امریکہ میں ایک لاکھ تارکین وطن بچے زیر حراست ہیں: اقوام متحدہ

Share Article

 

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن بچے سرکاری حراستی مراکز میں بند ہیں۔ عالمی ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے ایسے بچوں کے جبراً ان کے خاندانوں سے علیحدہ رکھے جانے کی مذمت کی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق امریکا میں حکام کی حراست میں اور والدین اور دیگر اہل خانہ سے دور رکھے جانے والے ان کم عمر افراد کی حراست کا تعلق کسی نہ کسی طور ترک وطن کے مسئلے سے ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہر قانون اور اقوام متحدہ کے محقق مانفریڈ نوواک نے اس رپورٹ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پوری دنیا میں اس وقت کم از کم بھی تین لاکھ تیس ہزار بچے ایسے ہیں، جو ترک وطن سے متعلقہ معاملات کے باعث مختلف ممالک میں زیر حراست ہیں۔

لیکن انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں ایسے بچوں میں سے تقریباً ایک تہائی صرف امریکا میں زیر حراست ہیں۔ مانفریڈ نوواک اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مرکزی مصنف بھی ہیں، جس کا عنوان ہے’’آزادی سے محروم کر دیے گئے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کا عالمی جائزہ‘۔

نوواک اور ان کے ساتھی محققین کے مطابق امریکا میں اس وقت ایسے کم عمر تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار کے قریب ہے، جو حراستی مراکز میں بند ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں، جو امریکا پہنچے ہی اپنے والدین کے بغیر تھے اور ان میں وہ کم بچے بھی ہیں، جو یا تو اپنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ حراستی مراکز میں بند ہیں یا جنہیں حکام نے زبردستی ان کے والدین سے علیحدہ رکھا ہوا ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری کے دوران مانفریڈ نوواک کی ٹیم نے جب امریکی حکام سے رابطہ کیا، تو انہوں نے اس بارے میں کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ محققین کی اس ٹیم نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے پیش کردہ یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے حاصل کر کے جمع کیے گئے اور ‘انتہائی قابل اعتماد‘ ہیں۔نوواک نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو مزید بتایا، ”یہ تعداد، ایک لاکھ تین ہزار، بہت ہی محتاط اندازوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ ان کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔نوواک نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، ”ترک وطن سے متعلقہ معاملات میں بچوں کو حراستی مراکز میں رکھنا کبھی بھی ایسے بچوں کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ اور حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ایسا اس وقت بھی کیا جاتا ہے، جس دیگر متبادل راستے موجود ہوتے ہیں۔‘‘

اپنی انتخابی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا، ’’اپنی جنوبی سرحد پر میں ایک دیوار تعمیر کرنا چاہتا ہوں اور کوئی بھی مجھ سے بہتر دیواریں نہیں بنا سکتا۔ میں اس دیوار کی تعمیر کے اخراجات میکسیکو سے حاصل کروں گا۔‘‘ بہرحال ابھی تک انہوں نے اونچی عمارتین اور ہوٹل ہی بنائے ہیں۔ ٹرمپ کے تارکین وطن سے متعلق دس نکاتی منصوبے میں اس دیوار کی تعمیر کو اوّلین ترجیح حاصل ہے۔

عراق اور شام میں 29 ہزار بچے زیر حراست
جہاں تک دیگر ممالک میں نابالغ تارکین وطن بچوں کے زیر حراست رکھے جانے کا تعلق ہے، تو ایسا سب سے زیادہ مشرق وسطیٰ میں شام اور عراق جیسی ریاستوں میں کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارے کے ماہرین کے مطابق ان دونوں عرب ممالک میں زیر حراست تارکین وطن بچوں کی تعداد کم از کم بھی 29 ہزار بنتی ہے، جن کی اکثریت کا تعلق دہشت گرد تنظیم ‘اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جنگجوؤں کے خاندانوں سے ہے۔ ایسے بچوں میں کئی یورپی ممالک کے بچے بھی شامل ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ تعداد فرانسیسی شہریوں کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *