نیوکلیائی سلامتی چوٹی کانفرنس۔2012: راہ آسان نہیں

راجیو کمار

جنوبی کوریا کوریا کی راجدھانی سیول میں ایٹمی سلامتی سے متعلق چوٹی کانفرنس  کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں 53ممالک کے نمائندوں نے حصہ لیا، جو جوہری توانائی کے پر امن استعمال ، جوہری ہتھیاروںکے عدم پھیلاؤ اور اسکے ذخیرے میں کمی کے  امکانات کے اقدام پر غور کرتے نظر آئے۔تمام ممالک کے نمائندوں نے اس  بات پر زور دیا کہ کسی بھی حالت میں ایٹمی ہتھیاروںکی تکنیک دہشت گردوں کے پا س نہیں پہنچنی چاہئے۔اگر ایٹمیہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ، تو پھر دنیا کو تباہ ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جن ممالک کے پاس ایٹم بم کی تکنیک ہے وہ اس بات کادھیان رکھیں کہ اس کے پھیلاو ٔکو روکا جا سکے۔اس کانفرنس میں کہا گیا کہ جوہر ی بم کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لئے سخت قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ یہ صر ف کسی خاص ملک کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے اجتماعی طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔ انتہاپسندوں تک ایٹمیہتھیا ر کی پہنچ روکنے کے علاوہ میٹنگ میں اس بات کو بھی اہمیت دی گئی کہ موجودہ دور میں مختلف ملکوں کے پا س جو جوہری ہتھیارہیں، انکی تعداد میں کمی کی جائے۔امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا کہ امریکہ کے پاس ضرورت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اگر اس میں کمی کر دی جائے تو بھی وہ اپنی اور اپنے اتحادی ملکوں کی حفاظت کرسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے ایٹمیہتھیاروں کے ذخیرے کو کم کرے گا۔ اگر امریکہ اپنے ایٹمیہتھیار وں میں کمی کرتا ہے تو دوسرے ملکوںکو  بھی اس سے حوصلہ ملے گا۔ اس سے جوہری ہتھیاروں کے لئے جس طرح کی دوڑ لگیہے اس میں کمی آئے گی۔دوسرے سربراہان مملکت نے بھی جوہری سلامتی سے متعلق خطرے کو دنیاکے لئے ایک بڑا خطرہ مانا ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔امریکہ اور روس دونوں نے شمالی کوریاسے کہا کہ اسے بیلسٹک میزایلوں کے تجربے کو روک دینا چاہئے۔روسی صدر دیمیتری مدویدیف سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ اگرشمالی کوریا اپنے قدم نہیں روکتاہے تویہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اس فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی جس کے تحت اس طرح کی میزایلیوںکے تجربے پر پابندی لگائی گئی ہے۔سلامتی کونسل کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے شمالی کوریا پر اور بھی سخت پابندیا ں لگائی جاسکتی ہیں۔جنوبی کوریا نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگراموں کو نہیں روکتا ہے یا لمبی دوری کی میزایلوں کے تجربے کو جاری رکھتاہے تو انسانیت کی بنیادپر دی جانے والی کھانے کی اشیاء پر بھی  پابندی عاید کی جانی چاہئے۔
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہندوستانی ایٹمی پروگراموںکے مقاصد کو دنیا کے سامنے رکھا۔ انھوں نے جوہری توانائی کے پر امن استعمال پرزور دیا ۔ اس میٹنگ میں منموہن سنگھ نے کہا کہ ایٹمی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے سب سے اچھا طریقہ تویہی ہے کہ دنیا کو ایٹمی اسلحہ سے پاک کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پہلے ہی نیوکلیئر سپلائرگروپ  (این ایس جی) اور میزائل ٹکنالوجی کنٹرول نظام(ایم ٹی سی آر) کے احکام پر عمل کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کبھی بھی حساس نوعیت کی تکنیک کے پھیلاو ٔکا ذریعہ نہیں بنا ہے اور ہم اعلٰی بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی  برآمدات  کے کنٹرول کے نظام کو اور مضبوط کرنے کے لئے  پر عزم ہیں۔ منموہن سنگھ نے ہندوستان کو نیوکلیائی کلب کا ممبر بنائے جا نے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کو این ایس جی، ایم ٹی آر ، واسنار ارجمنٹ اور آسٹریلیائی گروپ کا ممبر بنایا جائے، تاکہ ہندوستانی جوہری پروگراموں میں اعلٰی بین الاقوامی معیار کو یقینی بنایا جا سکے اور ہندوستان کی نیوکلیائی کنٹرول سسٹم کو مضبوط کرنے میں مدد ملے۔ہندوستان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ایٹمی سلامتی خزانہ میں 2012-13کے لئے 10لاکھ ڈالر کے تعاون کا اعلان کیا ہے۔
ایٹمی سلامتی چوٹی کانفرنس میں کئی عہد لئے گئے ہیں، لیکن عہد کرنااور اس پر عمل کرنا دونوں الگ بات ہے۔ اس سے پہلے 2010میں کانفرنس ہوئی تھی۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ تھوڑی کامیابی ملی ہے اور کچھ ممالک نے معیارات کی تعمیل بھی کی ہے۔ لیکن اسے حقیقی طور پر کامیاب نہیں کہا جا سکتا ہے۔ شمالی کوریا نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ایران اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستان کو ایٹمی کلب میں شامل نہیں کیا جا رہاہے، جبکہ ہندوستان ایٹمی سلامتی کے تمام معیارات کی تعمیل کر رہا ہے۔ توانائی جدید وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ روایتی توانائی کے ذرائع کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ اگر توانائی کے روایتی وسائل کا مسلسل غلط استعمال کیا گیا تو آئندہ چالیس پچاس سالوں میں اس کے ذخیرے ختم ہو جانے کی امید ہے۔ اس کی وجہ سے ایٹمی توانائی کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کو ایٹمی توانائی کے شعبہ میں آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔ حالانکہ اس پر نگرانی رکھنی چاہئے۔ فوکو شیما واقعہ کے بعد ایٹمی سلامتی پر توجہ دینا مزید ضروری ہو گیا ہے۔ ایسے میں ترقی پذیر ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایٹمی پروگراموں پر نگرانی رکھیں اور ان ممالک کو بہتر تکنیک مہیا کرائیں، جہاں ایٹمی پروگرام چل رہا ہے۔ ایٹم بم کے معاملہ پر بھی دوہرا رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ جب تک کچھ ممالک کے پاس ایٹم بم رہے گا، تب تک اس کے پڑوسی ممالک اپنی سلامتی کے لئے ایٹم بم کی تکنیک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہی رہیں گے۔امریکہ کے پاس جب یہ تکنیک آئی تو اس وقت سوویت یونین اس کے لئے کوشش کرنے لگی اور کامیاب بھی ہوئی۔ ہندوستان نے جب ایٹم بم کا تجربہ کیا تو اس کے کچھ دنوں کے اندر ہی پاکستان نے ایٹمی تجربہ کیا۔ 1962کی ہندوستان اور چین کی جنگ کے بارے میں آج بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ہندوستان کے پاس اس وقت ایٹم بم ہوتا تو ممکن ہے کہ چین کی ہندوستا ن پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اسی طرح ایران کے تین پڑوسیوں ہندوستان، چین اور پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے۔ غیر اعلامیہ طور پر اسرائیل کے پاس بھی ایٹم بم ہے۔ ایسے میں ایران ایٹم بم  بنانے کی کوشش کیوں نہ کرے۔ ایسی ہی صورتحال شمالی کوریا کی بھی ہے۔اگر ایٹمی خطرے سے دنیا کو محفوظ رکھنا ہے تو پھر دنیا کو ایٹم بم سے دور رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے اس کانفرنس میںلئے گئے عہدوں کی تکمیل کے سامنے کئی چیلنج ہیں، جن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک اور عہد لینا ہوگا۔ یہ عہد ہوگا انسانی مفادکو قومی مفاد پر ترجیح دینے کا۔ جب تک قومی مفاد کو انسانی مفاد سے بالاتر رکھا جائے گا، تب تک نہ تو ماحولیاتی مسائل کا حل ہوگا اور نہ ہی ایٹمی سلامتی کو یقینی کیا جا سکے گا۔g

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *