اب فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
اب فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہے۔ 60سال بعد الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ بغیر کسی ثبوت اور تصدیق کے کورٹ نے کہہ دیا کہ رام کی پیدائش وہیں ہوئی ہے، جہاں بیس سال قبل بابری مسجد کے گنبد تھے۔یہ عقیدہ ہے اور اسے عدالت نے تصدیق اور ثبوت کی شکل میں مانا ہے۔اگر جائے پیدائش کورٹ مانتا ہے تو کہیں ان کا محل ہوگا کہیں راجا دشرتھ کا دربار ہوگا، کہیں تین مہارانیوں کی رہائش رہی ہوگی۔کوئی اسے کترک کہے گا مگر عدالت اگر ایسی ہی بنیاد پر فیصلہ دے دے تو کیا کہیں گے؟ اسلئے امید کرنی چاہئے کہ سپریم کورٹ بتائے کہ حقیقت کیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ایسا سمجھداری بھرا فیصلہ ہے جس نے تمام فریقوں کو نہ تو پوری طرح مطمئن کیا اور نہ ہی غیر مطمئن۔اس نے سبھی کو کچھ نہ کچھ دیا اور اشارہ دیا کہ ہندوستان میں سیکڑوں سالوں سے ہندو اور مسلمان ساتھ رہتے آئے ہیں اور رہتے رہیں گے۔جتنا عالیشان مندر بنے گا اتنی ہی عالیشان مسجد بنے گی، دونوں کی دیواریں پاس پاس ہوں گی۔ ویسے ہی جیسے اجودھیا میں ہندو، مسلم ساتھ ساتھ پیار محبت سے رہتے آئے ہیں۔
سپریم کورٹ کو ایک فیصلہ اور کرنا ہوگا ۔ الہ آباد کے اس فیصلہ کو اس غیر معمولی اور نظیر سے الگ رکھنے کا حکم دینا ہوگا ورنہ ہندوستان میں ایک ہزار کے آس پاس ایسے مقامات ہیں جہاں مقدمے شروع ہو جائیں گے اور الہ آباد ہائی کورٹ کو اس فیصلہ کو نظیر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ شرپسند عناصر کی ہمارے یہاںکوئی کمی نہیں ہے۔تاریخ کا ایک ایسا حادثہ آپ کو بتاتے ہیں جسے آپ کے لئے جاننا بے حد ضروری ہے۔آج سے بیس سال قبل رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا، بشرطیکہ چندر شیکھر جی ایک ماہ تک اور وزارت عظمی کے عہدے پر بر قرار رہ جاتے۔چندر شیکھر جی نے وشو ہندو پریشد اور بابری ایکشن کمیٹی سے کئی بار بات کی۔ وشو ہندو پریشد کی راج ماتا کے گھر میٹنگ ہو رہی تھی۔چندر شیکھر کہیںچلے گئے۔ ان کے جانے کو ان کی کمزوری سمجھا گیا اور کچھ ممبران نے تیز اور اونچی آواز میں کہا کہ وہ بابری مسجد کو گرا دیں گے۔ چندر شیکھر جی نے تمام باتیں سنیں اور ان سے کہا کہ آپ ہندوستان کے وزیر اعظم سے بات کر رہے ہیں۔ اگر ایک بھی آدمی مسجد کی جانب بڑھا تو میں فوج کو حکم دوں گا کہ وہ گولی چلا دیں۔چندر شیکھر جی نے اتنی سخت زبان میں کہا کہ تمام ممبران تذبذب میں پڑ گئے کہ یہ شخص تو بند کمرے میں بات کر رہا ہے، یہ کوری دھمکی نہیں ہو سکتی۔سبھی کے لہجہ بدل گئے اور سب نے کہا کہ وہ پر امن طریقہ سے راستہ نکالنے کے لئے تیار ہیں۔
دوسری جانب انھوں نے ایکشن کمیٹی سے کہا کہ ان کے لئے مشکل ہوگا اگر ملک میں فساد ہو جاتے ہیں کیونکہ وشو ہندو پریشد کچھ کرنے کے لئے آمادہ معلوم ہوتی ہے۔ ان کے پاس نہ اتنی پولس ہے اور نہ ہی فوج، جو بڑے پیمانہ پر ہونے والے فسادات کو قابو میں کر سکے۔ ایکشن کمیٹی نے بھی انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔چندر شیکھر جی نے بھیرو سنگھ شیخاوت اور شرد پوار کو بات چیت کی ذمہ داری سونپی۔دہلی کے جودھپور ہائوس میں باتوں کا سلسلہ چلا،ماحول خوشگوار تھا، چندر شیکھر جی کے پاس اتفاق رائے حل کا مسودہ گیا۔ ساری زمین مندر کو دینا طے ہوا اور ایک قانون طے ہوا کہ ملک میں جو بھی مندر، مسجد، گرودوارہ اور گرجا گھر جس حالت میں ہیں، اسی میں رہیں گے۔ اس کا اعلان چندر شیکھر جی کرنے والے تھے۔ اب یہ شرد پوار جی بتا سکتے ہیں کہ کیا ہوا کہ اعلان نہیں ہوا اور چندر شیکھر جی کی حکومت پانچ دنوں بعد گر گئی۔
آج ہم پھر ایسے ہی موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ کو فوراً ایسا قانون پاس کرنا چاہئے کہ 1947میں جو مندر تھا ، جو مسجد تھی ، جو گرجا گھر یا گرودوارہ تھا، یعنی جو مذہبی عمارت جیسی تھی ویسی ہی رہے گی۔ یہی سمجھوتہ آج بھی بنیاد بن سکتا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت کو، سماجی تنظیموںکو اور دانشوروں کو اس کی پہل کرنی چاہئے اور پارلیمنٹ کو قانون بنانا چاہئے۔ ہمارے پاس مندر، مسجد جیسے سوالوں سے بڑے سوال ہیں، بیکاری، فاقہ کشی، مہنگائی، بیماری، ناخواندگی ، ترقی اور بدعنوانیوں سے جڑے سوال کھڑے ہیں اور ہم ان سے نہیں لڑ پا رہے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں پہل نہیں کرتیں تو کیو ںسماجی تنظیمیں پیچھے ہیں، انہیں آگے آنا چاہئے۔ویسے یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سو کروڑ سے زیادہ کی آبادی والے ملک میں ایک بھی آدمی ایسا نہیں ہے، جو ملک کو سامنے رکھ کر کوئی نئی پہل کر سکے یا جس کے پاس جا کر نئی پہل کرنے کی بات کی جا سکے۔ لوگ بھی ہیں، تنظیمیں بھی ہیں، لیکن اپنے چھوٹے مفادات سے گھرے ہیں۔
اگر پارلیمنٹ اپنی تنگ نظری اور بزدلی کی وجہ سے ایسا قانون بنانے میں تاخیر کرے یا ٹالے تو سپریم کورٹ یہ کام کرسکتا ہے۔ قانون سپریم کورٹ نہیں بنا سکتا، مگر ایسا فیصلہ دے سکتا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ انتہائی خاص فیصلہ ہے اور 15اگست 1947کے دن ملک میں مذہبی مقامات کی جو حالت تھی وہ اب بھی ویسی ہی رہے گی۔
ضروری اس لئے ہے ، کیونکہ ملک کے امن وامان میں خلل ڈالنے میں دلچسپی رکھنے والی دیسی اور غیر ملکی طاقتیں چاہیں گی کہ ہندوستان میں جھگڑے ہوتے رہیں اور لوگ تقسیم ہوتے رہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کا سہارا لے کر آستھا کے نام پر مسلمان ہوں یا ہندو، جن کا وہ حصہ جو ملک کے امن میں بھروسہ نہیں رکھتا، اس کا فائدہ نہ اٹھا پائیں۔ اس کے لئے پہلے پارلیمنٹ کو اور اگر پارلیمنٹ ناکام ہو جائے تو سپریم کورٹ کے اوپر ذمہ داری آ جاتی ہے ۔ جمہوریت کے یہ دونوں اہم ستون ہیں۔دیکھتے ہیں، کون کتنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *