اسمبلی میں این آرسی کی مخالفت میں اپوزیشن جماعتوں کا ہنگامہ، کارروائی ملتوی

Share Article

 

بہار اسمبلی کا اجلاس مسلسل دوسرے دن منگل کو زبردست شوروغل کے درمیان ملتوی کردیاگیا۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں این آرسی پر احتجاج کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔

منگل کو اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی، کانگریس اور سی پی آئی (مالے) نے ایوان کے باہر اور اندر این آر سی کے معاملے پر احتجاج کی آواز اٹھائی۔ اپوزیشن اراکین اسمبلی نے ایوان کے اندر اسپیکر کی کرسی کے سامنے آکر این آرسی کے خلاف لکھے نعروں کی تختیاں اٹھارکھے تھے۔ اسمبلی اسپیکر وجے کمار چودھری نے ارکان کو یاد دلایا کہ آج یوم آئین ہے، اس پر اپوزیشن رکن نے کہا کہ این ڈی اے حکومت ہر معاملے میں آئین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ اس وقت ایوان میں نہ تو وزیر اعلیٰ نتیش کمار موجود تھے اور نہ ہی اپوزیشن پارٹی تیجسوی یادو۔اسمبلی اسپیکر نے کارروائی شروع ہونے کے دس منٹ بعد ہی اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی کے درمیان دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ ایوان میں ہنگامہ کر رہے اپوزیشن رکن اسمبلی میںاین آرسی کے خلاف قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

آر جے ڈی کے بھائی بریندر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس معاملے پر اپنا رخ صاف کریں اور تجویز لائیں، جس کی تمام اپوزیشن جماعتیںحمایت کریں گی۔انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش بی جے پی کی گود میں بیٹھے ہیں۔ کانگریس اور مالے کے ارکان نے بھی کہا کہ این آرسی سے سب کو فکر ہے، صرف اقلیتوں کو ہی نہیں۔کانگریس کے شکیل احمد نے کہا کہ آسام ہی این آرسی کے آغاز پر اس کا مخالف ہو گیا ہے۔

ادھر، وزیر مدن سہنی اور خورشید عالم نے کہا کہ این آرسی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ گھبراہٹ ان کو ہو گی جویہاںغیر قانونی طریقے سے رہ رہے ہیں اور جو باہری ہیں، انہیں باہر جانا چاہئے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر آئین سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام لگایا۔ ایوان میں اپوزیشن اراکین نے آئین کی حفاظت کون کرے گا، ہم کریں گے کے نعرے بھی لگائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *