عریانیت اور جہیز

Share Article

منظر عباسی 
جو عریانیت مغربی کلچر سے شروع ہوئی ہے اس کا سایہ اسلامی معاشرے پر بھی پڑنے لگا ہے۔ پوری دنیا اس مغربی کلچر کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ عمل کا معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ عریانیت اپنے دامن کو پھیلائے جارہی ہے۔ جسم پر کپڑے کم ہوتے جارہے ہیں۔ شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے ۔ اسلام میں جسموں کو پردے میں رکھنے کا حکم ہے۔ نا محرموں کی نظر نہ پڑے نقاب اور چادر سے پورے جسم کو ڈھکا جائے ۔ہم کہاں تک رسول اکرمؐ کی پیروی کر رہے ہیں اس کا اندازہ لگائیں۔ اسلام مذہب میں جہیز لینا سخت منع ہے۔ اسی لئے تو پیغمبر اسلام نے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اپنی دختر حضرت فاطمہ کو جوجہیز دیا ہے وہ آج تک تاریخ کے اوراق پر سنہرے حرفوں سے تحریر ہے۔، جو آج بھی مسلم معاشرے کے لئے عبرت کا پیغام دے رہی ہے کہ اے اسلام کے ماننے والو! جہیز فاطمی سے سبق حاصل کرو۔ یہ تمہارے لئے نصیحت ہے۔پیغمبر اسلام کی زوجہ حضرت فاطمہ خدیجۃ الکبریٰ دولت لے کر رسول اکرمؐ کے گھر آئی تھیں۔ وہ جہیز نہیں تھا۔ وہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے کاروبار کی آمدنی تھی۔ حضرت علی نے اپنی بیٹی جناب زینب کی شادی جناب عبداللہ سے کی ہے لیکن تاریخ میں کہیں جہیز کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اپنے دونوں صاحبزادے حضرت امام حسن اور امام حسین ؑ کی شادی کی ہے لیکن جہیز نہیں لیا ہے۔ جناب زہر بانو ایران کے بادشاہ کی بیٹی تھیں اور دوسری زوجہ ام رباب، یہ بھی بہت امیر ترین تھیں۔ اپنی خواہش سے جو ہوا وہ لے کر آئیں۔ جہیز کے نام پر کچھ نہیںمانگا گیا۔ خلفائے راشدین نے بھی جہیزلینے کے لئے منع کیا ہے۔ ہر طرف سے آواز اٹھ رہی ہیںکہ جہیز ہمیں تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔
آپ غور کریں سوچیں اس گرانی کے دور میں زندگی گزارنا مشکل ہے۔ انسان کس طرح زندگی بسر کر رہا ہے۔ شادی کے تمام انتظامات میں کافی خرچ ہے۔ پھر فرمائشی جہیز کہاں سے دیا جاسکے گا۔ غریبی کی وجہ سے جہیز کی فرمائش سے لڑکیوں کی شادی نہیں ہو پاتی ہے۔ کتنے پھول مرجھا گئے۔ کتنے والدین نے جان گنوا دی۔ اگر لڑکی جہیز لے کر نہیں جاتی ہے تو سسرال والے طعنہ مارتے ہیں۔ زندگی بھر جہیز کے لئے اسے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ کہیں انہیں جہیز کی خاطر آگ کے سپر کر دیا جاتا ہے۔ اسلام میں انسانیت پر بہت روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسلام میں انسانیت ہی سب کچھ ہے۔ لیکن آج مسلم معاشرے سے انسانیت کھو تی جارہی ہے۔جہیز کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔پورا معاشرہ تباہی کے دہانے پر جا رہا ہے۔ جس کے پاس بہت بڑی رقم ہے وہ جہیز دے کر اپنی بیٹی کی شادی کر دیتا ہے اور جو غریب ہیں وہ کہاں سے دولت لائیں گے۔ ان کی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔ کیا وہ کنواری رہ جائیں گی۔ ضرورت ہے کہ ہر کوئی جہیز سے پرہیز کرے اور جہیز لینے اور دینے دونوں پر روک لگائے تاکہ ہمارا معاشرہ تباہی سے بچ جائے اور ہم سے دنیا عبرت حاصل کرے اور سب لوگ خوشی سے زندگی بسر کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *