اوبامہ جو لینے آئے تھے وہ لے گئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
براک اوبامہ آئے اور چلے گئے۔ ملک میں بادشاہ کے استقبال کا ماحول تھا۔ اوبامہ امریکہ سے چلے تھے تو انتخاب میں شکست کھائے صدر تھے لیکن جب وہ اپنے ملک واپس پہنچے تو مسکراتے ہوئے واپس پہنچے، کیونکہ ان کے ہاتھ میں 55ہزار نوکریوں کا خزانہ تھا۔ وہ اس ملک سے نوکریاں چھین کر لے گئے تھے جس ملک میں نوکریاں پاگلوں کی طرح تلاش کی جا رہی ہیں،لیکن ہم نے تالیاں بجائیں کیونکہ ہمیں سمجھ میں ہی نہیںآ رہا ہے کہ اوبامہ ہمیں کیا دے گئے اور ہم سے کیا لے گئے۔
لیکن سب سے پہلے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو اوبامہ نے کیا دیا، جن سے سونیا گاندھی ہوٹل میں جا کر ملیں اور جن سے راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں دو بار ہاتھ ملایا۔ سونیا گاندھی جب وزیر اعظم کے ذریعہ دئے گئے اوبامہ کے استقبال کے استقبالیہ عشائیہ میں پہنچیں توانھوں نے بڑے بڑے خوبصورت جھمکے پہن رکھے تھے۔ سونیا گاندھی کو جھمکے پہنے دیکھنا ایک خوشنما احساس اور حیرت کی بات تھی۔
اوبامہ نے پارلیمنٹ کے اپنے خطاب میں سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ وہ ماہر پروفیسر اور بڑے وکیل ہیں۔پروفیسر تو اتنے غضب کے ہیں کہ امریکہ میں اپنی پارٹی کے اندر انھوں نے ہلیری کلنٹن کو دھول چٹا دی، جنہیں دنیا امریکہ کا صدر مان بیٹھی تھی۔ اوبامہ نے پارلیمنٹ کے خطاب میں سوامی وویکانند کو یاد کیا، مہاتما گاندھی کو یاد کیا، پنچ تنتر کا ذکر کیا، بابا صاحب امبیڈ کر کی مدح سرائی کی لیکن وہ دو لوگوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کر گئے۔ انھوں نے ان کا نام نہیں لیا۔ پہلا نام پنڈت جواہر لال نہرو کا تھا اور دوسرا محترمہ اندرا گاندھی کا تھا۔ یاد تو انہیں وی پی سنگھ کو بھی کرنا چاہئے ،کیونکہ ملک میں قیادت کے سماجی ڈھانچے میں تبدیلی کا شرف انہیں ہی حاصل ہے۔
اگر نہرو جی اور اندرا جی نہیں ہوتے تو ملک اس مقام تک پہنچتا ہی نہیں، جہاں سے عالمی طاقت بننے کی شروعات ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے کا سبب سونیا گاندھی کو خاص کر راہل گاندھی کو سمجھنا چاہئے۔ پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی سماجوادی سماجی نظام کے حامی تھے۔ ان کے منصوبوں میں غریب رہتا تھا، دونوں کبھی امریکی پالیسیوں کے حامی نہیں رہے۔ وہ دن سرد جنگ کے تھے، دونوں کا جھکائو سوویت یونین کی جانب تھا اور دونوںبے گروپ تحریک کو مضبوط کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے تھے۔ اوبامہ نے اس لئے جان بوجھ کر دونوں کا نام نہیں لیا۔ انہیں راہل گاندھی جتنی جلدی سمجھیں اتنااچھا کیونکہ ان کے دادا اور ان کے والد کے نانا کا خواب پورے ہندوستان کی خوشحالی کا خواب تھا۔ کہیں اوبامہ کے الفاظ تاریخ نہ بن جائیں اور نہرو اور گاندھی جی کا تعاون بے مطلب نہ مان لیا جائے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اوبامہ نے پاکستان کی تعریف بھی کی اسے ہلکا الٹی میٹم بھی دیا، مگر وہ الٹی میٹم پیار بھرا تھا۔ ہم خوش ہو گئے۔ اوبامہ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں آپ کا استقبال ہے، ہم نے تالیاں بجائیں۔اوبامہ نے نہیں کہا کہ وہ حمایت کریں گے اس کے لئے ضرور ی ہے کہ سلامتی کونسل کی تشکیل نو ہو ، جو ابھی تو ممکن نہیں لگتی ،لیکن اوبامہ نے ایک شرط رکھ دی ہے کہ ہندوستان ایران ،میانمار اور افغانستان میں اس کی پالیسیوں کی حمایت کرے۔ اب تک ہماری پالیسی رہی ہے کہ ہم دوسرے ممالک کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی نہیں کرتے ، لیکن اگر سلامتی کونسل میں جانا ہے تو ہمیں امریکہ کا حامی بننا ہوگا۔
ممبئی میں اوبامہ نے ہندوستانی صنعت کاروں سے بات کی اور ان سے دس ارب روپیوں کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے، اچھا لگتا ہے لیکن دنیا میں ہم گھوم رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں آئو سرمایہ کاری کرو، تب شرم آتی ہے۔ 55ہزار سے زیادہ نوکریاں اپنے ہاتھ میں لے کر اوبامہ واپس چلے گئے۔
اوبامہ نے سرمایہ کاری کے وقت سے اور بعد میں اٹل جی کے وقت نافذ ہوئی پابندیوں میں سے کچھ کو ہٹایا، کچھ کو ڈھیلا کیا، یہ ان کی مجبوری تھی کیونکہ امریکی مال کو بازار چاہئے تھا، جو ہندوستان سے اچھا اور کہاں ملتا۔
زرعی ،تعلیمی نظام اور ماحولیاتی سائنس میں شراکت داری کی بات اوبامہ نے کی۔ کیا اس سے کیمبرج اور آکس فورڈ جیسی یونیورسٹیوں کی برانچ ہمارے یہاں کھلیں گی ؟نہیں، اس کی جگہ چھوٹے شہروں میں چل رہی امریکی تعلیم کی دکانیں ہندوستان میں سج جائیںگی۔ہماری غیر ممالک میں حصول تعلیم کی پوشیدہ خواہش کا کیسا استحصال ہو سکتا ہے، اس کے بارے میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مگر کل لوگ لکھیں گے۔زراعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مطلب ہندوستان کی زراعت پر زندگی بسر کرنے والے، کھیتی کی پیداوار کا کاروبار کرنے والے اپنی روزی روٹی کھو بیٹھیں گے۔ جب سنگا پور کا معاشی نظام ڈگمگایا تھا تب ہندوستان کی کھیتی نے ہی ملک کو بچایا تھا، اس بار بھی دنیا میں آئے مالی بحران، جس کا سبب امریکہ تھا، سے ہندوستان کو ہندوستان کی زراعت نے ہی بچایا۔ اب اس زراعت پر غیر ملکی کمپنیوں کی نظر ہے۔
ہندوستان کے میڈیا نے اوبامہ کی آمد کے ڈھول پیٹے ہیں۔آج بھی پیٹ رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ امریکہ کو کتنا فائدہ ہوا اور ہندوستان کو کتنا۔ ہندوستان کو ایک فائدہ ضرور ہوا کہ براک اوبامہ نے کہا کہ ہندوستان عالمی طاقت بن چکا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نے بھی اوبامہ سے برابری پر بات کی۔ ملک میں پیغام گیا کہ حکومت مضبوط ہے لیکن ہندوستان کے وزیر اعظم کو ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے۔ ہم امریکہ کی اندھی تقلید نہیں کر سکتے۔ ہمارے یہاں سو کروڑ لوگ ہیں، جن میں سے 80کروڑ لوگ ترقی کے فائدہ سے کوسوں دور ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم انہیں ہی فائدہ پہنچاتے رہیں جو وسائل پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ 2006میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق ملک کے غریبوں اور مسلمانوں کا ہے۔ وزیر اعظم اپنا وہ مشہور بیان بھول گئے ہیں جس نے ہندوستان میں نئی امید پیدا کی تھی۔ ملک کے 250اضلاع میں لوگوں نے ہتھیار اٹھانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے اوبامہ کے استقبال کے شور میں بھولنا نہیں چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *