دوسرے دن بھی انصاف منچ اور ڈاکٹر کفیل خان نے مظفرپور میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا 

Share Article
چمکی بخار تو پرانا ہے مرض ہے  پھر حکومت کی جانب سے اتنی لاپروائی کیوں ؟:ڈاکٹر کفیل خان
مظفرپور 20جون (پریس ریلیز ) اے ای ایس/جے ای کے بارے میں جب مرکز-ریاستی حکومتیں اور ان کے وزیر بڑے-بڑے اعلان کرتے ہیں تو ان حقائق کو ضرور دھیان میں رکھاجانا چاہیے اور ان سے سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اس بیماری سے جب اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی موت ہو رہی ہے تو اس بیماری کی روک تھام کی تدبیروں پر عمل کرنے میں اتنی سستی کیوں ہے؟یہ باتیں بی آر ڈی گورکھپور کے معطل ترجمان ڈاکٹر کفیل خان انصاف منچ و اسمائیل فاونڈیشن کے زیراہتمام منعقد دوروزہ میڈیکل کیمپ میں بچوں کے چیکپ کے وقت کہی مزید انہوں نے کہا کہ  مظفر پور میں ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم (اے ای ایس)/جاپانی انسیفلائٹس (جے ای)اور چمکی بخار سے 100 سے زیادہ بچوں کی موت کے بعد ملک کے وزیرِ صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے 17 جون کو مظفر پور کا دورہ کیا اور کئی اعلانات کیے۔ہرش وردھن نے اپنے بیان میں  کہاتھا کہ مظفر پور کے شری کرشن میڈیکل کالج اور ہاسپٹل (ایس کے ایم سی ایچ) میں 100 بیڈ کا پیڈیاٹرک آئی سی یو وارڈ اور وائرولاجی لیب بنے‌گا۔ اس کے علاوہ ضلع کے تمام کمیونٹی ہیلتھ سینٹر(پی ایچ سی)میں 10-10 بیڈ کا پیڈیاٹرک آئی سی یو بنے‌گا۔ پی ایچ سی پر سروے کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی تعیناتی ہوگی، تمام پی ایچ سی پر گلوکومیٹر دیا جائے‌گا، خاطر خواہ  ایمبولینس اور دوا کا انتظام کیا جائے‌گا۔ڈاکٹر ہرش وردھن جب یہ اعلان کر رہے تھے، تب کچھ صحافیوں نے ان کے 2014 میں کیے گئے اعلان کی طرف دھیان دلایا، جس پر ان کی حالت دگر گوں  ہو گئی۔ دراصل، ڈاکٹر ہرش وردھن پانچ سال پہلے کیے گئے اپنے ہی اعلان کو پھر سے دوہرا رہے تھے جو یا تو اب تک عمل میں ہی نہیں آ سکے ہیں یا آدھےادھورے ہیں۔
ٹھیک پانچ سال پہلے 2014 میں بھی مظفر پور میں اسی طرح اے ای ایس اور چمکی بخار کا قہر سامنے آیا تھا۔ واضح ہو کہ  نیشنل ویکٹر بارن ڈیزیز کنٹرول پروگرام (این وی بی ڈی سی پی)کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں بہار میں اے ای ایس سے 355 اور جاپانی انسیفلائٹس (جے ای) سے 2 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔تب نئی نئی بنی مودی حکومت کے وزیر صحت ہرش وردھن نے 20/22 جون 2014 کو مظفرپور، پٹنہ کا دورہ کیا تھا اور تمام اعلانات کیے تھے۔تب ہرش وردھن نے کہا تھا کہ ایس کے ایم سی ایچ میں 100 بیڈ کا پیڈیاٹرک آئی سی یو وارڈ بنے‌گا اور مظفر پور اور آس پاس کے متاثرہ ضلعوں میں پی ایچ سی میں 10 بیڈ کے پیڈیاٹرک آئی سی یو بنیں‌گے۔ ایس کے ایم سی ایچ کو سپر اسپیشلٹی اسٹینڈرڈ میں اپ گریڈ کیا جائے‌گا۔گیا، بھاگل پور، بتیا، پاواپوری اور نالندہ میں وائرولاجیکل ڈائگنوسٹک لیبارٹری بنے‌گی۔ اس کے علاوہ مظفر پور اور گیا میں ملٹی ڈسپلنری ریسرچ یونٹ کا قیام کیاجائے‌گا۔ ان اعلان کی زمینی حقیقت حیران کرنے والی ہے۔ایس کے ایم سی ایچ میں وائرولاجی لیب تو بن گیا ہے لیکن ابھی تک شروع نہیں ہو پایا ہے۔ اے ای ایس اور چمکی بخار سے سب سے زیادہ متاثر مظفر پور میں وائرولاجی لیب نہیں بن پایا ہے، تو بھاگل پور، بتیا، پاواپوری اور نالندہ میں بننے کی بات تو دور کی کوڑی ہے۔ایس کے ایم سی ایچ میں 100 بیڈ کا پیڈیاٹرک آئی سی یو بنانے کا کام ابھی تک شروع نہیں ہو پایا ہے۔ پی ایچ سی میں پیڈیاٹرک آئی سی یو بنانے کا کام بھی ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح مظفر پور اور گیا میں ملٹی ڈسپلنری ریسرچ یونٹ کا بھی اب تک قیام نہیں ہو سکا ہے۔
رہی بات ایس کے ایم سی ایچ میں سپراسپیشلٹی بلاک بنانے کی تو یہ ابھی بن ہی رہا ہے۔ ایس کے ایم سی ایچ کو سپراسپیشلٹی اسٹینڈرڈ میں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہپی ایم ایس ایس وائی کے تحت سات نومبر 2013 کو ہوا تھا۔پی ایم ایس ایس وائی کے تحت تیسرے مرحلے میں ایس کے ایم سی ایچ کے ساتھ ساتھ ملک کے 39 میڈیکل کالج کو سپراسپیشلٹی اسٹینڈرڈ میں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ ان میڈیکل کالجوں میں بی آر ڈی میڈیکل کالج گورکھپور بھی شامل تھا۔ایس کے ایم سی ایچ کو سپراسپیشلٹی اسٹینڈرڈ میں اپ گریڈ کرنے کے لئے 150 کروڑ روپے خرچ ہونا ہے جس میں 120 کروڑ روپے مرکزی حکومت اور 30 کروڑ روپے ریاستی حکومت کو دینا ہے واضح ہو کہ ای اے ایس بیماری سے مسلسل ہورہی موت کی خبر موصول ہوتے ہی ڈاکٹر کفیل خان گورکھپور سے اپنی ٹیم کے ساتھ مظفرپور پہنچے اور انصاف منچ بہار کےنائب صدر ظفر کے ساتھ ملکر پہلے دن دامودر پور میں اور آج چین پور بنگرہ میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جس میں 400بچوں کوچیکپ کے بعد مفت میں دوائیاں دی گئی وہیں ڈاکٹروں کی ٹیم میں ڈاکٹر ارشد انجم،ڈاکٹر این اعظم، ڈاکٹر آشش گپتا،ڈاکٹر نوشاد عالم بھی شامل تھے وہیں اس موقع پر شبن بھائی مکھیا،ببن بھائی،عارف ،توحید، عرفان دلکش، کامران رحمانی، فہد زماں، اکبر اعظم، حافظ افضل حسین، وغیرہ خصوصی طور پر موجود تھے
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *