایک تھے۔ الیکشن کمیشن آبزرور کو بھیجتا ہے۔ انہی آبزروروں میں ان کو بھی بھیجا تھا۔کے جے راؤ  میڈیا میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔حالانکہ وہ تو فقط الیکشن کمیشن کے احکامات پر ہی عمل کر رہے تھے۔ ذاتی طور پرتو وہ ایک قدم بھی نہیں اٹھاسکتے تھے۔ اسی الیکشن میں ایک اور سکریٹری بھی گئے تھے۔ انہوں نے بھی ایسا ہی کام کیا تھا، لیکن وہ میڈیا کے سامنے نہیں گئے۔ ہمارے یہاں 12کے جے راؤ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن وہ میڈیا کے سامنے نہیں آتے، کیوں کہ ان کا جو کام ہے وہ کر رہے ہیں۔ پاور تو الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے۔ ذاتی طور پر کسی کی پاور نہیں ہوتی۔ کمیشن انہیں جو آرڈر کرتا ہے، انہیں اس پر ہی عمل کرنا ہوتا ہے۔
س:آپ ملک کے پہلے مسلم چیف الیکشن کمشنر ہیں۔اتنا بڑا عہدہ حاصل کرکے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔
ج:دیکھیے ہندوستان ایک سیکولر ڈیموکریسی ہے۔ تمام مذاہب برابر ہیں۔ اس طرح کی باتیںکرنا کہ پہلے مسلمان، پہلے سکھ یا پہلے عیسائی یہ اچھی باتیں نہیں لگتیں۔ جس بیک گراؤنڈ سے ہم آتے ہیں، اس میں ہر طرح کے عہدے ہوتے ہیں، انہیں میں ایک عہدہ یہ بھی ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ یہ سوچنا کہ ذات پات کی وجہ سے کوئی عہدہ ملتا ہے، یہ اچھی سوچ نہیں ہے۔ یہ جاب تو بہت ہی اہم ہے اور مشکل بھی ہے، کیوں کہ پورا ملک اس پر بھروسہ رکھتا ہے، اس پر پورا کھرا اترنابڑا مشکل کام ہوتا ہے، کیوں کہ ہندوستان کی جمہوریت اسی ادارے پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس ادارے کی جتنی ذمہ داری ہے، اس پر ہمیں فخر ہے اور اس ذمہ داری کا پورا احساس بھی ہے۔ہماری کوشش یہی ہے کہ ادارے کی شان کودوبالا کرکے ہی ہم جائیں۔ ہماری یہی دعا ہے کہ جمہوریت کے اس ادارے کی شبیہ،  اس کا وقار اور اقبال ہمیشہ بلند رہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *