اب کسی کا بھی ڈیپ فیک پورن بنانا کافی آسان ہو جائے گا: ایکسپرٹ کا انتباہ

Share Article

انٹرنیٹ پر تمام سیلیبرٹیز کا ڈیپ فیک پورن موجود ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عام آدمی بھی اس کو لیکرسیف نہیں ہے۔ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ ہم لوگ ایسی حالت میں پہنچ گئے ہیں جب کبھی بھی کسی کا فیک پورن ویڈیو بن سکتا ہے۔ ویڈیو ویریفکیشن کمپنی کے سی ای او سمیر علی بھائی نے ڈیلی اسٹرا کو بتایا کہ اس کی وجہ سے اب کسی کا بھی ڈیپ فیک پورن بنانا کافی آسان ہو جائے گا۔ ساتھ ہی اس کی وجہ سے ریوینج پورن کے واقعات کافی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اتنا ہی آسان ہوگا جتنا کہ انسٹاگرام پر فلٹر لگانا۔ خواتین کو اس سے کافی خطرہ ہو سکتا ہے۔ کسی کے فیک پورن فوٹو بناکر اسے بدنام کرنا اس ٹیکنالوجی کی مدد سے آسان ہوگا جس کے نتیجے برے ہوسکتے ہیں۔ علی بھائی نے کہا ‘اس ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو ایک ہتھیار بنا دیتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ خطرہ دو سطح پر ہے۔ سب سے پہلے تو رشتے ٹوٹیں گے اور دوسری سطح پر لوگوں کو بلیک میل کیا جاسکتا ہے۔

علی بھائی نے کہا کہ اگر ویریفائی کرنے اور فیک پورن ویڈیو سےجڑے حل مہیا نہیں ہوئے تو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کسی کا کسی پر بھی بھروسہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا”۔ بتا دیں کہ ہالی ووڈ اداکارائیں اسکار لیٹ جانسن سمیت کئی سیلیبس کے ڈیپ فیک پورن ویڈیوز پہلے ہی انٹرنیٹ پر سامنے آچکے ہیں۔ کئی ڈیپ فیک ویڈیو ایسے بھی ہیں جو پورن نہیں ہیں لیکن ان میں ڈونالڈ ٹرمپ، براک اوبامہ اور مارک زکربرگ جیسے چہرے ایسی باتیں بولتے نظر آرہے ہیں جو انہوں نے کبھی کہی ہی نہیں۔

ڈیپ فیک ڈاؤن لوڈیبل ایپس ہوتے ہیں جو آرٹیفیشیل اور مشین لرننگ کی مدد سے آسانی سے پورن ویڈیوز میں چہرے بدل سکتے ہیں۔ اس کیلئے یوزر کو پہلے ایسا پورن ویڈیو ٹریک کرنا ہوتا ہے جس میں نظر آرہا چہرہ اداکارہ یا ٹارگیٹ سے ملتا جلتا ہو۔

اس کے بعد ٹارگیٹ کی ڈھیروں تصویروں کو فیڈ کردیا جاتا ہے اور مشین لرننگ الگورتھم چہرے کو فریم بائی فریم ویڈیو میں سیٹ کردیتا ہے۔ اس طرح اصلی سا دکھنے والا فیک پورن ویڈیو بن جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *