آفس آف پروفٹ معاملہ:عام آدمی پارٹی ممبران اسمبلی کوکچھ راحت

Share Article
aap-mlas-disqualified-pic-by ndtv
آفس آف پروفٹ معاملے میں عام آدمی پارٹی کیلئے راحت بھری خبرہے ۔عام آدمی پارٹی کی طرف سے دائرعرضی پرسماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلی سماعت تک دہلی میں نا اہل قرار دئے گئے 20 ممبران اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن کا اعلان نہ کرے۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ کی اگلی سماعت 29جنوری کوہوگی ۔اسلئے الیکشن کا اعلان ابھی نہیں کیا جانا چاہئے۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی جانب سے عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دینے سے متعلق سفارش پر دستخط کرنے کے بعد عدالت میں ممبران اسمبلی کی تین درخواستوں پر سماعت ہونے والی ہے۔ پارٹی لیڈروں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں اس آرڈر کو رد کرنے کا حکم دیا جائے ، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے دفاع کرنے کا مناسب موقع دئے بغیر ہی اپنی سفارش کی ہے۔
عام آدمی پارٹی نے دلیل دی ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر مناسب جلد بازی سے کام کیا ہے۔ اگر عدالت نے ممبران اسمبلی کی اہلیت کو برقرار رکھا ، تو ان کی سیٹوں کیلئے انتخابات ہوں گے۔ تاہم اس سے وزیر اعلی کیجریوال کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، گرچہ پارٹی سبھی 20 سیٹوں پر بھی ہار جائے ، کیونکہ اسمبلی میں پارٹی کو ابھی بھی اکثریت حاصل ہے۔
واضح رہے کہ جن ممبران اسمبلی کونااہل قراردیے گئے ہیں ان میں آدرش شاستری، الکالامبا، سنجیوجھا، کیلاش گہلوت، وجیندرگرگ، پروین کمار، شرد کمارچوہان، مدن لال کھوفیا، شیوچرن گوئل، سریتاسنگھ، نریش یادو، راجیش گپتا، راجیش کرشی،انل کمار باجپئی، سوم دت، اوتارسنگھ، سکھویر سنگھ ڈالا، منوج کمار، نتین تیاگی، جرنیل سنگھ شامل ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *