این آرسی میں نام درج کرانے کیلئے پرانی دہلی شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں

Share Article

 

کارپوریشن شہری علاقہ کی چیئرپرسن سیما طاہرہ کے پہاڑی املی واقع دفتر میں پرانی دہلی کے لوگوں کے لئے مرکز قائم کیا گیا

قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) میں نام درج کرانے کے لئے پرانی دہلی کے شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی مدد کے لئے کارپوریشن شہری علاقہ کی چیئرپرسن سیما طاہرہ کا کہنا ہے کہ پہاڑی املی واقع ان کے دفتر میں پرانی دہلی کے علاقے کے لوگوں کے لئے ایک مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں پر لوگوں کو پیدائش اور موت سرٹیفکیٹ آسانی سے بنانے میں مدد کی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرانے فارسی اور اردو کے کاغذات اور پیدائش موت سرٹیفکیٹ بنانے میں بھی مدد کی جائے گی، اس کے لئے این ڈی ایم سی کے علاقے میں واقع ریکارڈ روم میں دونوں زبانوں کے ٹرانسلیٹر کو مقرر کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ممکن ہو گیا تو 1950 سے پہلے کے تمام اردو اور فارسی میں بنے پیدائش اور موت سرٹیفکیٹ لوگوں کو آسانی سے مل جائیں گے۔

Image result for Old Delhi

قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں این آرسی نافذ ہونے جا رہا ہے۔ دہلی میں بھی این آرسی کی تیاری چل رہی ہے۔ ایسے میں عام شہریوں کے ذریعے اپناپیدائش اور رہائشی سرٹیفکیٹ لے کر فکر کی جا رہی ہے۔ عام شہری این آرسی میں اپنا نام درج کرانے کے لئے ان تمام کاغذات کو جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ پرانی دہلی کے لوگوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے کارپوریشن شہری علاقہ چیئرپرسن سیما طاہرہ کی طرف سے ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔ یہاں پر پیدائش اور موت سرٹیفکیٹ بنانے کے لئے درخواست فارم بھرنے کے ساتھ ساتھ سرٹیفکیٹ تیار کرکے دینے کی سہولت دی گئی ہے۔ سیما طاہرہ نے بتایا کہ اس کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے کام کیا جا رہا تھا،سب سے پہلے پرانے ہندو کالج سے پیدائش اور موت کے رجسٹریشن دفتر کو پرانے شہری علاقہ کے دفتر میں لایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام ریکارڈ کا پتہ لگا لیا گیا ہے، پرانے سے پرانے ریکارڈ موجود ہیں۔ دہلی کے شہریوں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 1990 تک کے سارے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہے،لیکن اس کے بعد کے بھی تمام ریکارڈ ریکارڈ روم میں موجود ہیں جنہیں تلاش کرکے نکلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1950 سے پہلے کے ریکارڈ اردو اور فارسی میں موجود ہیں جن کو نکالنے کے لئے وہاں پر دونوں زبانوں کے ٹرانسلیٹر کو مقرر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان ٹرانسلیٹر کے وہاں پر مقرر ہونے کے بعد وہاں موجود ریکارڈ کو ہندی اور انگریزی میں تبدیل کر کے لوگوں کو دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ساتھ ہی قبرستان میں بھی ریکارڈ موجود ہے جہاں سے موت سرٹیفکیٹ حاصل حاصل کئے جا سکتے ہے۔ اس سلسلے میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری محمود ضیاء کا کہنا ہے کہ پرانی دہلی شہریوں کو این آرسی سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ پرانی دہلی شہریوں کی پیدائش اور موت کے سارے ریکارڈ موجود ہیں، جنہیں حاصل کرکے اپنی شہریت کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیماطاہرہ کے دفتر میں ایک مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں پر درخواست دینے کے بعد لوگوں کی پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ کو بنانے میں مکمل مدد کی جائے گی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *