اڑیسہ، لوور سکتیل پروجیکٹ : ترقی کے بہانے تباہی ؟

Share Article

وبھوتی پتی

کیا سُکتیل پروجیکٹ کی مانگ کر رہے لوگوں کی سرکار کے ساتھ بات ہو گئی ہے۔ کیا رضامندی ہو گئی ہے کہ زرعی علاقے کے لیے کتنا پانی ملے گا، پیاسے بولانگیر کے لیے کتنا پانی ملے گا اور کتنا پانی المونیم صنعت کے لیے جائے گا؟ ایسے کئی سوال ہیں، جن کے جواب کا انتظار ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں، کیا کہتی ہے چوتھی دنیا کی یہ رپورٹ؟

اڑیسہ میں ایل ایس پی ڈسپلیسمنٹ کے کام کے لیے اب تک 385 کروڑ روپے کی رقم خرچ کی جا چکی ہے، لیکن ابھی تک لوگ mastتعمیراتی کام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مقامی صحافی پورن چندر پانڈا کہتے ہیں کہ 385 کروڑ روپے کی رقم کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ سرکاری افسروں، مقامی سیاسی لوگوں اور چاپلوسوں کی جیب میں جا چکا ہے۔ آر اینڈ آر پالیسی کے تحت ہر ایک ڈَگ ویل (کنویں) کے لیے منظور رقم حقیقی لاگت کا مشکل سے 10 فیصد ہے۔ گاؤں کے لوگ اپنے مکان اور زرعی زمین کے لیے دیے جا رہے معاوضہ پیکیج کو لے کر مطمئن نہیں ہیں۔ دوسری جانب باہری زمین خریدنے کے لیے مل رہا معاوضہ پوری طرح ناکافی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پھل دینے والے درختوں کے بدلے میں سرکار نے صرف نقصان کی تلافی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ حالانکہ پہلے کچھ لوگ سرکار کی حمایت کر ضرور رہے تھے، لیکن اب وہ بھی ناراض ہیں۔
دراصل، اڑیسہ میں باندھوں کے لیے جگہ خالی کرانے اور لوگوں کو بے دخل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔ پچاس کی دہائی میں ہی ہیراکنڈ باندھ کے لیے جگہ خالی کرانے کو لے کر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ جولائی کے مہینہ میں جب بارش ہو رہی تھی اور ریزروائر کو بھرا جا رہا تھا، تب اڑیسہ آرمڈ پولس نے فلیگ مارچ کیا۔ گاؤں والوں میں اتنا زیادہ خوف تھا کہ وہ اپنے جائز معاوضے کا دعویٰ کرنے کے لیے بھی واپس اپنے گاؤں میں نہیں آ پائے۔ ان کے من میں ڈر اس قدر بیٹھ گیا تھا کہ انہوں نے اپنا قیمتی سامان اکٹھا کرنے کے لیے واپس آنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔ یہ منظر فقیر موہن سیناپتی کے ذریعے ان کے ناول ’لچھما‘ میں بیان کیے گئے بے رحم مراٹھا برگی حملے کی یاد دلاتا ہے۔ تب آزاد ہندوستان بہت نیا تھا، لیکن آج 65 سال بعد کیا ہو رہا ہے؟ کیا آزاد ہندوستان پختہ ہو گیا ہے؟ کیا اس نے زیادہ پختگی کے ساتھ تحویل اراضی اور ڈسپلیسمنٹ کے حساس مدعے کو سنبھالنے کے لیے کچھ سیکھا ہے؟ نہیں، ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔
1997 کے دوران اڑیسہ کے غیر منقسم بولانگیر ضلع میں لوور سُکتیل پروجیکٹ (ایل ایس پی) کے بارے میں پہلی بار، جب ایچ ڈی دیوگوڑا وزیر اعظم تھے، چرچا ہوئی تھی۔ لوور سکتیل ایک ندی ہے، جو مغربی اڑیسہ کے بولانگیر شہر سے بہت دور نہیں ہے۔ اڑیسہ سرکار سکتیل ندی پر ایک باندھ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ باندھ ایل ایس پی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1998 میں سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی)، نئی دہلی نے ایل ایس پی کے لیے اپنی منظوری دے دی تھی۔ شروعات میں 1997 میں ایل ایس پی پروجیکٹ لاگت 217 کروڑ روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا، جو کہ اب 3200 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس لاگت میں اضافہ کی درخواست کے لیے فائل سی ڈبلیو سی، نئی دہلی کے پاس پڑی ہوئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، اگر اسی طرح دیری ہوتی رہی، تو پروجیکٹ کی لاگت ہر سال 100 کروڑ روپے سے اوپر بڑھتی ہی رہے گی۔
پہلے ہی دن ایل ایس پی کے مجوزہ نفاذ کی سماعت میں 30 گاؤوں (سرکار کے ذریعے اعلان شدہ 26 گاؤوں) کے 35 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ دراصل، اس طرح کی عوامی مخالفت دیکھ کر اس وقت کی کانگریس سرکار نے ایل ایس پی فائل کو ٹھنڈے بستے میں رکھ دیا۔ جب نوین پٹنائک پہلی بار اقتدار میں آئے، تو پھر سے یہ فائل کھولی گئی اور انہوں نے 24 نومبر، 2001 کو سنگ بنیاد ڈالنے کے لیے ماگرو بیڈا گاؤں کا دورہ کیا، لیکن انہیں گاؤں والوں کی مخالفت اور غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ مجبوری میں یہاں سے2 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں ایل ایس پی کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بولانگیر کے پولس کمشنر اور کلکٹر بھی ایل ایس پی کے معاملے میں آگے نہ بڑھنے کی صلاح دیتے نظر آئے۔
ایل ایس پی مخالف ملک کے دیگر باندھ پروجیکٹوں کی مخالفت کر رہے لوگوں سے پوری طرح الگ ہیں۔ اپنے گھر اور گزر بسر کے ذرائع کو بچانے کے لیے لوگ کرنے اور مرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خود کش دستے، جس کا نام مارونو سینا ہے، بنا لیے ہیں۔ ایل ایس پی کی وجہ سے 26 بڑے گاؤوں کے ڈوب جانے اور قریب 10 ہزار 500 کنبوں کی زندگی، تہذیب، وراثت اور تاریخ کے برباد ہو جانے کا خطرہ ہے۔ چترنجن مشرا کہتے ہیں کہ اگر ایل ایس پی پر کام شروع ہو جاتا ہے، تو تحریک کرنے والے یقین طور سے خون بہانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ شروع سے ہی صوبائی حکومت نے لوگوں کو پریشان کیا ہے اور وہ بھی بغیر کسی وجہ کے۔ سرکار، محکمہ آبی وسائل اور مختلف پارٹیوں کے لیڈر ایل ایس پی کے حق میں بحث کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بولانگیر ایک مسلسل قحط زدہ علاقہ ہے۔ غیر منقسم بولانگیر ضلع میں آبپاشی کے وسائل دنیا میں سب سے کم ہیں، یعنی صرف تین فیصد۔ بولانگیر میں آج تک کوئی بڑا سینچائی پروجیکٹ نہیں شروع ہوا، بہت تھوڑی بارش ہوتی ہے اور پینے کے پانی کا مسئلہ بہت زیادہ سنگین ہے۔ ایل ایس پی سے ان مسائل کا حل نکلے گا، لیکن مخالفین کہتے ہیں کہ یہ صرف سیاسی بیان تک ہی محدود ہے۔ ایل ایس پی صرف کچھ لوگوں کے لیے ہی ہے۔ گاؤوں کے لوگ اور سینئر سٹیزن سوال کرتے ہیں کہ ہزاروں گاؤں والوں کی زندگی کی قیمت پر آخر کیوں چاہیے ایل ایس پی؟
صوبائی حکومت بازآبادکاری کے لیے زمین دینے کی ذمہ داری سے دور کیوں بھاگ رہی ہے؟ وہ بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت اسے لازمی کیوں نہیں مان رہی ہے؟ اسے نافذ کرنے میں اسے کیا مشکلیں پیش آ رہی ہیں؟ اگر سرکار پروجیکٹ سے متاثرہ لوگوں کے لیے زمین کی تحویل نہیں کر سکتی، تو پھر بے گھر ہوئے لوگوں کو وہ کیسے ملے گی؟ باز آبادکاری عوامی مقصد کا حصہ کیوں نہیں ہے؟ عوامی مقصد کے نام پر لوگوں کو بے دخل تو کیا جا رہا ہے، لیکن جب بات باز آبادکاری کی آتی ہے، تو یہ پروجیکٹ سے متاثرہ لوگوں کے لیے ایک نجی معاملہ ہو جاتا ہے۔ صوبائی حکومت اگر لوگوں کے مستقبل کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی، تو وہ ان گاؤوں کو ڈبونے پر کیوں آمادہ ہے؟ کیا سکتیل پروجیکٹ علاقہ کے تحت آنے والے لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کا معاوضہ پیکیج کیا ہے؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ کہاں اور کیسے انہیں دوسری جگہ آباد کیا جائے گا؟
ہیرا کنڈ کے بعد کئی باندھ بنے۔ ہر جگہ صوبائی حکومت نے تحویل اراضی کے لیے طاقت کا استعمال کیا، چاہے وہ رینگالی میں ہو یا اندراوتی یا پھر دور دراز کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا باندھ بنانے کے لیے۔ رینگالی معاملے میں واٹر ٹینک بھلے ہی بھرا تھا، لیکن لوگوں کو آخرکار بے دخل نہیں کیا جاسکا۔ حالانکہ بعد میں کشتی کی مدد سے بے سہارا گاؤں والوں کو بچایا گیا تھا۔ ہیرا کنڈ سے لے کر سکتیل تک کے درمیان 60 سال گزر گئے، لیکن ہندوستان اپنی بے گھر ہوئی آبادی کا مسئلہ حل کرنے میں ابھی تک پر عزم نہیں ہوا۔ ان جدید مندروں کی تعمیر کے نام پر لوگوں کو بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں رکا….

شاید ہی کوئی ترقی کا مندر ایسی زمین پر بنا ہو، جہاں کی مٹی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے خون سے نہائی نہ ہو۔ دراصل، سکتیل میں بھی یہی ہو رہا ہے۔صوبائی حکومت کا ان سب کے تئیں ایک بہت ہی عام سا جواب ہوتا ہے کہ سب کچھ قانون کے دائرے میں کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ یہ زمین عوامی مقاصد کے لیے ضروری ہے۔ بھلے ہی بے گھر ہوئے لوگ اس سے متفق نہ ہوں، وہ ایک طرفہ اسے حاصل کر لیتی ہے۔ جن کے آباء و اجداد نے یہ زمین حاصل کی، اس کی ترقی میں اپنا رول ادا کیا، انہیں اسے پھر سے حاصل کرنے کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے۔ اسی مٹی کے بیٹوں اور بیٹیوں کو غاصب بتایا جا رہا ہے۔ پورن چندر پانڈا کہتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لیے زمین قبضے میں لی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قومی مفاد کے لیے ہے، اس لیے کچھ لوگوں کو قربانی دینی ہی ہوگی، لیکن سوال یہ ہے کہ صوبہ انہیں واپس کیا دیتا ہے؟ لاٹھی یا آبی قبر؟ صوبہ نے کبھی یہ سوچا کہ جن بے گھر ہوئے لوگوں کی قربانی کی وجہ سے ملک ترقی کر رہا ہے، کیا انہیں کبھی انعام سے نوازا گیا؟
ایک مخصوص پروجیکٹ کا تجزیہ کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ کسی بھی صنعت، باندھ یا دیگر پروجیکٹ پر جب عمل کیا جاتا ہے، تب اس سے وابستہ لوگوں پر مختلف قسم کے اثر پڑتے ہیں۔ اثر پڑنے کی دو اہم وجوہات ہیں، لاگت اور منافع۔ اس معاملے میں یہاں باندھ کے ڈوبنے والے علاقہ میں لوگ اپنی زمین، گزر بسر کا ذریعہ اور گھر کھو دیں گے۔ دوسری جانب باندھ پروجیکٹ سے صنعتوں، بجلی پیداوار، سیلاب کنٹرول، ماہی پروری، پینے کا پانی اور سینچائی جیسے فائدے ملیں گے۔ اس میں سینچائی سب سے سیدھا فائدہ ہے۔ اس وجہ سے پروجیکٹ سے بے گھر ہوئے لوگوں یا زیر آب آبادی اور کمانڈ ایریا کے کسانوں کے درمیان بٹوارہ ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف کمانڈ ایریا میں لوگوں کو خریف کے دوران سینچائی کے لیے پانی مل جاتا ہے۔ کمانڈ ایریا میں جس کسان کے پاس صرف 5 ایکڑ زمین ہے، اسے زبردست فائدہ ہو جائے گا۔ پانی ملنے سے اس کی فصل پانچ ایکڑ زمین میں 10 ایکڑ کا منافع دے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کے لیے کمانڈ ایریا کے لوگوں نے کیا قربانی دی؟ کچھ بھی نہیں۔ ساری ادائیگی تو زیر آب علاقہ کے لوگ کرتے ہیں اور منافع ملتا ہے کمانڈ ایریا کے لوگوں کو۔
واٹر مینجمنٹ ایکسپرسٹ تپن پادھی کہتے ہیں کہ ایک باندھ پروجیکٹ ان دونوں گروہوں، کیچمنٹ ایریا اور کمانڈ ایریا کے بیچ غیر برابری بڑھانے میں خاصا رول ادا کرتا ہے۔ ایک بہت ہی فطری سوال یہاں اٹھتا ہے کہ کمانڈ ایریا کے کسان باندھ کے لیے قربانی کے روپ میں زیر آب علاقہ کے کسانوں کے ساتھ اپنی زمین میں حصہ داری کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ قدم لاگت کے ساتھ ہی پروجیکٹ کے منافع میں بھی حصہ داری کرنے میں مدد کرے گا۔ مقامی صحافی سنجے مشرا کہتے ہیں کہ سرکار نے یقینی طور سے مخالفت کی وجہ کو کم کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ 15 جنوری سے یہ پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے راضی ہو گئی ہے۔ جس طرح سے پروجیکٹ متاثرہ لوگوں (زیر آب علاقہ) کا کوئی نمائندہ اس میٹنگ میں نہیں تھا، اس سے صاف ہے کہ سرکار کو صرف کمانڈ ایریا کے مفادات کی فکر ہے۔ متاثرہ گروپ سے دو لوگوں کو اس کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن وہ سرکار کے ساتھ سیدھے بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ اب آگے کیا ہوگا، یہ ابھی واضح نہیں ہے، لیکن سرکار کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد سکتیل پروجیکٹ پر آگے بڑھنے کا موقع ضرور مل گیا ہے، کیوں کہ اسے گندھ مردن پہاڑیوں سے المونیم نکالنے کے لیے پانی کی سخت ضرورت ہے۔

جنم بھومی اور شمشان  بھومی کو بچانا ہے
نوجوان کسان پوتر کمار گرتیا گزشتہ 13 سالوں سے ایل ایس پی کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے خلاف انتظامیہ کے ذریعے کئی جھوٹے معاملے درج کرائے جا چکے ہیں۔ وہ کئی بار جیل بھی جا چکے ہیں۔ پیش ہے ان سے ہوئی بات چیت کے اہم اقتباسات …

آپ ایل ایس پی کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
مجھے اپنے جنم استھان کے ساتھ شمشان بھومی کو بھی بچانا ہے۔ جنگل اور زمین پر ہمارا حق ہے۔ میرے علاوہ، 29 گاؤوں کے لوگ ایل ایس پی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
بولانگیر قحط زدہ علاقہ ہے، سینچائی کا انتظام نہیں ہے، بارش کم ہوتی ہے اور پینے کے پانی کی بھی قلت ہے۔ صوبائی حکومت کہتی ہے کہ ایل ایس پی سے ان مسائل کا حل نکل آئے گا۔ آپ کا کیا کہنا ہے؟
لوور سکتیل ندی کبھی بھی بولانگیر میں بارہ ماسی سوکھے کی حالت کے لیے ایک حل نہیں ہو سکتی، کیوں کہ اس ندی میں مانسون کے دوران ہی کچھ پانی ملتا ہے۔ ہمارے علاقے میں سوکھے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ایل ایس پی کو 1997 میں شروع کیا گیا تھا۔ سرکار ہمیں یہ بتائے کہ تب سے ہمارا علاقہ کتنی بار خشک سالی سے متاثر ہوا۔ کھاپرا کھول، ٹٹلا گڑھ، کانتا بانجھی اور نوپارا خشک سالی سے زیادہ متاثر علاقے ہیں۔ بڑی ندی تیل وہاں ہے۔ کیوں نہیں وہاں پروجیکٹ لے جایا جاتا؟ لوور سکتیل ندی اَپر سکتیل ندی کی چھوٹی معاون ندی ہے اور تیل ندی کی ذیلی برانچ ہے۔ ہمارے علاقہ میں سینچائی یا پینے کے پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ 60 ہزار سے زیادہ غریب گاؤوں والوں کی گھروں سے بے دخلی اور پریشانی کی قیمت پر کچھ گروہوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی معلوم پڑتی ہے۔
یہاں سرکار کی کیا سرگرمیاں چل رہی ہیں؟
سرکار صرف ہماری تحریک کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ بانٹو اور راج کرو کی پالیسی چلا رہی ہے، لیکن اب تک ناکام رہی ہے۔ اب سرکاری افسروں نے بھومی بندھک کے بدلے بڑے پیمانے پر قرض کی تقسیم کا نیا کھیل کھیلا ہے۔ مقصد ہے کہ لوگ اپنا قرض چکانے میں ناکام ہو جائیں گے اور زمین سرکار کو مل جائے گی۔ اس کے علاوہ، ضلع انتظامیہ نے خاموشی سے گاؤوں والوں سے زمین خریدنے کے لیے مقامی کاروباریوں کا استعمال کیا۔ گاؤوں والوں کو لگا کہ وہ مقامی کاروباریوں کے ہاتھوں زمین فروخت کر رہے ہیں، نہ کہ سرکار کے ہاتھوں۔ سات گاؤوں کے لوگ سرکار کی اس چالبازی میں پھنس کر اپنی زمین گنوا چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے دلالوں کی جیب میں پیسے چلے گئے۔ دلال جوا اور شراب کے کاروبار کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس طرح گاؤوں والوں کو زمین بیچنے سے ملے لاکھوں روپے صرف ایک سال کے اندر ختم ہو جائیں گے۔
سرکار کی پالیسیوں کے بارے میں اور کیا کہیں گے؟
اب نئے دلال گاؤوں والوں کی زمین خریدنے کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ جانکاری تب ملی، جب کھاپسا بہل اور بیجا پٹ گاؤں کی خبر سامنے آئی۔ نئے دلالوں نے وہاں بہت کم قیمت پر زمین خریدی اور بہت اونچی قیمت پر سرکار کو بیچ دی۔ مذکورہ گاؤوں کے لوگ مدد کے لیے ہمارے پاس آئے تھے   سرکار سے ہمارا سوال ہے کہ جب اس نے خود ہی 1997 کے بعد سے اس علاقے کی زمینوں کی خرید و فروخت کو غیر قانونی بنا دیا ہے، تب ایسے میں دلال کس طریقے سے گاؤوں والوں سے زمین خرید رہے ہیں؟
سرکار جب زمین اور گھر وغیرہ کی سہولت فراہم کرے گی، تو پھر آپ کیوں مخالفت کر رہے ہیں؟
کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے۔ پچاس سال گزر چکے ہیں۔ ہیرا کنڈ سے بے گھر ہوئے لوگوں کے لیے سرکار نے اب تک کیا کیا؟ میں محکمہ آبی وسائل کو چنوتی دے رہا ہوں کہ وہ اڑیسہ میں کوئی ایک ایسی مثال بتائے کہ اس نے کب اپنے وعدے کے مطابق بازآبادکاری کے لیے کچھ کیا؟ پھر، زرعی زمین اور بنجر زمین کے درمیان ایک فرق ہے۔ کالی متی گاؤں میں سرکار نے زرخیز زمین کے بدلے بنجر زمین دے دی۔ ایک خاندان جنگل کی پیداوار سے سالانہ 20 سے 50 ہزار روپے کماتا ہے۔ ہم درختوں اور پہاڑیوں کی پوجا کرتے آئے ہیں۔ بے گھر ہونے کے بعد سرکار ہمیں یہ سب کیسے دے پائے گی؟ اس بے گھر ہونے سے ہمارا طرزِ زدگی، مذہب، تہذیب اور وراثت کے ختم ہوجانے کا خطرہ ہے۔ شہری اور صنعتی گھرانوں کے لیے سرکار ہمیں بھیڑ کے بچے کے روپ میں قصائی خانے بھیجنا چاہتی ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سرکار رازداری برت رہی ہے اور اس کے ارادے نیک نہیں ہیں؟
ہاں، بالکل۔ گندھ مردن باکسائٹ مائنس اور صنعتوں کی پانی کی ضرورت اس پروجیکٹ کے ذریعے پوری ہوگی۔ ایل ایس پی سے پہلے یہ پروجیکٹ انگا ندی پر بنانے کا ارادہ تھا، لیکن مقامی سیاسی لیڈروں نے اپنے نجی مفادات کے چلتے ایسا ہونے نہیں دیا۔
آپ 19 سالوں تک محکمہ آبی وسائل کے فیلڈ اسٹاف رہے ہیں۔ آپ نے بے گھر ہونے کے درد کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ اپنے ذاتی تجربات کے بارے میں کچھ بتائیں۔
میں نے بے گھر ہونے والے لوگوں کے مسائل دیکھے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے گاؤں کے لوگ بھی وہی سب جھیلنے پر مجبور ہو جائیں۔ ایک بار اس وقت کے ڈپٹی کلکٹر ناگیندر موند میرے گاؤں آئے اور بتایا کہ انہوں نے ایسے کئی گاؤوں میں کام کیا ہے اور کامیابی کے ساتھ لوگوں کی باز آبادکاری کرائی ہے۔ اب وہ خوش ہیں اور پرامن زندگی جی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اور آپ کے گاؤں کے لوگ ہمیں اپنا تعاون دیں، ہم کامیابی کے ساتھ بازآبادکاری کا کام کر لیں گے۔ میں نے کہا کہ سر، میں نے آپ کے ساتھ کام کیا تھا۔ آپ نے ہری ہر جور گاؤں کے لیے کیا کیا؟ میں نے 40 غیر شادی شدہ ماؤں کے لیے کچھ کرنے کو کہا تھا، آپ نے کیا کیا؟ کچھ بھی نہیں۔ آپ صرف باندھوں کی تعمیر کے لیے کچھ باہر کے مزدور لے آئیں گے، غریبوں کی زندگی برباد کریں گے، لیکن بے گھر ہوئے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔ جب میں نے ایسا کہا، تو مجھے آئی پی سی کی دفعہ 475 کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ میں جب جیل میں بند تھا، تو میرے 16 بڑے آم کے درخت جبراً کاٹ دیے گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *