ا ب بدعنوانیوں سے لڑنے کا وقت آ گیا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ابھی کچھ ماہ قبل تک کہا جاتا تھا کہ بدعنوانی ہماری زندگی کا ایک حصہ بن گئی ہے اور اب اس پر بات کرنا بیکار ہے۔ باتیں تو یہاں تک شروع ہو گئی تھیں کہ کالی کمائی پر تھوڑا زیادہ ٹیکس لگا دو ، تاکہ لوگ اسے ڈکلیئر کر کے اپنے بینک میں رکھ سکیں، اس سے پیسہ غیر ملکی بینکوں میں تو نہیں جائے گا،لیکن ذخیرہ اندوزی کسی بھی چیز کی ہو بری ہی ہوتی ہے، یہی کہاوت ہمارے سماج میں عام ہے۔
بدعنوانی کا ذخیرہ ہو گیا، حکومت چلانے کے لئے ملک کو لوٹنے کی چھوٹ دینے والا وزیر اعظم کا دفتر اپنے دل سے تو یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ دیا ندھی مارن نے وزیر مواصلات رہتے ہوئے وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھا کہ قیمتیں طے کرنے میں کوئی دخل اندازی نہ کرے اور نہ گروپ آف منسٹرس بنے۔ وزیراعظم نے اسے مان لیا۔ جب اے راجہ نے لوٹ اور من مانی شروع کی، تب وزیر اعظم نے اس وقت کے ٹرائی کے چیئر مین نرپیندر مشر کو بلایا اور بات کی۔ نرپیندر مشر نے اپنی واضح رائے دی۔ اس کے بعد نرپیندر مشر نے وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھ کر تمام باتیں اختیاری کر دیں۔
اس کے بعد بھی وزیر اعظم خاموش رہے۔ سبرامنیم سوامی نے وزیر اعظم کو خط لکھا، جس کا جواب وزیر اعظم نے پندرہ ماہ تک نہیں دیا۔ سوامی اور وزیر اعظم دونوں نہ صرف ماہر معاشیات ہیں، بلکہ 23سال پرانے دوست بھی ہیں۔ سوامی خود سابق وزیر اور سابق ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر  جب ممبران پارلیمنٹ کے خطوط کا ہی وقت پر جواب نہیں دیتا تو سابق ممبران پارلیمنٹ تو ان کے لئے کیڑے مکوڑے ہیں۔
اے راجہ کی بدعنوانی، جس کے سبب حکومت کو دو لاکھ کروڑ کے آس پاس کا نقصان ہوا، یوں ہی نہیں ہوا۔ اس کے عوض میں اگر دو فیصد بھی کسی کے پاس  گئے ہوں تو رقم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ خدشہ اس بات کا ہے کہ کرونا ندھی اب اے راجہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے، کیونکہ انہیں بھی اے راجہ نے صحیح رقم کا اندازہ نہیں دیا تھا۔ یہ رقم حوالہ کے ذریعہ باہر گئی اور اب ماریشس کے راستہ واپس ہندوستان آئی ہے۔ اگر کسی کمپنی کے ایک شیئر کی قیمت ڈیڑھ سو کروڑ رکھی جائے اور اسے کوئی خرید لے تو اس کا مطلب ہے کہ پیسہ سفید ہو کر واپس آ رہا ہے۔
اے راجہ کا استعفیٰ ہوا۔ استعفیٰ اس لئے نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ نہیں چل رہا تھا، بلکہ اس لئے ہوا، کیونکہ گزشتہ پندرہ نومبر کو اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہونی تھی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کو محسوس ہوا کہ کہیں وزیر اعظم پر کورٹ نے تنقید کر دی تو کیا ہوگا؟ ان کا خدشہ صحیح تھا۔ کورٹ نے تنقید بھی کی اور پہلی بار وزیر اعظم کو حلف نامہ دینے کے لئے کہا۔ پہلی بار عدالت کو لگا کہ وزیر اعظم کا دفتر بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔ حلف نامہ تبھی لیا جاتا ہے، جب یہ یقینی کرنا ہو کہ بیان بدلا نہیں جائے گا۔ سونیا گاندھی اور ان کے صلاح کاروں کو لگا کہ اب کسی مضبوط آدمی کو جواب میں اتارنا چاہئے۔ کپل سبل کو وزیر مواصلات کا ایڈشنل چارج دینا دس جن پتھ کی رائے پر ہوا ہے۔ دس جن پتھ کو لگا کہ سبرا منیم سوامی کو ہیرو نہیں بننے دینا ہے اور کپل سبل نے اس کی کوشش بھی شروع کر دی ہے۔
دماغ میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اے راجہ اکیلے اتنا بڑا کام کر سکتے تھے؟ جواب نہیں، جب تک اس میں کسی آئی اے ایس افسر کا ہاتھ نہ رہا ہو۔ کون ہے وہ آئی اے ایس افسر، جو وزارت مواصلات کے فیصلوں پر عمل درآمد کر سکتا ہے اور جس کے دستخط کے بغیر فائل پر لکھا کچھ بھی جائے، مگر وہ فیصلہ نہیں بن پاتا۔ فیصلہ وزیر کا دستخط نہیں، آئی اے ایس افسر کا دستخط ہوتاہے۔ اس افسر کو کون تلاش کرے اور اس کی شناخت کون کرے؟ صرف اور صرف سپریم کورٹ یہ کر سکتا ہے، کیونکہ آج تک کسی بھی کیس میں کوئی آئی اے ایس افسر پھنسا ہی نہیں ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بدعنوانی کے اوپر ملک کے لوگ ایک بار پھر سوچیں۔ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا،گھوٹالہ کرنے میں کوئی پیچھے نہیں ہے۔ دولت مشترکہ گھوٹالہ کی جانچ نہیں ہو پائے گی، کیونکہ اس میں ملک کا ایک بڑا کنبہ پھنسا ہے۔ مواصلاتی گھوٹالہ کو بھی دب جانا چاہئے، کیونکہ اسے دبانے کے لئے ایسے قدم اٹھنے شروع ہو گئے ہیں ،جن سے لگے کہ اب ہم کمپنیوں سے پیسہ وصول کرلیں گے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان تمام کمپنیوں کو، جن کا نہ کوئی تجربہ ہے، نہ کوئی تجربہ کار معاون، ایسے سبھی لوگوں کا پیسہ ضبط کر کے لائسنس رد کر دینا چاہئے۔ ایک بڑی چین ہوگی، جس میں وزیر سے لے کر سکریٹری، وزیر کا اسٹاف اور صنعتی گھرانوں کو ایک ساتھ، ایک برابر مجرم ماننا چاہئے۔
اب تو حد ہو گئی ہے۔ ہندوستان کی فوج بھی بدعنوانی کی مثال بننے جا رہی ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال آدرش سوسائٹی گھوٹالہ ہے، لیکن پنے، ممبئی کے ساتھ لکھنؤ  میں واقع فوج کی سینٹرل کمانڈ کی زمین غبن کی گئی ہے، فروخت کی گئی ہے ۔ سینٹرل کمانڈ کی زمین جہاں جہاں ہے وہاں مالس ہیں، گھر ہیں، دکانیں ہیں۔ اس میں فوج کے ہی لوگ شامل ہیں۔ یہ ہماری شاندار فوج ہے، جو چین کے علاوہ کسی جنگ میں شرمندہ نہیں ہوئی۔ جوانوں نے ہر جنگ میں آگے بڑھ کر جانیں دیں، لیکن جو لوگ سرحد پر نہیں جاتے، فوج کے دوسرے حصہ سنبھالتے ہیں، ان کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے، مگر ایسے لوگوں نے ہندوستانی فوج کو شرمسار کر دیا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہندوستانی فوج کے اوپر پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی بنے اور ایسے لوگوں کی شناخت کرے، جنھوں نے بدعنوانی میں ہاتھ بنٹایا ہے۔
جو چھوٹی بدعنوانی کرتے ہیں، وہ بھی صدمے میں ہیں کہ اتنی بڑی بدعنوانی کرنے والا گروہ بھی بچ سکتا ہے کیا؟ عوام بھی صدمے میں ہے کہ ہندوستان جیسے عظیم ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ سرکاری بدعنوانی کی جب دنیا کی فہرست بنے گی تو ہندوستان اس میں سرفہرست ہوگا۔ سونیا گاندھی وزیرا عظم نہیں بنیں، ملک نے اسے کافی سراہا، مگر اب جو ہو رہا ہے، کیا اس کی ذرا بھی خبر سونیا گاندھی کو نہیں تھی؟ وہ کہتی ہیں کہ ترقی ہوئی، مگراخلاقی اقدار کمزور ہوئی ہیں۔ اگر یہ احساس ہے تو اس کے لئے ملک کے سامنے مثال بھی سپریم کورٹ کو ہی پیش کرنی ہوگی،لیکن آج اس کے لئے کون تیار ہے سونیا جی۔۔۔ملک کے لوگ تیار ہوں، تبھی کچھ ہوگا۔۔۔۔لیکن ملک کے لوگوں کو تیار کرنے والے لوگ بھی تو چاہئیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *