!خدا کرے اسامہ کی موت دہشت گردی کی موت ہو

Share Article

وسیم راشد
اف  کس قدر ہنگامہ خیز گزرے ہیں گزشتہ 15 دن۔ اسامہ بن لادن کی موت اور اس کے بعد میڈیا کی چاندی اور ہر اخبار کے لیے بحث کا گرما گرم موضوع اسامہ کی موت کے بعد بے شمار کہانیاں سامنے آئیں اور جس میں خود امریکی پریس کی طرف سے متضاد بیانات سامنے آئے،جس میں کبھی کہا گیا کہ وہ نہتا تھا، کبھی کہا گیا کہ اس کے پاس ہتھیار تھے، کبھی کہا گیا کہ اس نے اپنی دفاع میں اپنی بیوی کو آگے کرلیا، کبھی یہ کہ بیوی اس کو بچانے کے لیے آگے آئی اور اس کے پیروں میں گولی ماری۔ لاتعداد بیانات کے ساتھ ساتھ حقائق بھی سامنے آتے گئے، وہ حقائق جو امریکہ پیش کر رہاتھا، جس میں پاکستان کو لے کر بھی لعن طعن کی جارہی تھی اور پاکستان کی طرف سے بھی متضاد بیانات کا سلسلہ جاری تھا اور ابھی تک ہے۔لیکن ان کا جو کام ہے، وہ اہل سیاست جانیں۔ بڑی بڑی بحث میں الجھنا اور الجھانا ہمارا شیوہ نہیں۔ ہم نام و نمود کے لیے نہیں لکھتے، ہمارا موقف صحیح اور حقیقت پسندی کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ سطحی جذباتیت سے تو بہت کھیلا جاتا رہا اور آج بھی مسلمانوں کو خوب بیوقوف بنایا جارہا ہے، مگر چند سوالات اسامہ کی موت سے ایسے پیدا ہوگئے ہیں، جن کو ہم بے وقوف مسلمان بھی خوب سمجھتے ہیں۔ پہلا سوال تو ایک معصوم بچی نے اگلے دن ہی کردیا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کسی کے ملک میں آجائیں اور اس ملک کو پتہ ہی نہیں چلے؟ مگر اس کا جواب بھی بہت سوچ سمجھ کر دیا گیا کہ اس پورے آپریشن میں اس طرح کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے، جو راڈار میں نہیں آتے؟ دوسرا سوال کہ اتنا بڑا آپریشن ہوجائے اور آس پاس کو بھنک تک نہ پڑے۔ امریکہ بتائے دنیا کو کہ اسامہ مارا گیا ہے۔
امریکہ اسامہ کو مار کر اس کی لاش لے کر واپس بھی چلا جاتا ہے اور پورا پاکستان سوتا رہتا ہے، نہ جانے کیوں یہ بھی ہضم نہیں ہورہا۔ تیسرا سوال کہ اسامہ کو رات کو مارا گیا اور صبح 11 بجے ہندوستان کے وقت کے مطابق یہ خبر پوری دنیا میں پھیل گئی، مگر دن کے 2 بجے تک یہ بھی بیان آگیا کہ اسامہ کی لاش سمندر میں دفنا دی گئی؟ اتنی جلدی جلدی یہ سب ہوا کہ اب سوچنے بیٹھو تو عقل تسلیم نہیں کرتی۔ پہلی بات تو سمندر میں دفنا دینا بہت ہی عجیب و غریب تصور ہے۔ ظاہر ہے سمندر کی تہہ میں جا کر زمین کو پاتال تک ڈھونڈ کر تو اسامہ کو دفن نہیں کیا گیا ہوگا اور اگر اسے سمندر میں پھینکا بھی گیا ہے تو امریکہ ان تصویروں کو سب کے سامنے کیوں نہیں لارہا۔ اس کو دفنانے سے شرپیدا ہونے کا خدشہ تھا، مگر اس کو بغیرغسل کے، بغیر کفن کے سمندر میں پھینکنے سے کیا اوباما حکومت ان سوالوں سے بچ جائے گی، جو اس وقت مسلم ممالک کھڑے کر رہے ہیں۔ امریکہ کا یہ کہنا کہ اسامہ کی لاش کی تصویریں جاری اس لیے نہیں کی جارہی کہ وہ کافی لرزہ خیز ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان جے کیسی کے بیان پر اگر غور کریں کہ اسامہ کو ہلاک کرنے کے فوراً بعد کی تصویر رونگٹے کھڑی کرنے والی ہے، لیکن کیا تصویریں نہ دکھانے سے امریکہ کے اس آپریشن پر سوالیہ نشان نہیں لگ جائے گا؟ جو لوگ اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ 40 منٹ میں سب کچھ ہوجائے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، وہ یہ بھی نہیں مانیںگے کہ اسامہ کا مرنا سچ ہے۔ اب ڈی این اے رپورٹ اور چہرہ پہچاننے والا سافٹ ویئر ایک عام آدمی کی پہنچ میں تو ہے نہیں تو پھر کیسے یقین آئے گا ایک عام انسان کو۔ امریکہ میں ہی تصویریں جاری کرنے کے لیے کچھ لوگوں کی زبردست مانگ ہے۔ سینٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ ڈائنا فین اسٹین نے بھی یہ مانا ہے کہ فوٹو ضرور جاری کرنا چاہیے۔ آپ صرف ایک بات بتائیے کہ اگر ہمارے گھر میں خدانخواستہ کوئی رشتے دار یا کسی قریبی کی موت ہوجاتی ہے اور وہ بھی کسی بھیانک حادثے میں تو اس کی مسخ شدہ لاش کا چہرہ بھی تو گھر والے رشتے دار دیکھتے ہی ہیں اور پھر یہ آپریشن تو ایک سپرپاور کی طرف سے ہوا ہے، جس میں جذباتیت کو پس پشت رکھ کر حقائق کو سامنے لانا نہایت ضروری ہے اور جس وقت اس کی لاش کو سمندر میں پھینکا گیا، تب امریکہ کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اسلامی ممالک اس غیراسلامی طریقے پر احتجاج کرسکتے ہیں، جتنا احتجاج اور جتنے جذبات تصاویر کو دیکھ کر بھڑکیںگے، اتنے ہی اس بات پر بھی بھڑک سکتے ہیں کہ چاہے کوئی کتنا بڑا مجرم کیوں نہ ہو، اس کی آخری رسومات، اس کی تدفین، اس کے مذہب کے اعتبار سے کی جانی چاہیے۔ غضب کا جواب ہے امریکہ کا کہ اسلامی شریعت کے مطابق 24 گھنٹے کے اندر تدفین ہوجانی چاہیے۔ چلو مان لیا کہ اس کو سمندر میں جب اتارا گیا تو عربی کی آیتیں پڑھی جارہی تھیں ٹھیک ہے اگر اسامہ کا چہرہ نہیں دکھاسکتے تو کم سے کم اس بیگ کو ہی دکھا دو، جس میں رکھ کر اسامہ کو سمندر میں اتارا گیا، وہ منظر ہی دکھا دو ان لوگوں کو ہی دکھا دو جو آیتیں پڑھ رہے تھے۔ کچھ تو مسلمانوں کے جذبات کو تسلی نصیب ہوگی، لیکن یہاں ایک بات اور بھی دیکھنی ہے کہ مسلم ورلڈ اسامہ کو دہشت گرد تسلیم کرتا ہے یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ پوری دنیا کا مسلمان یہ مانتا ہے کہ اسامہ امریکہ کا بنایا ہوا، ڈھالا ہوا اور استعمال کیا ہوا وہ بت تھا، جس کو امریکہ نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور جب امریکہ کو یہ احساس ہوا کہ اس کی موت فائدہ پہنچاسکتی ہے تو اس بت کو خود اپنے ہی ہاتھوں توڑ دیا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان کوئی جاہل قوم ہے، جو بغیر کسی بات کے بھڑک جاتی ہے، ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام میں وطن پرستی کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ قرآن مذہب کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز سے بھی محبت کرنا سکھاتا ہے۔ یہ قوم کوئی پاگل نہیں ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والے کی حمایت کرے گی، مسلمان بھی دہشت گردی کا مخالف ہے۔ خیر بحث یہ نہیں ہے، بحث یہ ہے کہ اسامہ کی موت سے جو سوالات کھڑے ہوگئے ہیں، ان کا جواب کون دے گا؟ آج صرف اسلامی ممالک ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر احتجاج ہورہا ہے۔ سابق جرمن چانسلر اور معروف اسٹیٹ مین ہیلمٹ شٹ کے بیان پر غور کریں تو انہوں نے تو اسامہ کے متعلق پوری کارروائی کو ہی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی مانا ہے، اسامہ کی موت سے متعلق بیانات پر جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، اگر جائیں تو ہالینڈ کے بین الاقوامی قوانین کے مشہور وکیل جان گرٹ کا بھی یہی کہنا ہے کہ بن لادن کو زندہ گرفتار کر کے امریکہ لے جانا چاہیے تھا۔ حقوق انسانی کے مشہور وکیل رابرٹ سن کا بھی یہی بیان ہے کہ انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ کسی شخص کو پکڑ کر عدالت میں لایا جائے اور شہادتوں کی روشنی میں اس پر جرم ثابت ہو اور قانون کے مطابق سزا سنائی جائے، لیکن اس طرح کے بیانات کا شاید امریکہ کے پاس یہی جواب ہے کہ اتنے خونخوار مجرم کو مارنا ہی ضروری تھا تاکہ آئندہ عبرت ہو، لیکن ایک بات امریکہ کی سمجھ میں نہیں آئی کہ اس طرح اسامہ کو انہوں نے ہیرو بنانے کا پورا سامان مہیا کرا دیا ہے۔ وہ لوگ جو واقعی اس سے نفرت کرتے تھے۔ وہ ایک بار تو یہ ضرور سوچیںگے کہ اس کی کم سے کم آخری رسوم ہی ادا کردی جائیں۔ کیا پتہ کہ اگر اس کی نماز جنازہ ہوجاتی اور لوگ اس کی میت کو دیکھ لیتے تو عبرت حاصل کرتے۔ اب آجاتے ہیں پاکستان سے متعلق کچھ سوالات پر۔ پاکستان وہ بدنصیب ملک ہے، جس کو کبھی استحکام نصیب نہیں ہوا اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا ٹھپہ اس پر کافی عرصے سے لگا ہوا ہے۔ پوری دنیا پاکستان اور پاکستانیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، لیکن وہ پاکستان جو امریکہ سے امداد لے کر پنپ رہا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کو پتہ ہو کہ لادن وہاں ہے اور وہ امریکہ کو خبردار نہ کرے۔ اس میں دو باتیں ہیں۔ ایک یہ ہوسکتی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی کچھ ایسی ساز باز ہوئی ہو کہ پاکستان کو اس میں خاموش رہنے کو کہا گیا ہو اور یہ کہا گیا ہو کہ ہم تمہارے یہاں سب کچھ کرکے آجائیںگے تم انجان بنے رہنا تاکہ دنیا کو امریکہ یہ دکھا سکے کہ اس کے ملک میں 9/11 جیسا واقعہ کرنے والے کو امریکہ ایسی سزا دیتا ہے یا پھر واقعی پاکستان جانتا ہی نہیں تھا، کیوں کہ خود امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان کو بھنک تک نہیں لگنے دی۔ پاکستان یقینا معصوم نہیں ہے، مگر نہ جانے کیوں پاکستان کو پتہ نہ ہونا اور اگر ہو تو لاعلمی کا اظہار کرنا کچھ ناسمجھ میں آنے والی باتیں ہیں۔ کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ ایک ایک کر کے سبھی بڑے عرب لیڈران کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے۔ کرنل قذافی کے بیٹے سیف اور پوتوں کی موت تو دنیا اسامہ کے چکر میں بھول ہی گئی، مگر ہم آپ کو یاد دلادیں کہ یہ بھی سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا ہے، سب کچھ منظم ہے۔ افغانستان، عراق، مصر، لیبیا، ان سبھی کے حکمرانوں کو ختم کرنے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری عرب دنیا کو ذلیل و خوار کر کے اور ساتھ میں پاکستان کی بربادی کا تماشا دیکھ کر امریکہ شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا، تو یہ اس کی بھول ہے۔ مگر ہم یہ نہیں کہنا چاہتے، ہم تو بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ہندوستانی مسلمان دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے وطن عزیز سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کسی کو ثبوت دینے کی ضرورت نہیں، ہاں اسامہ کی بے دردانہ موت اور اس کی لاش کی بے حرمتی پر سخت احتجاج کرتے ہیں۔ ہمیں اس کے مارے جانے پر قطعی دکھ نہیں، ہمیں غیر اسلامی طریقے سے اس کی لاش کو سمندر میں پھینکے جانے پر اعتراض ہے اور وہ سوال جو ہم سے ہضم نہیں ہو رہے، ہم ان کے جواب چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *