نرسری میں ایک سیٹ کیلئے20بچے دعویدار

Share Article
file-photo
آج کل بچوں کو تعلیم دلانے کیلئے والدین کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے ،بچوں کو اچھے اسکول میں داخل کرانا تو بے حد مشکل ہوگیا ہے خاص طور پر میٹرو سیٹیز میں والدین اپنے بچے کو اچھے اسکولوں میں داخلہ کرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔دراصل دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں میں نرسری کے ایڈمیشن کے عمل کا پہلا مرحلہ پیر کو پورا ہوگیا ہے۔ بہت سے اسکولوں سے دیرشام تک آئے ڈیٹا کے مطابق ایک سیٹ پر 20بچوں کی دعویداری بتائی جا رہی ہے۔آپ کو بتادیں کے پہلی فہرست 4فروری کو آئے گی۔والدین کے سامنے اب اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھانا ایک چیلنج کی طرح ہوگیا ہے۔اور اس چیلنج کے لئے ان لوگوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
سمیت سنگھ کا کہنا ہے کہ میری کوشش ہے کہ میرے بچے کا ایڈمیشن کسی اچھے اسکول میں ہوجائے،تاکہ وہ وہاں 12ویں کلاس تک تعلیم حاصل کرسکے۔سمیت سنگھ کی طرح باقی والدین کی بھی یہی خواہش ہے کے ان کے بچے کا ایڈمیشن اچھے اسکول میں ہو جائے۔
اسی طرح اپراجیتا کا کہنا ہے کہ سارے گارجین کا ماننا ہے کہ اسکول سے انکا اسٹیٹس طے ہوگا ۔وہ رشتے داروں سے لیکر شوشل میڈیا تک بچے کے اسکول کا نام بتاکر واہ وائی بٹورینگے ۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مشہور اسکولوں میں اتنی زیادہ تعداد میں ایڈمیشن لینے کے لئے فارم بھرے جاتے ہیں ۔جن اسکولوں کا نام بہت بڑی برانڈ نہیں بن پاتا ہے وہاں ایڈمیشن کے لئے کم عرضیاں آتی ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ اسکولوں میں تو سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں۔
قابل ذکرہے کہ دہلی کے ایک اسکول نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اسکول میں ایک سیٹ کے لئے 87بچوں سے زیادہ دعویدار ہیں۔اسکول کے اس ڈیٹا کے مطابق نرسری میں 57سیٹیں ہیں اور ان کے لئے 5ہزار لوگوں نے ایڈمیشن فارم بھرا ہے۔
ایلکان انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل اشوک پانڈے نے بتایا کے والدین کو اپنے بچوں کے ایڈمیشن کے لئے زیادہ جذباتی نہیں ہونا چاہئے ۔ہر بچے کا اپنا مستقبل ہے وہ اپنے ٹیلینٹ کے مطابق زندگی کا مقصد حاصل کرلیگا ،ابھی جہاں بھی ایڈمیشن مل جائے وہاں اپنے بچے کو داخل کرادیں۔ماونٹ آبو اسکول کے پرنسپل جیوتی اروڑا نے بتایا کہ تعلیم کا مقصد بچوں کو سمجھدار اور بااخلاق شخص بنانا ہوتا ہے۔بچوں کی دماغی ترقی و ذہن سازی میں اسکول کے ساتھ ساتھ ماں باپ کا بھی اہم رول ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کی آپ اسکول کا انتخاب کرنے میں دکھاوے پر نہ جاکر بہتر کاانتخاب کریں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *