محض دو مسافروں کو لے کر پاکستان روانہ ہوئی ‘صدائے سرحد‘ بس

Share Article

 

جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد سے پاکستان میں ہنگامہ برپا ہے ۔ پاکستان کی طرف سے سمجھوتہ ایکسپریس روکے جانے کے بعد دہلی سے لاہور جانے والی صدائے سرحد بس سروس کو بھی روکنے کی بات کہی گئی تھی لیکن سنیچر کی صبح بھارت کی جانب سے صدائے سرحد بس کو سخت سیکورٹی میں دہلی سے لاہور کے لئے روانہ کیا گیا۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہوئی بس میں صرف دو مسافر تھے۔ یہ بس شام پانچ بجے لاہور پہنچے گی۔

 

دہلی سے لاہور جانے کے لئے نکلی بس کو کروکشیتر واقع پپلی پیراکیٹ میں مختصر وقفے کے لئے روک دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس دوران کسی مسافر کو بس سے اترنے نہیں دیا گیا۔ آدھے گھنٹے کے سفر کے دوران بس عملے نے مسافروں کے ساتھ ناشتا کیا، جس کے بعد سخت سیکورٹی میں بس لاہور کے لئے روانہ ہوئی۔ پاکستانی شہریوں کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو اس کے لئے صدر تھانہ انچارج اجے مور خود موقع پر موجود رہے۔

تھانہ انچارج اجے مور نے بتایا کہ پاک جانے والی بس پپلی پیراکیٹ میں قریب نصف گھنٹے رکی تھی۔ اس دوران پیراکیٹ میں سخت سیکورٹی رہی اور دو پائلٹ گاڑیوں کی قیادت میں بس پاکستان کے لئے روانہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بس سروس بند کرنے کی صحیح معلومات پیر کو پتہ چل سکے گی کیونکہ اتوار کو دونوں ممالک کے درمیان بس سروس بند رہتی ہے۔ ویسے پاکستان کے وزیر مواصلات مراد سعید کی جانب سے جمعہ رات ٹویٹ کر لاہور سے دہلی کے لئے چلنے والی بس سروس روکنے کی معلومات دی گئی تھی۔

بھارتی بس کی سروس دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) اور پاکستان سیاحت کی ترقیاتی کارپوریشن کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک سے پیر کو بسیں دہلی اور لاہور کے لئے روانہ ہوتی ہیں۔ ان بسوں کا ٹھہراو رات کو اپنی اپنی منزل دہلی اور لاہور میں ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کی بسیں واگھہ بارڈر، امرتسر سے ہوکر چلتی ہیں، جن کا اسٹاپ کروکشیتر کے پیراکیٹ میں ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہوئی کشیدگی کے درمیان جمعہ کو دہلی سے لاہور کے لئے روانہ ہوئی بھارتی بس میں کل 26 مسافر سوار تھے۔ یہ تعداد گزشتہ کچھ دنوں کی بس سروس کے لحاظ سے کافی زیادہ ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جمعہ دوپہر بعد لاہور سے دہلی آنے والی پاکستانی بس پپلی پیراکیٹ میں نہیں رکی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *