بابری مسجد پر اب کوئی بھی مصالحت کھلی سودے بازی ہوگی: شاہی امام

Share Article

بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ سپریم کورٹ میں آج آخری سماعت تھی،تمام فریقوں نے اپنے دلائل پیش کئے اور مباحث مکمل ہو چکے ہیں ، اسی درمیان تمام فریقوں کی جانب سے مصالحت کی خبروں سے ہر فرد حیران ہے ۔اس سلسلے میں شاہی امام سید احمد بخاری نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔انہوںنے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بابری مسجد معاملے میں اب کسی بھی طرح کی مصالحت کی کوشش کو سودے بازی قرار دیا ہے۔

شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے بابری مسجد کے تعلق سے غیرمتوقع صورت حال کی تبدیلی پراپنا ایک بیان جاری کرکے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہاہے کہ ایسا اچانک کیاہواکہ بابری مسجد کے حوالے سے300 سوسال سے زائد پرانے موقف سے انحراف کرناپڑا۔انحراف ہی نہیں بلکہ دستبرداری کیلئے حلف نامے تک بات پہنچ گئی ۔مقدمے کی کارروائی اب جب کہ اپنے منطقی انجام سے قریب ترہوچکی تھی اور آج فریقین کی جانب سے دلائل پر بحث مکمل بھی ہونے جارہی تھی حتی کہ چیف جسٹس آف انڈیا کی جانب سے ایساسننے میں بھی آیاہے کہ انہیں فیصلہ تحریرکرنے کیلئے تقریباً ایک ماہ کی مدت درکار ہے، اتنی واضح صورت حال کی موجودگی میں جس میں پوری ملت اور اسکے عمائدین کی عدالت کے فیصلے کے حوالے سے غیر مشروط آمادگی کا اظہار بھی شامل ہے، اچانک یہ دستبرداری مصالحت پسندی کے زمرے میں نہ آکر کھلی سودے بازی قراردی جائے گی ۔انہوںنے کہا کہ دین حق اسلام کو اللہ کے رسول ﷺاپنے وصال سے قبل اس آیت کے تحت مکمل کرگئے جس میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ’’ آج میں نے تم پر اپنا انعام مکمل کیا اور اسلام کو تمہارے لئے پسندکیا‘‘۔اگربابری مسجد سے دستبرداری کایہ فیصلہ قرآن وحدیث ،فقہ اسلامی اور اجماع ملت کے پس منظر میں لیاگیاہے تو آج اچانک یہ ایک ــ ’’حقیقت‘‘ بنکرکیوں ابھراہے؟ اس حقیقت یا مصلحت کو یہاں تک آنے میں اتنی مدت کیوں لگی ؟

شاہی امام نے استفہامیہ لہجے میں کہا ہے کہ اسلام تو 1400 سوسال سے ایک ہی ہے اورتاقیامت ایک ہی رہے گاتوپھراس پیش بندی میں23 سال کا عرصہ کیوں لگا؟ہزاروں معصوم جانوں کو لقمہ ٔ اجل کیوں بنایاگیا؟ لاکھوں خاندانوں کی اقتصادیات اور عزت نفس کو نیلام کیوں ہونے دیاگیا؟ فرقہ پرستی کو بے لگام ہونے کیلئے غذاء وزمین کیوں فراہم کی گئی؟ ہندو اور مسلمان ان دو بھائیوںکے بیچ میں نفرت کی دیوار کو اتنا اونچا کیوں ہونے دیاگیا؟ فسادات کا لامتناہی سلسلہ ، تشدد،فرقہ پرستی کو کھلی چھوٹ، معصوموںکی آبروریزی ، ملک میں ہیجانی کیفیات اورشکوک وشبہات کا ماحول کیوں بننے دیاگیا؟

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مہذب معاشرہ مسلمانان ہند اوران سب سے بڑھ کروہ ہزاروں خاندان جنہوںنے بابری مسجد کی شہادت کے بعدسے اب تک اپنے والدین ، اپنے بھائی بہن کھوئے وہ اس سودے بازی کوکس طرح قبول کریںگے اوریقیناوہ اس کے کرنے والوں کو کبھی معاف نہ کرسکیں گے عدل اسلامی میں بھی اس کو خلاف شرع اورفتنے سے معمورقرار دیاجائے گا۔انہوں نے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک جامع مسجد دہلی کاتعلق ہے ہم اپنے سابقہ موقف پر قائم ہیں لیکن اب کیوںکہ عدالتی فیصلہ بھی اس سودے بازی کے پس منظر میں ہوگا۔لہذا ہمیں بھی اپنے موقف پر پوری امت کی طرح نظر ثانی کرناہوگی۔ہم خداکے سامنے اس کے گھر کی سودے بازی کے مجرم ہوکر کسی قیمت پرجانا گوارہ نہیں کریںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *