!مجرم مطلوب ہے، زندہ یا مردہ

Share Article

اسدمفتی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لا دن کی ہلاکت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔کسی رکن ملک کی جانب سے یک طرفہ فوجی آپریشن پر پہلی مرتبہ بیان جاری کرتے ہوئے سلامتی کونسل نے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی پھیلانے والے افراد اور تنظیموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی اپنی کوششوں کو تیز تر کردیں۔سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں دنیا بھر میں القاعدہ کے دہشت گردانہ حملوں کو یاد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی بھی نظریہ کے تحت معصوم انسانوں کے قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ادھر صدر امریکہ بارک اوبامہ نے اسامہ کی ہلاکت کی خبر سن کر اپنا پہلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ اسامہ بن لادن ایک ’مسلم لیڈر‘ نہیں تھا بلکہ ’کثیر مسلمانوں کا قاتل‘ تھا۔ اوبامہ نے یہ بھی وضاحت کی کہ امریکہ اسلام کے ساتھ ہرگز جنگ نہیں کرے گا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ہم اس بات کی توثیق کرتے ہیں اور توثیق کرنی بھی چاہیے کہ امریکہ، اسلام کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے اور حالت جنگ میں ہرگز نہیں رہے گا‘‘۔ اس سے قبل سابق صدر جارج بش نے ستمبر 2001میں بھی یہی بات کہی تھی کہ ہماری جنگ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔
ملیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے اپنے غیر ملکی دورہ کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن نے اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو جائز قرار دینے کے لیے اسلام کا سہارا لے کر اس کی شبیہ بگاڑی ہے۔ اسلام میں بے قصور عوام اور معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔اسلامی نظریات اور مہذب اقدار کا حامل کوئی بھی شخص اسے قابل قبول قرار نہیں دے سکتا۔بے قصور لوگوں کو ہلاک کر کے ہم اپنے مقصد میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ادھر ترکی کی فوج کے سربراہ نے اسامہ کی ہلاکت پر ہالینڈ کے ایک جریدہ کو انٹرویودیتے ہوئے پاکستان کو خبردار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی انتشار اور اسلامی انتہا پسندوں کے تشدد کے نتیجہ میں طالبان کے ملک کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ اور نیو کلیئر اثاثوں پر قابض ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری قائدین کو چاہیے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں۔
یورپ میں اکثر مسلمانوں نے اسامہ بن لادن کی موت کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اس سے 11ستمبر کو امریکہ پر ہوئے حملوں کے بعد سے مسلمانوں کے دامن پر لگے ہوئے داغوں کو دھونے میں مدد ملے گی۔ اس کے برعکس کچھ پاکستانی  ’’ہم اسامہ کے ساتھ اختلافات کے باوجود انہیں ہلاک کرنے کی مذمت کرتے ہیں‘‘کا نظریہ رکھتے ہیں۔ لیکن پاکستانی یہ بھولتے ہیں کہ امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملے کا بنیادی مقصد اور ٹارگیٹ اسامہ بن لا دن اور دوسرے دہشت گردوں( یا کوئی بھی نام دے لیں) کو پکڑنا یا ہلاک کرنا تھا اور اس ’’آپریشن اسامہ‘‘کا ابتدائی کام سات ماہ قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ ہالینڈ کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001میں ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے چند روز بعد ہی اس وقت کے امریکی صدر جارج بش جو نیئر نے عہد کیا تھا کہ امریکہ اسامہ بن لا دن کو پاتال سے ڈھونڈ نکالے گا، بش نے کہا تھا کہ میں انصاف چاہتاہوں جیسا کہ ویسٹرن ٹائپ فلموں میں اشتہار اور پوسٹر لکھے ہوتے ہیں’’مجرم مطلوب ہے ، زندہ یا مردہ‘‘۔اب جب کہ اسامہ ہلاک ہو چکا ہے ، امریکہ کو افغانستان (اورپاکستان) کے بارے میں کچھ اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ میرے حساب سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہت ہی مشکل اور پیچیدہ تعلقات ہونے کے باوجود ان تعلقات کو توڑا نہیں جانا چاہیے۔ پاکستان کو صرف یہ جواب دینے کی ضرورت ہے (اور وہ بھی واضح طور پر) کہ وہ اسامہ کی کمپائونڈ میں موجودگی سے آگاہ کیوں نہیں تھا؟ ہالینڈ کے اخبارات و رسائل میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے حوالہ سے پاکستانی حکام اور انٹیلی جنس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ ’’دکھتا‘‘ہوا سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر دس ہزار فوجی نیو کلیئر بموں کی حفاظت کے لیے تعینات ہو سکتے ہیں تو انہیں اسامہ کی موجودگی کا علم کیوں نہیں ہو سکا؟ ایک اخبار نے اسامہ کی گرفتاری یا ہلاکت کو ایک مہنگی ترین ہلاکت قرار دیا ہے۔اخبار کے مطابق افغانستان کی جنگ سو ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ کی ہے اور کیا افغانستان دہشت گردوں کے اثرات سے محفوظ ہو کر ایک مستحکم اور پائیدار جمہوریت بن سکتا ہے؟ مضمون نگار نے سوال کیا ہے کہ امریکہ کی نظر میں افغانستان میں کامیابی کا کیا مطلب ہے؟ہالینڈ ہی کے ایک مقبول جریدہ نے پاکستان کے نیو کلیئر اثاثوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے سیاسی اور فوجی حکام کی لاعلمی سے پاکستان کے اپنی نیو کلیائی طاقت کے تحفظ کے مناسب انتظامات پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جو کافی تشویش ناک بات ہے اور اس سے خفیہ ایجنسیوں کی اہلیت کا بھی بھرم کھل گیا ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ حضرت علیؐ سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ سے قبل جو خلفائے راشدین تھے ان کے دور میںبہتر صورتحال تھی، آپ کے دورِخلافت میں ایک انتشار ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ جو اس مسند پرمجھ سے پہلے تھے ان کا مشیر میں تھا اور اب میرے مشیر تم لوگ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *