ظلم کی انتہا تو ہوتی ہی ہے

Share Article


تاریخ کے صفحات پر کئی ایسے واقعات لکھے ہوئے ہیں جن کو سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ من گھڑت باتیں ہیں، ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو۔ ایسی ہی کہانیوں میں ایک ضحاک کی کہانی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ضحاک جب چھ سال کاہوا تب اس کی پیدائش ہوئی۔ ظاہر ہے چھ سال کا تھا اس لئے ماں کے پیٹ میں ہی اس کے دانت نکل آئے تھے۔ اس کے کندھے پر گوشت کے لوتھڑے تھے۔ اس میں سخت جلن رہتی تھی۔ اس جلن کو ختم کرنے کے لئے انسانی دماغ کا بھیجا اس پر رگڑا جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں بہتوں کو قتل کیا۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ بتایا جاتا ہے کہ تقریبا چار سو سال قبل ایک سیریل کیلر الزبتھ باتھری کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے۔بتایا جاتا ہے کہ ہنگری سماج کی یہ خاتون 1585-1610 کے بیچ اپنے محل کے قریب 6 سو سے زیادہ لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اگر وہ کنواری لڑکیوں کے خون سے نہائے گی تو زندگی بھر جوان رہے گی اور خوبصورت بنی رہے گی۔ اس لالچ میں وہ اتنی اندھی ہوچکی تھی کہ ان لڑکیوں کا خون کرکے اس خون سے نہاتی تھی۔
مگر ہر ظلم کی انتہا ہوتی ہے۔1610 میں ہنگری کے راجا کے حکم کے بعد اسے تین نوکروں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا ۔اس کے محل سے سینکڑوں لڑکیوں کی باقیات برآمد ہوئی تھی۔ اس کے بعد اسے محل میں ہی قید کر دیا گیا تھا۔ تقریباً چار سال بعد اس کی اسی محل میں موت ہو گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *