ہمارے ملک کا آئین دنیا کا سب سے بڑا تحریری آئین ہے: پروفیسر شکیل صمدانی

Share Article
Prof-Shakeel-Samdani
اپنے بنیادی حقوق تو ہمیں یاد رہتے ہیں لیکن ہم اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں۔ ہندوستانی آئین ایک جانب جہاں ہمیں بنیادی حقوق دیتا ہے تو وہیں کچھ فرائض کی ادائیگی کا بھی تقاضہ کرتا ہے۔ ہمارے ملک کا آئین ایک مقدس دستاویز ہے اور دنیا کا سب سے بڑا تحریری آئین ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک کے آئینوں سے کچھ نہ کچھ لیا گیا ہے۔ اس کی تمہید کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ان خیالات کا اظہارعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کی قانون فیکلٹی کے سینئر استاد پروفیسر شکیل صمدانی نے اے ایم یو کے ماس کمیونیکیشن شعبہ میں منعقدہ خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔’’ آئین کی تمہید اور ہمارے بنیادی حقوق‘‘ موضوع پر منعقدہ اس مہمان خطبہ میں پروفیسر شکیل صمدانی نے صحافت کے طلبہ سے راست گفتگو کرتے ہوئے انہیں آئین اور اپنے بنیادی حقوق کی مکمل معلومات رکھنے کی ترغیب دلائی۔
پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے شعبہ کی سربراہ پروفیسر آفرینہ رضوی نے موضوع کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔خطبہ کے بعد ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں پروفیسر صمدانی نے بتایا کہ کس طرح آئین کی تمہید میں42ترمیم کے ذریعہ سیکیولر و سوشلسٹ الفاظ کو جوڑا گیا۔ اس دوران پروفیسر صمدانی نے طلبہ کو اپنے تجربات سے بھی روشناس کرایا۔ پروگرام کے آخر میں پروفیسر آفرینہ رضوی نے مہمان خطبہ کے لئے پروفیسر شکیل صمدانی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر پیتاباس پردھان، ڈاکٹر گوپال ساہو، ڈاکٹر ہما پروین اور محمد انس کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرس اور طلبہ موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *