کیفی اعظمی نے ہر سطح پر ناانصافی کی مخالفت اور محروم طبقات کی نمائندگی کی: جاوید اختر

Share Article
jawed-akhtar
اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام معروف ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر تروینی کلا سنگم آڈی ٹوریم منڈی ہاؤس میں گذشتہ روزیک روزہ قومی سیمینار منعقد ہوا ۔تین نشستوں پر مشتمل اس سیمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت پرو فیسر شمیم حنفی نے کی ۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے نائب وزیر اعلی دہلی منیش سسودیا نے شرکت کی ۔معروف شاعر و قلمکار جاوید اختر اورشبانہ اعظمی بطور مہمان مکرم شریک رہے،نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیئے ۔اس موقع پر منیش سسودیا نے کہا کہ جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کی موجودگی نے اردواکادمی کے اس جشن کیفی کو تاریخی بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر اور نا انصافی کے خلاف کیفی اعظمی نے جس طرح اپنے قلم کا استعمال کیا وہ ان کی اعلے قدروں کا غماز ہے دور حاضر کی نفرت آمیز سیاست میں بھی ان کا کلام بڑی اہمیت کا حامل ہے ہم کوشش کرینگے کہ آج کے اس سیمینار میں پیش کئے جانے والے مقالوں کو کتابی شکل دیکر سرکاری اسکولوں کی لائبریری میں رکھیں تاکہ طلبہ اور اساتذہ ان کا مطالعہ کریں ہو سکتا ہے کہ کسی کے دل پر ان کی انقلابی کاوشیں اثر انداز ہو جائے انہوں نے ا علان کیا کہ یہ مقالے صرف اردو میں ہی نہیں بلکہ دیو ناگری بھی شائع کئے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ان کے پیغام کو پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ آرٹ اینڈ کلچر صرف پرگراموں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا ستعمال اس طور ہو جو اس کا اصلی حق ہے ۔جاوید اختر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کیفی اعظمی اور ان کے ہم عصر ترقی پسندوں کی کی روایت پر ہی عمل پیرا نہیں ہیں بلکہ ان کی فکری وراثت کو آئندہ نسلوں میں منتقل کرنے کا کام بھی کر رہے ہیں ۔ شبانہ اعظمی نے کہا کہ میرے والد ان قلمکاروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کا مقصدو محور عوامی مسائل کو بنایا تھا،موجودہ ماحول میں ان کی اور ان کے ہم عصر ترقی پسند شاعروں ،نقادوں اور نثر نگاروں کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کاش اس دور کے شعرا بھی ظلم ،نا انصافی اور محرومی کے خلاف سینہ سپر ہوتے اور کیفی صاحب کے ہر آخری شخص کے چہرے پر خوشی دیکھنے کا خواب شرمند�ۂ تعبیر ہوسکتا ۔انہوں نے صد سالہ یوم پیدائش کے اولین جشن کیفی کے انعقاد پر دہلی سرکار کا شکریہ ادا کیا ۔
جاوید اختر نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ جب اپنے فنکاروں کو عزت دیتا ہے ان کو وہ مقام دینے کی کوشش کرتا ہے جن کے وہ حق دار ہیں تو وہ اپنی علمی ،فکری اور نظریاتی زندگی کا ثبوت بھی پیش کر رہا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیفی اعظمی نے اپنی شاعری میں ہر محروم طبقے کی نمائندگی کی ہے پوری زندگی انہوں نے اس جدو جہد میں صرف کی کہ معاشرے میں جینے والے کمزور سے کمزور انسان کے جان ،مال عزت و آبرو کا تحفظ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایوان بالا میں پیٹھے افراد کا ۔انہوں نے موجودہ ملکی حالات پر بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قلم کارو کو اس ماحول کے خلاف اپنی مخلصانہ ذمہ داری ادا کرنی چاہئے اس لئے کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسانیت حالات کا شکار ہوئی ہے شاعرو،نقادواور کالم نویسوں نے میدان عمل میں آکر اسکا مقابلہ کیا ہے وہ گل و بلبل کی باتوں تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ عوامی مسائل کو انہوں نے اپنا مقصد اصلی بنایا ۔اردو اکادمی کے وائس چیئر مین شہپر رسول خطبہ استقبالیہ میں منجملہ مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تاریخی اہمیت کے حامل اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد میں دہلی سرکار اور خصوصاً منیش سسوودیا کی سپورٹ ہمیں حوصلہ دیتی ہے میں تہہ دل سے ان کا شکر ادا کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ منیش سسودیا اردو زبان و ادب کے قدردان ہیں وہ بارہا یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ اردو محبت کی زبان ہے مذہبی ہم آہنگی اور آپسی رواداری اس کا طر ۂ امتیاز ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کیفی اعظمی کے جہاں بہت سارے کارنامے ہیں وہیں شبانہ اعظمی بھی ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے ان کی تعلیم ورتربیت جس پیرائے اور جس سوچ کے تحت کی گئی ان کی زندگی کے مختلف رنگ اس کے گواہ ہیں وہ ایک بہترین ادا کارہ ہیں تو ایک عظیم سماجی خدمت گار بھی ۔پرو فیسر علی احمد فاطمی نے اپنی کلیدی خطبہ میں کیفی اعظمی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مفصل روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مہمانان نے کے ہاتھوں کیفی پر تحریر کردہ ان کی کتاب کا رسمِ اجرا بھی عمل میں آیا۔ سکریٹری اردو اکادمی ایس ایم علی نے تمام مہمانوں کاشکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس نوعیت کے ادبی و علمی پروگرام کے انعقاد میں دہلی سرکار کا تعاون ہمیں نئے حوصلے دیتا ہے۔پروفیسرشمیم حنفی نے اپنے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیفی اعظمی ترقی پسند شاعری کا ایک نمایاں نام ہیں،انھوں نے انقلابی شاعری کے ذریعے جہاں محروموں کی زوردار وکالت کی وہیں اپنے اسلوب و فکر کے ذریعے کئی نسلوں کی آبیاری بھی کی ہے۔ جاوید اختر بھی ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے بھی نثر نگاری اور فلمی نغمہ نگاری کے ذریعے فلمی دنیا کے وقار میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
کیفی اعظمی کی نظم نگاری کے حوالے سے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر علی احمد فاطمی اور پروفیسر صادق نے مشترکہ طور پر انجام دی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر جاوید حسن نے بحسن و خوبی انجاام دیے۔ کیفی اعظمی کی نظم نگاری پر پروفیسر یعقوب یاور، ڈاکٹر خالد اشرف اور ڈاکٹر احسان حسن نے اپنے مقالے پیش کیے۔ دوسرے اجلاس میں کیفی اعظمی کی غزل ،گیت اور دیگر شاعری پر ڈاکٹر علی جاوید، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر انور ظہیر انصاری اور پروفیسر سراج اجملی نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی اور پروفیسر انور پاشا نے کی جب کہ نظامت ڈاکٹر ابوبکر عباد نے کی۔ دونوں اجلاس کے صدور نے پیش کیے گئے مقالوں پر اپنے گراں قدر خیالات پیش کیے جہاں تاریخی اعتبار سے خامی محسوس ہوئی اس کی اصلاح کی اور مقالوں کے عناوین پر سیرحاصل گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی شاعر اور ادیب کی نگارشات کا تجزیہ کرنے کے لیے اس کے عہد کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ ترقی پسندوں کی کامیابی یہ تھی کہ انکی شاعری ایوانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کسان اور مزدوروں تک ان کے نغمے گاتے تھے۔ آج کے دور میں بھی دار و رسن کی پروا کیے بغیر اپنی نگارشات کو نسلوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ترقی پسند شاعری کا یہ خاصا ہے کہ اس کے تخلیق کار گفتار کے غازی نہیں بلکہ کردار کے غازی ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر میں سیاست زندگی کے ہر گوشے میں مداخلت کررہی ہے اس لیے قلمکاروں کو اپنی شاعری اور مضمون نویسی کے ذریعے اس کا رخ موڑنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *