خلیج میں تیل کی کمی مالی بحران سے کتنا نمٹ پائے گا نیا ٹیکس

Share Article

اگر آپ کسی سے سعودی عرب میں تبدیلی کے بارے میں پوچھیں تو وہ کہیں گے: تبدیلی آئے گی، لیکن اپنے وقت پر۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام میں سالہاسال لگ سکتے ہیں تاہم خود سعودیوں کو مہینوں میں تبدیلیوں کی امید ہے۔سعودی عرب جیسے کٹر قدامت پسند معاشرے کے ہر شعبے میں تبدیلی سست رفتاری سے آتی ہے جہاں مذہبی حکام انتہائی اثر و رسوخ کے حامل ہوتے ہیں اور بہت سے سعودی اپنے موجودہ طرزِ زندگی سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود تبدیلی آ رہی ہے اور اس کا اثر حکمرانوں اور معاشرے دونوں پر ہو رہا ہے۔
چند سال قبل سیاہ سونا کہلانے والے سعودی تیل کی فروخت سے آنے والا منافع آدھا ہو کر رہ گیا ہے، جس کا اثر زندگی کے مختلف شعبوں پر پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب کی 90 فیصد آمدنی تیل سے ہوتی ہے۔ لیکن اب بہت سے وسائل کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے سعودی حکومت نے گزشتہ برس ورژن 2030 نامی منصوبہ تیار کیا تھا۔اس کی باگ ڈور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سونپی گئی ہے، جنھوں نے دنیا کی بہترین ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ منصوبے اور تصورات پیش کریں۔ملک کے بااثر وزیر برائے تیل خالد الفالح کہتے ہیں کہ ورژن 2030 انتہائی اہم ہے۔سرکاری نوکریوں میں بھاری تنخواہیں اور پرتعیش مراعات ختم کر دی گئی ہیں۔ نجی شعبے سے توقع ہے کہ معیشت کی نمو میں وہ بڑا کردار ادا کرے۔ لیکن ابھی اس کی رفتار سست ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 2018 کے آغاز پر پہلی دفعہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (وی اے ٹی) متعارف کرا دیا گیا ہے جس کے تحت عام اشیا اور سہولتوں پر اب پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی 127 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔خلیجی ممالک میں بیرون ملک سے کام کرنے کے لیے آنے والوں کے لیے ایک بڑی ترغیب وہاں کے ٹیکس فری قوانین ہیں لیکن تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومتیں زرمبادلہ میں کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈ رہی تھیں۔متحدہ عرب امارات کے حکام کے اندازوں کے مطابق وی اے ٹی کی مدد سے تین ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی ملے گی۔

 

 

 

 

 

 

 

نئے قوانین کے تحت اب پیٹرول، ڈیزل، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے، یوٹیلیٹی بلز اور ہوٹلوں میں کمرے بک کرنے پر وی اے ٹی لاگو ہوگا البتہ طبی سہولیات، بینکنگ سہولیات اور عام آمدو رفت کی سہولیات اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی ادارے ایک طویل عرصے سے خلیجی ممالک پر صرف تیل سے ملنے والی آمدنی پر انحصار کرنے کے علاوہ آمدنی کے مزید ذرائع ڈھونڈنے پر زور دے رہے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کی قومی آمدنی کا 90 فیصد تیل کی بدولت آتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی قومی آمدنی کا 80 فیصد بذریعہ تیل ملتا ہے۔ان دونوں ممالک نے اس سلسلے میں اور بھی کئی اقدامات کیے ہیں۔سعودی عرب اس سے پہلے ملک میں تمباکو اور مشروبات پر ٹیکس عائد کر چکا ہے جبکہ مقامی آبادی کو ملنے والی سبسڈی میں بھی کمی کر دی تھی۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سیاحتی ٹیکس بھی لاگو کیا گیا ہے۔لیکن ان ممالک کا تنخواہوں پر ٹیکس لاگو کرنے کا فی الوقت کوئی ارادہ نہیں ہے۔خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی کے دوسرے رکن ممالک جیسے بحرین، کویت، اومان اور قطر نے بھی کہا ہے کہ وہ وی اے ٹی متعارف کرائیں گے لیکن یہ اب 2019 تک کیا جائیگا۔
سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے لگائے گئے ایک نئے ٹیکس نے سگریٹ نوشوں کی زندگی دشوار کر دی ہے کیونکہ اس ٹیکس کی مد میں سگریٹ کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے۔سعودی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق حکومت نے سِن ٹیکس یعنی’گناہ ٹیکس‘ کے نام سے ایک نیا ٹیکس عائد کیا ہے جس سے سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس کی مصنوعات کی قیمت بڑھ گئی ہیں۔یہ ٹیکس اس پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت نہ صرف سعودی عرب بلکہ خلیج کے خطے میں واقع دوسرے ممالک میں بھی یہ ٹیکس لاگو ہوگا جس میں ان اشیا پر ٹیکس لگایا جائے گا جو مضر صحت ہیں۔اس ٹیکس کی مدد سے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالیاتی فرق کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مقامی سعودی میڈیا کے مطابق اس ٹیکس کے عائد ہونے کے بعد سے تاجروں نے ان مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی ہے تاکہ قیمتیں بڑھنے کے بعد وہ زیادہ منافع کما سکیں۔سعودی حکومت کی جنرل اتھارٹی آف زکوۃ اینڈ ٹیکس کے ترجمان مہند ال مادی کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر نے اس ٹیکس کے بارے میں کاروباری سیکٹر کو معلومات فراہم کردی ہیں اور ساتھ ساتھ اس کے لیے وہ ورکشاپ بھی منعقد کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ خلیجی ممالک کی تنظیم گلف کوآپریشن کونسل کے ملکوں میں 2018 سے چند مصنوعات پر پانچ فیصد اضافی ٹیکس لگایا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *